Wednesday , December 13 2017
Home / مذہبی صفحہ / مناقبِ حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما

مناقبِ حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما

ابوزہیر سید زبیر ہاشمی نظامی

آج محرم الحرام ۱۴۳۷ہجری کی ۹؍ تاریخ اور جمعہ کا دن ہے اور کل ۱۰؍ محرم الحرام ہے، جو کہ تمام مسلمانانِ عالم کے لئے ایک یادگار دن ہے۔ اس عظیم تاریخ کو امام عالی مقام حضرت سیدنا حسین رضی اﷲ عنہ، ان کے گھر کے افراد اور رفقاء نے میدان کربلا میں اپنی عزیز جانیں راہِ خدا میں پیش کیں۔ اسی مناسبت سے حضرات حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما کے کچھ فضائل و مناقب نذر قارئین ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) جنت کے جوانوں کے سردار ہیں‘‘۔ (جامع ترمذی)
بارگاہِ خداوندی میں آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں، معطر اور معتبر لبوں پر دعائیہ کلمات مہک رہے ہیں کہ ’’باری تعالی! تو بھی حسن اور حسین کو اپنی محبت کا سزاوار ٹھہرا‘‘۔ یہ دعائیہ کلمات بھی حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لب اقدس سے نکلے کہ ’’مولا! مجھے حسن اور حسین سے بڑا پیار ہے، تو بھی ان سے پیارکر اور جو حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے پیار کرتا ہے، گویا وہ مجھ سے پیار کرتا ہے‘‘۔

وہ وقت کتنا ہی بہتر رہا ہوگا جب جنت کے جوانوں کے سردار شہزادہ حسن اور شہزادہ حسین رضی اللہ عنہما اپنے نانا جان کے مقدس کندھوں پر سوار تھے اور حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ یہ روح پرور منظر دیکھتے ہیں اور شہزادوں کو مبارکباد دیتے ہوئے بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں ’’شہزادو!  تمہارے نیچے کتنی اچھی سواری ہے‘‘۔ جس کے جواب میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عمر! تم نے دیکھا نہیں کہ سوار بھی کتے اچھے ہیں؟‘‘۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جنھیں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس کندھوں پر سواری کا شرف حاصل ہوا، جنھیں چوسنے کے لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک عطا کی، جنھیں اپنے لعاب دہن سے نوازا اور جنھیں اپنی آغوش رحمت میں لے کر بہلایا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے (دیر سے) عشاء کی نماز آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ پڑھی۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) دونوں بھائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سرانور سجدے سے اٹھایا تو دونوں کو اپنے ہاتھوں سے تھام کر زمین پر بیٹھادیا اور جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سجدے میں جاتے تو وہ دونوں (حضرات حسنین) یہی عمل دُہراتے، حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں پوری نماز ادا فرمائی۔ پھر دونوں شہزادوںکو اپنی گود میں بٹھالیا۔ (مسند احمد بن حنبل)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت نماز میں سجدہ میں تھے کہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) آئے اور پشت مبارک پر سوار ہوگئے۔ پس آپﷺ نے (ان کی خاطر) سجدہ طویل کردیا۔ (نماز سے فراغت کے بعد) عرض کیا گیا ’’یارسول اللہ! کیا سجدہ طویل کرنے کا حکم آگیا ہے؟‘‘۔ فرمایا: ’’نہیں، میرے دونوں بیٹے حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) میری پشت پر چڑھ گئے تھے، میں نے یہ ناپسند کیا کہ جلدی کروں‘‘ (مجمع الزوائد۔ مسند من حدیث عبد اللہ بن شداد) یعنی حضرات حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جب حالت نماز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصداً سجدہ طویل کردیا، تاکہ حضرات حسنین کریمین گر نہ پڑیں اور انھیں کوئی گزند نہ پہنچے۔ فرمایا: ’’قیامت کے روز تمام نسبی رشتے منقطع ہو جائیں گے، ماسواء میرے نسبی، قرابت داری اور سسرالی رشتے کے‘‘۔ (مسند احمد بن حنبل، المستدرک)

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لخت جگر ہونے کے ناطے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو چوں کہ قربانی مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر بنایا گیا تھا اور انھیں ذبح عظیم کی خلعت فاخرہ عطا کی گئی تھی، اس لئے امام حسین رضی اللہ عنہ کے جسم کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے قریبی مشابہت کے اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب لوگوں کو اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد ستاتی، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کی یاد دِلوں میں اضطراب پیدا کرتی تو لوگ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے درِ دولت پر حاضر ہوتے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت کرکے اپنی آنکھوں کی تشنگی کا مداوا کرتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ اقدس نظروں میں سماجاتا۔ صحابۂ کرام یہ بھی جانتے تھے کہ نواسۂ رسول کو خلعت شہادت سے سرفراز ہونا ہے، کیونکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تذکرہ سن چکے تھے۔ اس حوالے سے بھی حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اصحابِ رسول کی نگاہوں کا مرکز بن گئے تھے۔
حضرت سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ سینے سے لے کر سر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس سے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے‘‘۔ (جامع ترمذی)

حضرت یعلیٰ بن مروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے‘‘۔ (جامع ترمذی)
وہ حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) جن کے بارے میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ ’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں‘‘ اور یہ کہ ’’اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتا ہے، جو حسین سے محبت کرتا ہے‘‘۔ غور فرمائیے کہ جس سے اللہ تعالیٰ محبت فرمائے، اس سے عداوت رکھنا اور اس کا خون ناحق بہانا کتنا بڑا جرم ہے؟۔ استقامت کے کوہِ گراں سے یہ توقع کرنا کہ وہ ایک فاسق و فاجر کے دست پلید پر بیعت کرلے گا، بالکل فضول سی بات ہے۔ اہل حق راہِ حیات میں اپنی جان کا نذرانہ تو پیش کردیتے ہیں، لیکن اصولوں پر کسی سے سمجھوتہ کے روادار نہیں ہوتے۔ اگر میدانِ کربلا میں حق، باطل کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتا تو پھر قیامت تک حق کا پرچم بلند کرنے کی کوئی جرأت نہ کرتا۔
اگر ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا دَم بھرتے ہیں، اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنا اوڑھنا بچھونا قرار دیتے ہیں، اگر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا تشخص گردانتے ہیں تو پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس سے محبت کرتے ہیں اور بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں کہ ’’باری تعالی! میں حسین سے محبت کرتا ہوں، توبھی اس سے محبت کر‘‘۔ اللہ کے محبوب سے بغض و عدالت کا تصور بھی ہمارے ذہن میں نہیں آنا چاہئے، بلکہ اللہ کے محبوبﷺ کے اس محبوب (حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ) سے والہانہ محبت کا اظہار کرکے اپنے رسول سے گہری وابستگی کو مزید مستحکم بنانا چاہئے، کیونکہ قصر ایمان کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کا یہ ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ واضح رہے کہ اہل بیت اطہار کی محبت اور اصحاب رسول کی محبت دراصل ایک ہی محبت کا نام ہے۔ ان محبتوں کو خانوں میں تقسیم کرنا، امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT