Tuesday , December 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / ممنوعہ اوقات میں سجدۂ تلاوت

ممنوعہ اوقات میں سجدۂ تلاوت

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طلوع آفتاب، زوال آفتاب، غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا صحیح نہیں ۔ اگر ان اوقات میں قرآن شریف کی تلاوت کے دوران آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے تو کیا سجدہ تلاوت ادا کیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔
جواب : صورت مسئول عنہا میں شریعت اسلامی میں ان تینوں ممنوعہ اوقات میں فرض و نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ ہے ۔تاتار خانیہ، جلد اول ص ۴۰۷ میں ہے: ’’الاوقات التی یکرہ فیھا الصلوۃ ثلاثۃ یکرہ فیھا التطوع و الفرض و ذلک عند طلوع الشمس و وقت الزوال و عند غروب الشمس الّا عصر یومہ فانھا لا یکرہ عند غروب الشمس۔
مذکورہ اوقات ممنوعہ میں تلاوت قرآن مکروہ نہیں اگر ممنوعہ وقت میں تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے تو سجدہ تلاوت کرنا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے۔ اگر آیت سجدہ کی تلاوت ان اوقات کے علاوہ میں ہو اور تلاوت کرنے والا واجب شدہ سجدہ تلاوت ان اوقات میں کرنا چاہئے تو شرعاً درست نہیں۔

مقررہ مہر میں اضافہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا نکاح کچھ سال قبل ہوا ہے۔ اس وقت زید نے تین ہزار روپیہ مہر باندھا تھا اور تاحال ادا نہیں کیا۔ لیکن اب زید اپنی اہلیہ کو مہر ادا کرنا چاہتا ہے۔ زیدکی اہلیہ کی خواہش ہے کہ وہ مہر کے پیسوں سے کوئی نیک کام کرے۔ مثلا مسجد کی تعمیر وغیرہ۔ اب زید اپنی اہلیہ کو مہر میں اگر اضافہ کرکے تین ہزار کے بجاے تین لاکھ یا اس سے زائد دے تو کیا وہ مہر ہی میں شمار ہوگا یا زید کو صرف اتنے ہی پیسے جو مقرر کئے تھے وہی دینے ہوں گے۔
جواب : صورت مسئول عنہا میں مہر میں اضافہ شرعادرست ہے۔عالمگیری جلد اول ص ۳۱۲ میں ہے: الزیادۃ فی المھر صحیحۃ حال قیام نکاح عند علمائنا الثلاثۃ۔ اگرکوئی بعد عقد مہر میں اضافہ کردے تو اس کو جس قدر اضافہ کیا ہے دینا لازم ہوگا۔ فاذا زادھا فی المھر بعد العقد لزمتہ الزیادۃ کذافی السراج الوہاج ۔ عالمگیری جلد اول صفحہ۳۱۲ ۔
پس دریافت شدہ مسئلہ میںزید پر تین ہزار روپئے مہر دینا واجب اور اگر زید اضافہ دینا چاہیں تو اختیار ہے۔ اگر زید مہر میں تین ہزار کے بجاے اپنی طرف سے اضافہ کردیں اور تین لاکھ یا اس سے زائد مقرر کرلیں تو وہ مہر ہی متصور ہوگا۔ اور زید پر اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔

قبر کی لمبائی و چوڑائی
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دریافت طلب مسئلہ یہ ہیکہ قبر کی لمبائی چوڑائی اور گہرائی کسقدر ہونی چاہئے ۔ اور مردوں ‘ عورتوں بچوں اور بڑوں کی قبروں میں لمبائی و گہرائی وغیرہ میں کیا فرق ہے ؟ ۔
جواب : صورت مسئول عنہا میں قبر کی لمبائی، میت کی لمبائی کے موافق ہونی چاہئے، اس طرح کہ میت اس میں سیدھی بآسانی لٹائی جاسکے ۔ اور چوڑائی اس کی لمبائی کا نصف ہونا چاہئے ۔ گہرائی ایک متوسط قد والے انسان کے کم ازکم ناف تک ہونی چاہئے۔ اگر گہرائی سینہ تک یا پورے قد آدم کے برابر ہو تو زیادہ مناسب ہے ۔ تاکہ میت جانوروں کے کھودنے سے محفوظ رہے نیز اس کی بو سے عوام الناس محفوظ رہ سکیں ۔ بچوں اور بڑوں ‘ عورتوں اور مردوں کی قبروں کیلئے یہ ایک ہی معیار ہے۔ در مختار بر حاشیہ رد المحتار جلد اول، ص ۵۹۸ باب الجنائز میں ہے : ( و حفر قبرہ) فی غیر دار ( مقدار نصف القامۃ ) فان زاد فحسن ۔ اور رد المحتار میں ہے ( مقدار نصف القامۃ ) او الی حد الصدر و ان زاد الی مقدار قامۃ فھو احسن کما فی الذخیرۃ … و طولہ علی قدر طول المیت و عرضہ علی قدر نصف طولہ۔ فقط واﷲتعالی أعلم

TOPPOPULARRECENT