Saturday , May 26 2018
Home / Top Stories / مندر اور مسجدد ایک ساتھ ہوسکتے ہیں۔کلدیب نیر

مندر اور مسجدد ایک ساتھ ہوسکتے ہیں۔کلدیب نیر

چھ ڈسمبر کو بابری مسجد کے انہدام کو 25سال ہوگئے۔ سال1992میں کانگریس جو کچھ اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤکی ایماء پر کیاتھا۔ اس میں کسی تبدیلی کے بجائے برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اس جگہ مندر تعمیر کرانے پر کمر بستہ ہے ‘جہاں پہلے مسجد تھی۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک بیان دیاکہ ایودھیا میں صرف ایک شاندار مندر ہی تعمیر کیاجائے گااور کچھ نہیں۔ یہ مسلمانوں یہ ان اعتدال پسندوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو ملک کے تنوع کے خاصہ ہیں اور جنہوں نے اس سے اتفاق کیاتھا کہ اس جگہ پر مسجد او رمندر ایک دوسرے کے برابر میں کھڑے کئے جاسکتے ہیں۔

تاہم مسجد کا انہدام ہندوستان کے سیکولرزم پر بدنما داغ ہی رہے گا۔ صرف مندر‘ تعمیر کرنا پہلے لگے زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا۔ مجھے یاد ہے کہ مسجد کے انہدام کے بعد جب ملک گیر سطح پر ہندومسلم تصادم کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے جو کچھ ہوا تھا اس کی وضاحت کے لئے سرکردہ صحافیو ں کی ایک میٹنگ بلائی تھی۔ انہوں نے آگ بجھانے کے لئے میڈیا سے تعاون مانگاتھا۔

انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت اس کے لئے بے بس ہوگئی تھی کہ سینکڑوں کارسیوکوں نے مسجد کو ڈھانے کا تہہ کرلیا تھا۔ لیکن آنجہانی سوشلسٹ لیڈر مدھو لمیے نے بعد میں مجھے بتایاتھا کہ راؤ جو پوجا کررہے تھے وہ دراصل انہدام پر پردہ ڈالنے کا ایک بہانہ تھا۔ جب ایک محافظ ان کے کان میں سرگوشی کی مسجد پوری مہندم ہوگئی ہے تو انہو ں نے آنکھیں کھولیں۔راؤ مسجد ڈھائے جانے سے قبل کاروائی کرسکتے تھے ۔

صدر راج کے نفاذ کا اعلان پندرہ روز پہلے تیار تھا کابینہ کی منظور ی کا انتظار ہورہاتھا۔ وزیراعظم نے کابینہ کی میٹنگ نہیں کی۔جب انہدام شروع ہوا تو وزیراعظم کے دفتر میں بدحواسی کی حالت میں فون کالس آرہے تھے۔ اگر کانگریس راؤ کے خلاف الزامات سے انکار بھی کرتی تو پارٹی نے آج تک اس کی وضاحت نہیں کی کہ جس جگہ بھی مسجد تھی وہاں پر راتو ں رات ایک چھوٹامندر کیسے بن گیا۔

وہ جگہ پورح طرح مرکز کے کنٹرول میں تھی‘ کیونکہ صوبائی حکومت کی برطرفی کے بعد اترپردیش صدرراج کے تحت آگیاتھابہرحال بابری مسجد رام جنم بھومی معاملے ریاستی سرحدوں سے بالا تر ہوچکا تھااور مرکز روز کے حالات او رواقعا ت پر پوری طرح نذر رکھے ہوئے تھی۔ جسٹس من موہن سنگھ لبراہن کمیشن کی راؤ کے رویہ پر خاموشی کا مطلب ان کے او رکانگریس کے باہمی تعاون پر پردہ ڈالنا تھا۔ واقعہ کے ایک دن بعد مسجد کی تباہی پر جب میں نے اٹل بہاری واجپائی سے ان کا ردعمل دریافت کیا تو انہوں نے کہاکہ ’مندر بننے دیجئے‘ میں ان کے اس تبصرے پر حیرت زدہ تھا ‘کیونکہ میں انہیں بی جے پی میں اعتدال پسند طاقت سمجھتا تھا۔ درحقیقت لبرہن کمیشن نے واجپائی کا نام مسجد کے انہدام میں معاونین کے ہمراہ لیاتھا۔

جب وہ مسجد کو مسمار کرنے کی ہنر مندی سے منصوبہ بند اسکیم میں فریق تھے تو ان کا ردعمل مختلف کیوں ہوتا؟اس بات کا علم 6ڈسمبر 1992کو ہی ہوچکا تھا کہ بی جے پی کے دیگر لیڈران ایل کے اڈوانی او رمرلی منوہر جوشی سازش میں شریک تھے پ واجپائی کے نام پر مجھے حیرت ہوئی۔ واجپائی جب وزیر اعظم تھے تو بالکل بدلے ہوئے انسان تھے۔وہ دانشواروں اور صحافیوں سے بھری ہوئی بس لے کر لاہور گئے تھے ‘ اپنے ہمسایوں کو امن اور مفاہمت کا پیغام دینے کے لئے ۔قانونی چارہ جوئی نے ہمارے سیاسی نظام کو بے نقاب کردیاہے۔

کیوں کہ یہ تین ملک کے اعلی ترین منصوبوں پر فائز تھے۔واجپائی وزیر اعظم بنے ‘ ایل کے اڈوانی وزیر داخلہ اور مرلی منوہر جوشی فروغ انسانی وسائل کے وزیر بنائے گئے۔اگر یہ تینوں بابری مسجد کے انہدام میں معاون تھے تو وہ عہدے کا حلف اٹھانے میں غیر ایماندار تھے‘ جس کا تقاضا تھا کہ حلف بردار ملک کے اتحاد کے لئے کام کرے گا او رائین کا پابند رہے گا ‘ جو اپنی تمہید میں سکیولر ز م کاحوالہ دیتا ہے ۔لبراہن کمیشن نے کہاکہ وہ ان 68افراد میں سے تھے جو ملک کو فرقہ وارانہ منافرت میں جھونکنے کے لئے قابل گرفت ہیں۔

اتنا ہی نہیں بلکہ تینوں لیڈران ان حالات سابقہ سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے حکم کے منافی عمل میں ۔ دوسرے الفاظ میں انہو ں نے ملک کی عدلیہ کا مذاق اڑایااور ائین کا بھی جس کی انہوں نے اقتدار سنھالنے سے پہلے قسم کھائی تھی اور انہو ں نے ضمیر کی ملامت کے لئے بے نیازہوکر چھ سال تک حکومت کی ۔سوال صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ مسجد کی منصوبہ بندمسماری اور واجپائی اڈوانی اور جوشی کی اپنے عہدوں پر برقراری کو ایک ہی خانہ میں کیوں کر رکھا جاسکتا ہے؟۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے‘جس کا جواب تلاش کرنے کے لئے ملک کے عوام کو آپس میں مکالمہ ضرور کرنا چاہئے تھا۔ جن کے ہاتھ صاف نہیں ‘ انہیں پارلیمنٹ جیسے مندر کو آلودہ کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے۔

درایں اثناء آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر دعویدادروں کے درمیان تصفیہ کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔اپنے حالیہ دور ایودھیا کے موقع پر روحانی گرو نے کہاہے کہ یہ مسئلہ واہموں اور الزام تراشیوں کے بجائے مکالمے او رباہمی احترام سے حل کیاجاسکتا ہے ۔ یہا ں تک کہ یوپی کے وزیر اعلی یوگی ادتیہ ناتھ جن سے گرو کی ملاقات ہوئی ہے تمام ضروری مد ددینے سے اتفاق کیاہے۔یوپی کے وزیراعلی سے روحانی گرو کی ملاقات ترقی کے وعدوں کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کے ضمن میں بی جے پی کی انتخابی مہم کے آغاز کے پس منظر میں ہوئی۔ تاہم آر ایس ایس کے ایک بازو وشوا ہندو پریشد اور مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس مسئلے پر شری شری کی مداخلت کی پیشکش کو مستر د کردیا ہے ۔

بی جے پی قیادتت کے اندریہ محسو س کیاجارہا ے کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کے معاملے سپریم کورٹ پر چھوڑ دیاجائے جہاں پر 5ڈسمبرکو مقدمہ کی سماعت مقرر کی گئی تھی مگر اسکو ٹال کر فبروری تک بڑھادی گئی ہے۔رام مندر کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور میرا خیال ہے کہ قانونی کاروائی کو مکمل ہونے دیاجائے۔دیگر باتیں اس کے بعد ہوتی رہیں گی۔یہ بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو نے کہاہے۔ اسی طرح وی ایچ پی نے بھی رام جنم بھومی رام مندر تنازع کے حل کے لئے آرٹ آف لیونگ کے بانی کی کوشش پر سروکار ظاہر کیاہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ شری شری نے یہ اقدام کیاہو‘2001میں انہوں نے کوششیں کیں‘ لیکن ناکام رہے۔ وی ایچ پی کے جوائنٹ سکریٹری سریندر جین نے کہاتھا کہان کی کوششوں کے تئیں ردعمل ویسا ہی تھا جیسا آج ہے۔اصل رکاوٹ موہن بھگوات کا بیان ہے کہ ایودھیا میں مندر ہی بنے گا اور کچھ نہیں۔جب مسلمان کم وبیش کے قبول کرچکے ہیں کہ مندر مسجد کیسے برابر میں تعمیر کیے جاسکتے ہیں تو آر ایس ایس سربراہ کے ماتم کو کوئی جواز نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT