Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / منحرف قائدین کی کابینہ میں شمولیت سے جمہوری نظام کی دھجیاں

منحرف قائدین کی کابینہ میں شمولیت سے جمہوری نظام کی دھجیاں

کے سی آر کے ریمارکس پر ٹی جیون ریڈی کا سخت ردعمل
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے ڈپٹی فلور لیڈر مسٹر ٹی جیون ریڈی نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی جانب سے کانگریس قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے وقت کیے گئے ریمارکس ’ تم کریں تو گھر گرہستی ہم کریں تو قحبہ گری کیا ‘ کانگریس سے کیے گئے استفسار پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ٹی آر ایس قحبہ گری ہی کررہی ہے ۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ٹی جیون ریڈی نے چیف منسٹر کی جانب سے سیاسی انحراف کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مدافعت کرنے اور ماضی میں ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو کانگریس میں شامل کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 2004 کے عام انتخابات میں مسٹر ڈی ناگیندر نے تلگو دیشم ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ناگیندر سے استعفیٰ دلاکر انہیں کانگریس میں شامل کیا تھا ۔ سربراہ ٹی آر ایس کے سی آر کی انانیت سے بیزار ہو کر ٹی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی نے پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کی تھی ۔ مگر وہ اپنی میعاد کی تکمیل تک ٹی آر ایس کے رکن رہے انہیں کانگریس میں شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کبھی گاندھی بھون کی سیڑھیاں چڑی تھی ۔ لیکن چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر دوسری جماعتوںکے منتخب عوامی نمائندوں کو ایوانوں کی رکنیت سے استعفی دلائے بغیر انہیں ٹی آر ایس بھون طلب کر کے ٹی آر ایس میں شامل کررہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے چیف منسٹر تلنگانہ سیاسی انحراف کے معاملے میں ریاست تلنگانہ کو سارے ملک میں مثال کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تلگو دیشم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے رکن اسمبلی سرینواس یادو کو ریاستی کابینہ میں شامل کرتے ہوئے دستوری دفعات اور جمہوری نظام کی دھجیاں اڑائی گئی ہے ۔ آندھرا پردیش میں کانگریس کو نقصان پہونچنے کا اندیشہ ہونے کے باوجود صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی نے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے ۔ تلنگانہ کو ترقی دیتے ہوئے ملک کی سرفہرست ریاست بنانے کے بجائے چیف منسٹر کے سی آر اپنی ساری توانائی اپوزیشن کا صفایا کرنے پر مرکوز کرچکے ہیں ۔ سکریٹریٹ کو نظر انداز کر کے چیف منسٹر فام ہاوز میں کھچڑی پکا رہے ہیں ۔ 12 فیصد مسلم اور قبائلی تحفظات پر عمل نہیں ہوا ۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے وعدے کو فراموش کردیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT