Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / منتخبہ حکومتوں کی بیدخلی کیلئے دولت و طاقت کا استعمال

منتخبہ حکومتوں کی بیدخلی کیلئے دولت و طاقت کا استعمال

’’اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ واقعات سے مودی جی کی بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب‘‘ : راہول
نئی دہلی ۔ /20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے اترکھنڈ میں پیدا شدہ بحران کے ضمن میں بی جے پی اور وزیراعظم کے خلاف اپنے تنقیدی حملوں میں آج زبردست شدت پیدا کردی اور کہا کہ ’’اس (بحران) سے مودی جی کی بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے ‘‘ ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمہوریت کے خلاف اس چھیڑ چھاڑ کے خلاف کانگریس اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔ کانگریس کے نائب صدر نے اس مسئلہ پر مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ ٹوئیٹر پر لکھا کہ  ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہار میں ناکامی کے بعد دیگر ریاستوں میں منتخبہ حکومت کی بیدخلی کیلئے ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے علاوہ دولت و طاقت کے غلط استعمال کے ذریعہ عوامی منتخبہ حکومتوں کو بیدخل کرنا ، بی جے پی کا نیا ماڈل بن گیا ہے ۔ جمہوریت سے بی جے پی کی اس غنڈہ گردی کے خلاف کانگریس اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ‘‘ ۔

راہول نے مزید کہا کہ ’’یہ حملے ہماری جمہوریت اور دستور کے خلاف حملوں کے مترادف ہیں ۔ پہلے اروناچل پردیش اور پھر اترکھنڈ میں یہ حملے کئے گئے ہیں ۔ یہ جمہوریت اور جمہوری طور پر منتخبہ حکومت پر ہونے والے ان حملوں نے مودی جی کی بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے ‘‘ واضح رہے کہ اترکھنڈ میں کانگریس کے زیرقیادت ہریش راوت حکومت دو دن قبل بحران سے دوچار ہوگئی تھی جب حکمراں جماعت کے 9 باغی ارکان اور اپوزیشن بی جے پی کے ارکان نے گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے تشکیل حکومت کا ادعاء پیش کیا تھا ۔ بعد ازاں گورنر کرشن کانت پال نے چیف منسٹر راوت کو /28 مارچ کو ایران میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ راوت حکومت اکثریت سے محروم ہوگئی ہے اور 70 رکنی ایوان میں کانگریس کے 9 باغیوں کی تائید سے اپوزیشن بی جے پی کواکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔ تاہم راوت نے بی جے پی کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں ہنوزاکثریت حاصل ہے ۔ تاحال کسی بھی باغی رکن نے مقننہ یا جماعت سے علحدگی اختیار نہیں کی ہے ۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ اور جیوالا نے کہا کہ ’’مودی اور شاہ دونوں ہی اس ملک کی منتخبہ حکومتوں کی زبردستی بیدخلی کے لئے بدنام ہوگئے ہیں ۔ ایک منظم سازش کے تحت منتخبہ حکومتوں کو غیر مستحکم کیا جارہا ہے ۔ اروناچل پردیش کے بعد اب اترکھنڈ کو نشانہ بنایا جارہا ہے ‘‘ ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT