Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / منشیات کیس میں فلم انڈسٹری کو نشانہ بنانے کی تردید

منشیات کیس میں فلم انڈسٹری کو نشانہ بنانے کی تردید

تحقیقات کا محکمہ اکسائز کو مکمل اختیار ‘ اکسائیز انفورسمنٹ ڈائرکٹر اکون سبھروال کا بیان
حیدرآباد ۔ 24جولائی ( سیاست نیوز) اکسائیز انفورسمنٹ ڈائرکٹر اکون سبھروال نے کہا کہ منشیات کیس میں تحقیقات کرنے کا محکمہ اکسائیز کو مکمل اختیارات ہیں ۔ فلم انڈسٹری کو ٹارگٹ کرنے کی تردید کی ۔ آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکون سبھروال نے کہا کہ قانون نارکوٹیک ڈرگس 1985کے تحت منشیات معاملت کی تحقیقات کرنے اور پوچھ تاچھ کرنے کا محکمہ اکسائیز کو اختیار ہے ۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 2016ء میں جاری کردہ جی اوز کا بھی حوالہ دیا ۔ اکسائیز انفورسمنٹ کے ڈائرکٹر نے بتایا کہ تحقیقات اور نوٹس وصول کرنے والوں سے پوچھ تاچھ کرنے کے معاملہ میں اکسائیز عہدیداروں نے سپریم کورٹ کے رہنمایانہ اصول کے دائرے میں رہ کرکام کررہے ہیں ‘ کبھی قانون اور قواعد کی حد پار کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے عمدہ ٹیکنکس کا پوچھ تاچھ میں استفادہ کیا جارہا ہے ۔ پوچھ تاچھ کیلئے چار سینئر و تجربہ کار عہدیداروں کی خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔ اکون سبھروال نے کہا کہ جس سے بھی پوچھ تاچھ کی جارہی ہے اس کی مکمل ویڈیو گرافی کی جارہی ہے ۔ پوچھ تاچھ کیلئے ایس آئی ٹی سے رجوع ہونے والوں کی رضامندی سے ہی خون کے نمونے ‘ سر کے بال اور پیر کے ناخن حاصل کئے جارہے ہیں کسی سے کوئی زبردستی نہیں کی جارہی ہے ۔ اگر کوئی نمونے دینے سے انکار کرتے ہیں تو اس کو ڈیکلریشن میں حاصل کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے منشیات لینے والے کمسن بچوں کے ناموں کا انکشاف کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ کا مستقبل خراب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ کونسلنگ کے ذریعہ کمسن طلبہ کو اس لعنت سے چھٹکارا دلانے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی ۔ منشیات کے غلام بچوں کے والدین اور سرپرستوں سے اس سلسلہ میں بات کی جائیگی ۔ فلم ہیروئن چارمی کی جانب سے پوچھ تاچھ کرنے والے عہدیداروں کی ٹیم میں خاتون آفیسر کی موجودگی کو یقینی بنانے ہائیکورٹ سے کی گئی اپیل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اکون سبھروال نے کہا کہ ابھی تک کی گئی پوچھ تاچھ میں خاتون آفیسر کو شامل رکھا گیا ہے ‘ انہیں جان سے ماردینے کی دھمکی آمیز ٹیلیفون کالس وصول ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کا کوئی خوف نہیں ہے ۔ وہ پوری طرح محفوظ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت منشیات کی فروخت ‘ خریدی ‘ پاس رکھنا ‘ دوسروں کو اس کا عادی بنانا اور استعمال کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔ منشیات کیس میں ابھی تک 27 افراد سے پوچھ تاچھ کی گئی جن میں صرف 5 افراد کا فلم انڈسٹری سے تعلق ہے ۔اکون سبھر وال نے آج ڈی جی پی انوراگ شرما سے بھی ملاقات کی ۔

TOPPOPULARRECENT