Friday , November 17 2017
Home / شہر کی خبریں / منسوخ شدہ کرنسی کی محفوظ منتقلی کے لیے کوشاں

منسوخ شدہ کرنسی کی محفوظ منتقلی کے لیے کوشاں

قرض کی ادائیگی غریب رشتہ داروں کی رہن اشیاء کی بازیابی
حیدرآباد۔6۔ڈسمبر ( سیاست نیوز ) ملک میں کرنسی کی تنسیخ کے بعد جو حالات پیدا ہو رہے ہیں ان میں لوگ اپنے پاس موجود 1000اور 500کی منسوخ کرنسی کو تبدیل کروانے کے علاوہ دیگر ذرائع تلاش کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ملک میں موجود مخصوص تجارتی طبقہ اس صورتحال سے نکلنے کیلئے اپنی برادری میں موجود مقروض افراد کے قرض کی ادائیگی میں مصروف ہیں اور وہ اس سلسلہ میں سرگرم رول ادا کرتے ہوئے مقروض افراد کے قرض ادا کرتے ہوئے اپنے پاس موجود منسوخ کرنسی کی محفوظ منتقلی انجام دے رہے ہیں۔ دونوں شہروں کے کئی تاجرین جن کا تعلق مخصوص برادری سے ہے کی جانب سے اپنے ملازمین اور غریب رشتہ داروں کی جائیدادیں یا زیورات جو بینکوں میں جمع کرتے ہوئے قرض حاصل کیا گیا ہے ان کے زیورات و جائیدادیں بینکوں سے چھڑا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہی صورتحال ملک کے دیگر شہروں میں بھی ہے جہاں بینکوں میں موجود جائیدادوں و اثاثوں کو چھڑانے کیلئے تجارتی طبقہ ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کوشاں ہیں۔ذرائع کے بموجب ان تاجرین نے جن کے پاس غیر محسوب رقومات موجود تھیں انہوں نے اس کی تبدیلی کیلئے محفوظ راہیں نکال لی ہیں جبکہ ملک کا اقلیتی طبقہ اب بھی اس انتظار میں ہے کہ کہیں کوئی راہ نکل آئے لیکن تجارتی طبقہ جو ہر شعبہ پر اپنا گہرا اثر رکھتا ہے اور سودی معاملتوں و منافع کے متعلق ہمیشہ متفکر رہتا ہے نے غیر محسوب رقومات کو بینک تک قرض کی ادائیگی کیلئے پہنچاتے ہوئے جو راہ نکالی ہے اس سے نہ صرف انہیں فائدہ حاصل ہو رہا ہے بلکہ ان لوگوں کو بھی زبردست فائدہ حاصل ہو رہا ہے جو بینک میں اثاثہ جات رکھتے ہوئے بھاری سود ادا کرنے پر مجبور تھے لیکن اب انہیں اپنے اثاثہ جات چھڑوانے کے علاوہ بینک کے سود سے بھی چھٹکارہ حاصل ہو گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جن مقروض لوگوں کے قرضہ جات کی ادائیگی کے بعد جو جائیدادوں کے دستاویزات یا سونا و زیورات واپس حاصل ہو رہے ہیں انہیں قرض کی رقم دینے والے افراد اپنے پاس رکھ رہیں ہیں تاکہ قرض دہندہ جملہ رقم ادا کرتے ہوئے اپنے اثاثہ حاصل کرلے لیکن اس پر کوئی سود نہیں لگے گا۔اقلیتی طبقہ کی جانب سے بھی ایسا کئے جانے کی صورت میں کئی لوگوں کا سونا جو بینکوں میں جمع ہے وہ بینکوں سے نکالتے ہوئے انہیں سود کی رقم کی ادائیگی سے محفوظ کیا جا سکتا ہے اور ایسی صورت میں نہ صرف وہ فائدہ میں رہیں گے بلکہ مقروض افراد کو سود کی لعنت سے بچاتے ہوئے انہیں راحت بھی پہنچائی جا سکتی ہے اور ان کے پاس موجود غیر محسوب رقومات کی قرض کی ادائیگی میں محفوظ منتقلی بھی ممکن ہو جائے گی۔دونوں شہروں میں دیکھے جا رہے رجحان کے مطابق ٹھوک بیوپاری طبقہ اپنی غیر محسوب دولت کوتبدیل کروانے میں کامیاب ہو چکا ہے جبکہ اقلیتی طبقہ کے وہ تاجرین جو غیر محسوب رقومات رکھتے ہیں وہ ابھی تک اپنی دولت تبدیل کروانے کے متعلق راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT