Wednesday , November 22 2017
Home / سیاسیات / ممتا نے شکست قبول کرلی، بایاںباوز ۔ کانگریس اتحاد بوگس

ممتا نے شکست قبول کرلی، بایاںباوز ۔ کانگریس اتحاد بوگس

دیدی کرپشن پر خاموش کیوں ہیں، وزیراعظم مودی کی انتخابی مہم
ہوڑہ ؍ بشیرہاٹ ۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ چیف منسٹر مغربی بنگال و ترنمول کانگریس سربراہ ممتابنرجی نے عملی اعتبار سے ’’اپنی شکست قبول کرلی ہے‘‘۔ اس سے صاف ظاہر ہیکہ ریاست میں پہلے تین مرحلوں کی رائے دہی میں نہ تو ان کو اکثریت حاصل ہوئی اور نہ بایاں اور کانگریس اتحاد کو۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ممتابنرجی اپنی شکست قبول کرچکی ہیں۔ انہوں نے ممتابنرجی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ابتدائی دور میں ناانصافی اور کرپشن کے خلاف انتھک جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے بائیں بازو اور ترنمول کانگریس دونوں کو فلائی اوور کے منہدم ہونے کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اس کی تعمیر کا آغاز سابق حکومت کے دور میں ہوا تھا اور تکمیل موجودہ حکومت کے دور میں ہوئی ہے۔ انہوں نے بایاں بازو ۔ کانگریس اتحاد کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد بوگس ہے۔ دونوں برسراقتدار آنے کی خاطر ایک دوسرے کی ستائش کررہے ہیں جبکہ بایاں بازو قبل ازیں کانگریس پر تنقید کیا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہے لیکن راجیہ سبھا میں نہیں ہے۔ موجودہ انتخابات کے بعد انہوں نے امید ظاہر کی کہ بی جے پی کو راجیہ سبھا میں بھی اکثریت حاصل ہوسکے گی اور ترقیاتی کام کئے جاسکیں گے کیونکہ اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں حکومت کے تمام اقدامات کو ناکام بنادیا ہے۔ بشیرہاٹ سے موصولہ اطلاع کے بموجب نریندر مودی نے کرپشن کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے چیف منسٹر ممتابنرجی سے سوال کیا کہ وہ کرپشن کے مسئلہ پر خاموش کیوں ہیں اور الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت جعلی کرنسی ریاکٹ کی سرپرستی کررہی ہے۔ بنگلہ دیش سے دراندازی کو بھی تائید حاصل ہے۔ قبل ازیں جب بھی کرپشن کا کوئی معاملہ درپیش ہوتا تو دیدی اس کے خلاف آواز اٹھایا کرتی تھیں۔

پانچ سال قبل انہوں نے پریبرتن (تبدیلی) کی اپیل کی تھی۔ پانچ سال قبل انہوں نے ایسا کیا تھا لیکن اب وہ بدل چکی ہیں۔ ٹی ایم سی قائدین کے خلاف ناردا اسٹنگ آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ سب کچھ کیمرہ کے سامنے ہوا (ترنمول کانگریس قائدین)نے بنگال کو فروخت نہیں کیا بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کو فروخت کیا ہے۔ فلائی اوور کے انہدام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کرپشن کی ایک اور مثال ہے۔ کیا اس کے بعد بھی بنگال کے عوام ان کی تائید کریں گے۔ شاردا چٹ فنڈ اسکام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہر ایک جانتا ہیکہ اس میں کون ملوث ہے۔ ان کی مدد کس میں تھی اور ان کی سرپرستی کون کررہی تھی اور اس سے فائدہ کس نے اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن ہندوستان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی حکومت کے دوران دیدی چلایا کرتی تھیں کہ تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ بایاں بازو اقتدار سے بیدخل ہوگیا تو عوام کو بنگال میں امید کی کرن نظر آئی تھی لیکن حقیقت یہ ہیکہ گذشتہ پانچ سال سے مغربی بنگال میں اماوس (تاریکی) ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT