Saturday , November 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / مناسک حج، نیک بندوں کی یادگار ہیں

مناسک حج، نیک بندوں کی یادگار ہیں

ڈاکٹر محمد طاہر القادری    (دوسری و آخری قسط)

جہاں تک حج کے بنیادی مناسک و ارکان کا تعلق ہے تو حجاج کا میدان عرفات میں حاضر ہو جانے کا نام ہی حج ہے، یعنی بغیر کسی نفلی عبادت اور خطبہ حج کے محض میدان عرفات میں حاضری ہی فرضیت کی ادائیگی کے اعتبار سے حج کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے (اور طواف زیارت کے) علاوہ باقی سب اعمال واجبات و سنن اور مستحبات کے درجے میں آتے ہیں۔
عرفات کا لغوی معنی پہچاننا ہے اور یہ اس یادگار (ملاقات) کی علامت ہے، جو حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کے درمیان جنت سے نکالے جانے اور طویل عرصہ کی جدائی کے بعد اس میدان میں ہوئی، جس میں انھوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ باری تعالیٰ نے اپنے ان دو مقبول بندوں کے اس ملاپ کی یاد کو تاابد زندہ و جاوید رکھنے کے لئے ہر سال ۹؍ ذی الحجہ کو حج کے لئے آنے والے نفوس کی اس میدان میں حاضری کو مناسک حج کی بنیاد قرار دے دیا ہے۔
عرفات میں نماز ظہر کا وقت آتا ہے تو حاجی جو عمر بھر قانون خداوندی ’’بے شک نماز مؤمنوں پر مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے‘‘ کی تکمیل میں ہمیشہ نماز اپنے وقت پر پڑھنے کا عادی تھا، ظہر کی نماز کے ساتھ عصر کو ملاکر پڑھتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟۔ صرف اس لئے کہ اس کے محبوب ترین رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میدان عرفات میں ظہر و عصر کو ملاکر پڑھا تھا، اب اس کی پیروی ہر خاص و عام کے لئے واجب قرار پائی۔ اس میں عقل و منطق کا کوئی دخل نہیں، نہ کوئی سفر درپیش ہے، نہ جہاد ہے اور نہ کوئی مجبوری ہے۔ بس حکم ہے کہ عصر کو ظہر کے وقت میں ادا کیا جائے۔ پھر مغرب کا وقت آجاتا ہے، وہ (حاجی) عمر بھر غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب ادا کرنے کا پابند تھا، لیکن یہاں آکر قانون شریعت کی وہ پابندی معطل ہو گئی۔ اللہ کا بندہ نماز کا وقت دیکھتا ہے، لیکن اس کی ادائیگی سے اس لئے گریز کرتا ہے کہ محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نماز ادا نہیں کی تھی۔ وہ اس نماز کو مزدلفہ جاکر عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھتا ہے۔
حاجیوں پر واجب مناسک حج میں سے ایک ’’رمی جمرات‘‘ یعنی شیطان کو کنکر مارنا بھی ہے۔ دسویں ذی الحجہ سے لے کر تیرہویں ذی الحجہ تک سعادت حج حاصل کرنے والے وقوف عرفات و مزدلفہ سے فارغ ہوکر لوٹتے ہیں اور سنت ابراہیمی کی پیروی میں جمرات پر جاکر تین شیطانوں کو کنکر مارتے ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کے محبوب نبی حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے اس عمل کی یادگار ہے، جب وہ حکم خداوندی سے اپنے فرزند ارجمند حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے منی کی طرف لے جا رہے تھے تو راستے میں شیطان لعین حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بہکانے کے لئے آگیا اور ان سے کہنے لگا ’’تمہارے والد تمھیں قتل کرنے کی نیت سے لے جا رہے ہیں‘‘۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس شیطانی بہکاوے کا ذکر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا تو انھوں نے شیطان کو کنکریاں ماریں، تاکہ اسے پتہ چل جائے کہ اس کا کوئی وار ہمارے ارادے کو متزلزل نہیں کرسکتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کنکریاں مارنے کا فعل خدائے عز و جل کی نظر میں اتنا محبوب اور پسندیدہ ٹھہرا کہ اسے تاقیام قیامت امت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مناسک حج کے ضمن میں جزو عبادت بنا دیا گیا۔ جب تک حاجی ان علامتی شیطانوں کو کنکریاں نہ ماریں، فریضہ حج کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ ہزاروں سال بیت جانے کے بعد آج وہاں نہ تو شیطان ہے، نہ ذبح اسماعیل علیہ السلام کا مسئلہ ہے اور نہ شیطان کی رکاوٹ ہے، بس تین علامتی ستون ہیں، جن کو شیطان سمجھ کر حجاج کرام کنکریاں مارتے ہیں۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ انسانی ہاتھوں کے بنے ہوئے ستونوں کو شیطان سمجھ کر پتھر مارنے میں کیا حکمت ہے اور یہ عملی عبادت کا درجہ کیسے رکھتا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اللہ کے محبوب بندے نے آج سے ہزاروں سال پہلے یہ عمل کیا تھا۔ اللہ رب العزت کو اپنے محبوب بندے کی وہ ادا اتنی پسند آئی کہ اس نے اس کو امت مسلمہ کے لئے قیامت تک عبادت کا درجہ دے دیا اور جب تک یہ عمل دُہرایا نہ جائے، اس کے بغیر حج جیسی عظیم عبادت اَدھوری رہ جاتی ہے۔

مقام منٰی پر فرزندان توحید کے عظیم اجتماع کی قربانی، اس منظر کی یاد کو تازہ کرنے کیلئے ہے، جہاں منشائے ایزدی کی تعمیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لخت جگر حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو خدا کی رضا کے لئے قربان کردینے کیلئے اس میدان میں لے آئے تھے اور باپ بیٹے کے درمیان مکمل مفاہمت کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کی گردن پر چھری چلادی تھی۔ یہ عظیم قربانی بارگاہ خداوندی میں شرف قبولیت سے نوازی گئی۔ آج بھی حاجی اس قربانی کی یاد میں ہر سال جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔یوں تو دنیا میں ہر جگہ اللہ کے نام پر صدقہ خیرات کیلئے جانور ذبح کئے جاتے ہیں، لیکن ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑسے نسبت ہونے کی بناء پر مقام منٰی پر قربانی کیلئے ذبح کئے جانے والے جانوروں کی حیثیت منفرد اور جداگانہ ہو گئی اور انھیں اس خاص نسبت سے شعائر اللہ کا درجہ دیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ’’ہم نے ان جانوروں کو تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں سے کیا‘‘۔ (سورہ الحج)
حاجیوں کے لئے حکم یہ ہے کہ اصل واقعہ کو آنکھوں کے سامنے لاکر اسی کیفیت کو اپنے اوپر طاری کرکے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام والا عمل دہرائیں، اس سے ہمارے حج کی تکمیل ہوگی۔ آج بھی انھیں چیزوں کو تصور میں لاکر عمل کو دہرایا جاتا ہے، جو کہ ایک عظیم عبادت کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT