Sunday , August 19 2018
Home / مضامین / منتخب ارکان کے خلاف قانونی کارروائی

منتخب ارکان کے خلاف قانونی کارروائی

غضنفر علی خان

جمہوریت کے ساتھ ہمارے ملک میں عوام نے کبھی کوئی مذاق نہیں کیا۔ جب کبھی اور جہاں کہیں انتخابات ہوئے عوام نے پارلیمان اور اسمبلیوں کے لئے اپنے نمائندے چنے۔ اب اگر ملک کی سب سے بڑی عدالت ہندوستان کی عدالت عظمیٰ خود مرکزی حکومت کو یہ ہدایت دیتی ہے کہ وہ اندرون ایک ماہ ایسی خصوصی عدالتیں جنہیں فاسٹ ٹریک کہا جاتا ہے قائم کرے اور تمام ارکان جو ہماری جمہوریت میں ’’ قانون ساز ‘‘ یا law makers ہیں کے خلاف ان پر عاید کردہ الزامات کے تحت قانونی کارروائی کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرے تو اس سے زیادہ خوش آئند بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ قانون کی صفت یہ ہے کہ وہ عام آدمی اور کسی منتخب عوامی نمائندہ میں فرق نہیں کرتا، جرم بہرحال جرم ہے اور جس کسی سے بھی ہو اس کے کئے کی سزا ملنی چاہیئے۔ قانون کی روح یہ ہے کہ عاجلانہ طور پر ایسے ہر فرد کو سزا ملے انصاف رسانی اور عدل گستری میں تاخیر اور عدل و انصاف سے کسی کو محروم کرنے کے مماثل ہے۔ اس اصول کے تحت تو ہر شہری کو اس کے کئے کی سزا ملنی چاہیئے۔ لیکن ایسا ہمارے ملک میں نہیں ہوتا ہے۔ عام آدمی کو تو قانون کے ہاتھ فوری گرفتار کرلیتے ہیں لیکن خصوصی مراعات کے حامل لوگوں کو کھلی چھوٹ ملتی ہے اور ارتکاب جرم کے کئی برسوں کے بعد بھی وہ نہ صرف آزاد رہتے ہیں بلکہ مراعات کے تحت شان و شوکت، عیش و آرام کی زندگی گذارنے میں ان کا سیاسی اثر و رسوخ ان کا اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنا ان کا دِفاع کرتا ہے، جیسا کہ ہمارے ملک میں ہوتا ہے۔2014 کے عام انتخابات کے بعد 1581 ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی پر تعزیراتی جرائم کرنے کے الزامات عائد ہوئے تو آج 2017 تک ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ وہ ملک کے عام باشندوں سے مختلف ہیں، انہیں مراعات حاصل ہیں۔ انھیں اپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ہر قسم کا تحفظ ملتا ہے۔ دراصل آج کے یہ ارکان ہمارے جمہوری دور کے وہ شہزادے بنے ہوئے ہیں جنہیں کوئی سزا نہیں دیتا۔ یہ راجہ مہاراجہ آج کے دور میں بھی اسی قسم کی سہولتوں اور تحفظات کے حامل ہیں جیسے شاہی یا شخصی حکومتوں کے دور میں حکمران خاندانوں کو ان کی کئی نسلوں کو ماضی میں حاصل تھے۔ پھر کن معنوں میں یا کس لحاظ سے ہمارا دور جمہوری کہلاتا ہے۔

جملہ 4852 ارکان کے ان حلفنامے جو انہوں نے اپنے انتخاب کے وقت پرچہ نامزدگی کے ساتھ الیکشن کمیشن میں داخل کئے تھے ان کا جب تجزیہ کیا گیا تو اس میں کئی بے قاعدگیوں کا پتہ چلا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 334 ارکان ( منتخب ) ایسے بھی ان میں شامل ہیں جن کے خلاف خواتین سے دست درازی کرنے، انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات ہیں اور یہ بھی بے حد دلچسپ بات ہے کہ ان تمام چنے چنائے ارکان کا تعلق کسی ایک پارٹی سے نہیں ہے بلکہ اس جرم میں ہر وہ سیاسی پارٹی شامل ہے جس کو الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا ہے گویا یہ تمام پارٹیاں ملک کی تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں ہیں۔ جن ارکان پر خواتین کے ساتھ زیادتی کا الزام ہے ان میں 51 ایسے ایم ایل اے اور ایم پی ہیں جن کے خلاف مقدمات دائر بھی کئے جاچکے ہیں۔ ان 51میں سے48 ارکان اسمبلی اور 3 ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ یہ کیسی اسمبلیاں ہیں یہ کیسی پارلیمنٹ ہیں جہاں مجرمانہ ریکارڈ والے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ تو ماضی کی بات ہوئی۔ سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ نے جہاں اس معاملہ کی سنوائی ہورہی ہے مرکزی حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ 2014 کے انتخابات کے بعد جو بھی چناؤ ہوئے ان میں کتنے داغدار امیدوار چنے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہوگا۔ عدالت عظمیٰ میں درخواست گذار نے استدعا کی کہ اس زمرہ کے مقدمات کا سامنا کرنے والے اور جن پر آئندہ کسی وقت مقدمات دائر کئے جاسکتے ہیں ان تمام پر تمام عمر کیلئے انتخابات میں حصہ نہ لینے کی پابندی عاید کی جانی چاہیئے۔ اس مطالبہ کو سپریم کورٹ کی تائید بھی حاصل ہوگی لیکن ان ساری سیاسی پارٹیوں کی حالت بگڑ جائے گی جنہوں نے جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے ارکان کو اپنے پارٹی ٹکٹ سے نوازا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ان جرائم کے علاوہ ایسے افراد کو بھی سیاسی پارٹیوں نے ٹکٹ دے کر منتخب کروایا جو قتل اور ڈاکہ زنی میں ملوث ہیں یا ملوث تھے۔، یہ کام تقریباً ہر پارٹی نے کیاہے۔ پارٹیوں پر بھی عدالت کی جانب سے یہ پابندی لگائی جانی چاہیئے کہ ایسے ہر امیدوار کو نااہل قرار دیا جانا چاہیئے جس کا جرائم کا کوئی ریکارڈ ہو۔ سپریم کورٹ نے اس اہم کام کے لئے عاجلانہ فیصلہ کرنے والے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کی مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے۔ عام عدالتوں میں اتنے مقدمات زیر دوراں ہیں کہ ان جرائم کے مرتکب ارکان ان قانون سازوں کے مقدمات کی سماعت اور فیصلہ ہونے میں مزید کئی برس لگ جائیں گے ، اس تقاضہ کو پورا کرنے اور مقدمات کا جلد فیصلہ کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے فاسٹ ٹریک کورٹس قائم کرنے کی مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے۔ ملک کے عوام نہ صرف ایسی عدالتوں کے قیام اور خاطی ارکان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے حق میں ہیں بلکہ ان کا یہ پرزور مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت ایسی خصوصی عدالتوں کا قیام بلاتاخیر عمل میں لائے۔ اگر سیاسی پارٹیوں کے دامن صاف ہیں تو انہیں سپریم کورٹ کی اس ہدایت خصوصی فاسٹ ٹریک کورٹس کے قیام کی تائید کرنی چاہیئے۔ کم از کم ان پارٹیوں کو اس معاملے میں آگے آنا چاہیئے جنہوں نے کبھی کسی مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے شخص کو ٹکٹ نہ دیا ہو یا جن کے صفوں میں ملزموں اور مجرموں کو کبھی پناہ نہ ملی ہو۔ ارکان پارلیمان اگر اپنے پُرکھوں کی روایت پر ہی عمل کرلیں تو ہمارے قانون ساز ادارے اور ہمارے قانون ساز نمائندوں کو نئی روشنی حاصل ہوگی۔ اپنی تنخواہوں میں اپنے بھتوں میں اضافہ کے مسئلہ پر تو ارکان پارٹی بندی کے بندھن کو توڑ کر ایک زبان کہتے ہیں کہ اضافہ ہونا چاہیئے۔ لیکن جبکہ عوامی مسائل پر انہیں متحد ہوکر قومی مفادات کا پاس و لحاظ رکھناچاہیئے۔ ہر پارٹی کے ارکان دوسری پارٹی کے خلاف نظر آتے ہیں۔ چند برسوں میں لکھ پتی سے کروڑ پتی بن جانے والے بعض ارکان کو ( سب ہی نہیں کیونکہ ہماری پارلیمنٹ اور ہماری اسمبلیوں میں آج بھی دیانتدار اور صاف کردار والے ارکان موجود ہیں ) آزادی کے بعد ملک کی کمان سنبھالنے والے لیڈروں سے تحریک حاصل کرنی چاہیئے تاکہ انہیں احساس ہو کہ قانون ساز ادارے ہماری عزت و توقیر کی علامتیںہیں اور یہاں کسی بھی جرم کے مرتکب کو کوئی جگہ نہیں مل سکتی۔

TOPPOPULARRECENT