Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / مناسب تیاری کے بغیر وزرائے اعظم ہندو پاک کی چوٹی کانفرنس لاحاصل

مناسب تیاری کے بغیر وزرائے اعظم ہندو پاک کی چوٹی کانفرنس لاحاصل

خفیہ بات چیت جاری رکھنے کا مشورہ ‘ بحالی امن کے ذریعہ ہندوپاک کے عوام کیلئے لامحدود مواقع : خورشید احمد قصوری
نئی دہلی ۔11اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مناسب تیاری کے بغیر وزرائے اعظم ہند وپاک کی  چوٹی کانفرنس بے فائدہ ہوگی ۔ سابق وزیر خارجہ پاکستان خورشید محمود قصوری نے کہا کہ مابعد اوفا تعطل دوبارہ پس پردہ خفیہ بات چیت ضروری ہے ۔ اس فارمولہ سے 2004 اور 2007ء کے درمیان اتفاق کیا گیا تھا تاکہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو کشیدگی کا شکار تعلقات بہتر بنانے کیلئے باہمی ’’ بغض و عناد ‘‘ دو ر کرنا ہوگا ۔ دونوں ممالک کے انتظامیہ کو ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیزی ترک کرنی ہوگی ۔اپنی کتاب ’’ ناعقاب اور ناقمری ‘‘ کے ہندوستان کے بازار میں پیش کرنے کے کئی دن بعد قصوری نے دعویٰ کیا کہ پس پردہ امن مذاکرات مسئلہ کشمیر کی قطعی یکسوئی کے قریب 8سال قبل ہی پہنچ چکے تھے ۔ مسئلہ کی یکسوئی کو پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی منظوری بھی حاصل ہوچکی تھی ۔ قصوری 2002 اور 2007ء کے درمیان وزیر خارجہ پاکستان تھے ۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو شرکت کی دعوت اور بعدازاں اوفا میں دونوں قائدین کی کشمیر کے مسئلہ کی یکسوئی کیلئے مثبت بات چیت کا ادعا کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی اجلاس مناسب تیاری کے بغیر منعقد نہیں کیا جانا چاہیئے ۔ اوفا ملاقات کے لئے ایسی تیاری نہیں کی گئی تھی ۔

اپنی 850صفحات پر مشتمل کتاب میں خورشید محمود قصوری نے تفصیل سے اُن حالات کا ذکر کیا جن میں مسئلہ کشمیر کی امکانی یکسوئی ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مشترکہ نظام قائم کرنا ہوگا جس کے ذریعہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے تعاون کرسکیں ۔ ہندوستان کی جانب سے قصوری کے دعویٰ کی توثیق نہیں کی گئی ہے ۔ قصوری نے کہا کہ تقریباً تین سال تک وہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو سمجھاتے رہے کہ کشمیر کے مسئلہ کی یکسوئی کے بغیر دونوں ممالک کے خوشگوار تعلقات ناممکن ہیں ۔ آخر کار پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے کہہ دیا کہ یہ صرف ایک وہم ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی اس دیرینہ مسئلہ کی یکسوئی نہیں چاہتے ۔قصوری نے کہا کہ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ کاغذات صدر پاکستان آصف علی زرداری کے حوالے کیا جائے ۔ ہندوستان اور پاکستان کے موجودہ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کیلئے لامحدود مواقع فراہم کرنیج کی خآطر دونوں ممالک کے درمیان امن کا قیام بہت ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں عوام سے جو کچھ نہیں جانتے اس لئے خاموشی اختیار کرتے ہیں ‘ خواہش کرنی چاہیئے کہ انہیں باہمی بغض و عناد ختم کردینے چاہیئے ۔ قصوری نے امید ظاہر کی کہ مودی معقول رویہ اختیار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کردیں گے ۔ انہوں نے پاکستان کے کچھ گوشوں کی جانب سے مودی کے جارحانہ رویہ کے بارے میں اندیشوں کو مسترد کردیا اور امید ظاہر کی کہ مودی بھی ہندوستان کی معاشی ترقی چاہتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان امن بحال کئے بغیر ایسا ناممکن ہے ۔اپنی کتاب میں قصوری نے کہا کہ بحیثیت وزیرخارجہ انہوں نے اسلام آباد میں کشمیری قائدین سے بات چیت کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT