Sunday , December 17 2017
Home / ہندوستان / منحرف گواہوں سے ’زعفرانی دہشت‘ کے مقدمات کی شنوائی بے سمت

منحرف گواہوں سے ’زعفرانی دہشت‘ کے مقدمات کی شنوائی بے سمت

2014ء میں حکومت کی تبدیلی کے بعد گواہوں کے بیانات بدلنا شروع ہوگئے

نئی دہلی ، 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چند سال قبل مبینہ ’ہندو دہشت گردی‘ کی جامع تحقیقات کے ساتھ جو چیز بڑے زور و شور سے شروع ہوئی تھی، اب کلیدی گواہان منحرف ہوجانے کے ساتھ دم توڑتی جارہی ہے۔ اکٹوبر 2007ء کے درگاہ اجمیر دھماکہ اور فبروری 2007ء کے سمجھوتہ اکسپریس دھماکہ کے ٹرائلس میں ہی تقریباً 40 گواہان منحرف ہوچکے ہیں۔ مزید کئی اسی راہ پر چل پڑنے کا منصوبہ رکھتے ہیں جو اُس رجحان کا حصہ ہے جس کی شروعات 2014ء میں مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ہوئی۔ دائیں بازو کے تمام دہشت کے کیسوں کی تحقیقات کرنے والے ادارہ این آئی اے کے ذرائع نے کہا کہ گواہان جن کے حلفیہ بیانات نے 2006ء اور 2008ء کے مالیگاؤں دھماکوں کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کی مکہ مسجد میں پیش آئے دھماکے میں اس ایجنسی کے کیس کو مضبوط کیا تھا، وہ اپنے پہلے کے بیانات معکوس کرنا چاہتے ہیں۔ این آئی اے ذرائع نے اعتراف کیا کہ گواہوں کے ملزمین کی نشاندہی والے بیانات سے انحراف ایک جھٹکہ ہے، لیکن یہ بھی کہا کہ وہ لوگوں کو اپنے بیانات ازسرنو قلمبند کرانے سے نہیں روک سکتے ہیں۔ اس ایجنسی نے دہرایا کہ وہ چارج شیٹس کے مطابق تمام کیسوں میں اپنے استغاثہ کا موقف پیش کریں گے اور اس کے بعد عدالت کو فیصلہ کرنا پڑے گا، لیکن اکثر و بیشتر مقدمات گواہان کے ملزمین کے خلاف اپنے بیانات سے منحرف ہوجانے کی وجہ سے ناکام ہوتے ہیں۔ سمجھوتہ اور اجمیر مقدمات میں منحرف ہوجانے والے 40 میں سے زیادہ تر گواہان نے یا تو دعویٰ کیا کہ ’’اُن پر پہلے کے بیانات دینے کیلئے دباؤ ڈالا گیا‘‘ یا ’’ملزمین سوامی اسیمانند یا دیگر کو جاننے کی تردید کردی جن سے قبل ازیں وہ ملاقات کا دعویٰ کئے تھے۔‘‘

TOPPOPULARRECENT