Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ممتاز یار الدولہ وقف مجلس امرا کی کمیٹی برقرار : ہائیکورٹ کی رولنگ

ممتاز یار الدولہ وقف مجلس امرا کی کمیٹی برقرار : ہائیکورٹ کی رولنگ

حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز ) آندھرا پردیش ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ نے ممتازیارالدولہ وقف مجلس امراء سے متعلق ایک رکنی بنچ کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کی زیر صدارت کمیٹی کو برقرار رکھا ہے۔ اس کمیٹی کے سکریٹری نواب محبوب عالم خاں ہیں۔ جسٹس کلیان جیوتی سین گپتا اور جسٹس سنجے کمار پر مشتمل ڈیویژ

حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز ) آندھرا پردیش ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ نے ممتازیارالدولہ وقف مجلس امراء سے متعلق ایک رکنی بنچ کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کی زیر صدارت کمیٹی کو برقرار رکھا ہے۔ اس کمیٹی کے سکریٹری نواب محبوب عالم خاں ہیں۔ جسٹس کلیان جیوتی سین گپتا اور جسٹس سنجے کمار پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے وقف بورڈ کی جانب سے منظورہ نئی کمیٹی کے احکامات کو بھی کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریاستی وقف بورڈ کو نئی کمیٹی کے قیام یا برخواستگی کا کوئی اختیار حاصل نہیں وہ صرف کمیٹی کی تشکیل کی اطلاع کی صورت میں ریکارڈ درج کرسکتا ہے۔ ڈیویژن بنچ نے وقف ایکٹ کی دفعہ 42 کے تحت کمیٹی کے کسی بھی معاملات میں وقف بورڈ کی مداخلت کی نفی کی ہے۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ نے موجودہ کمیٹی کی مخالفت میں قائم کردہ کمیٹی کو منظوری دیتے ہوئے احکامات جاری کئے تھے جسے جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ سنگل جج نے نئی کمیٹی کو برقرار رکھتے ہوئے وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ مکتوب کو قبول کرلیا تھا تاہم ڈیویژن بنچ نے سنگل جج کے احکامات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس طرح جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی صدرنشین اور سکریٹری کی حیثیت سے نواب محبوب عالم خاں اور دیگر عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی کو برقرار رکھا گیا ہے۔

بنچ نے فیصلہ میں کہا کہ سنگل جج کو چاہیئے تھا کہ وہ درخواست گذار کے وکیل کی سماعت کے بعد فیصلہ سناتے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی وقت ادارہ کی منیجنگ کمیٹی میں تبدیلی سے متعلق اطلاع کی صورت میں وقف بورڈ کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اس مسئلہ میں مداخلت کرے سوائے اس کے کہ وہ اس کی اطلاع وصول کرکے ریکارڈ میں درج کرے۔ عدالت نے واضح کیاکہ وقف ایکٹ کی دفعہ 42کے تحت وقف بورڈ کو اس سلسلہ میں علحدہ احکامات کی اجرائی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ درخواست گذار کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ سی وی موہن ریڈی نے وقف ایکٹ 1995ء کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا جس میں وقف بورڈ کے اختیارات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی یا کسی اور تبدیلی کے سلسلہ میں وقف بورڈ ریکارڈ درج کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ وقف ایکٹ میں بورڈ کو تبدیلی کے سلسلہ میں کوئی اختیارات حاصل نہیں۔ عدالت نے کہا کہ وقف بورڈ کو چاہیئے کہ وہ کمیٹی میں تبدیلی کا نوٹ لے کر ریکارڈ میں درج کرے جو وقف ایکٹ کی دفعہ 32کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے۔ اس فیصلہ سے ممتاز یارالدولہ وقف کے تحت اداروں پر جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کی زیر صدارت کمیٹی کا کنٹرول رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT