Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / منشیات کی تجارت میں دہشت گرد گروپس کی شمولیت سے خطرناک صورتحال

منشیات کی تجارت میں دہشت گرد گروپس کی شمولیت سے خطرناک صورتحال

The Union Home Minister, Shri Rajnath Singh distributing the certificate to a youth representative at the inauguration of a three-day workshop on Sub-Regional Drug ‘Focal Point Meeting and DDR Expert Group Consultation, South Asia under Colombo Plan Drug Advisory Programme’, in New Delhi on September 09, 2015. The Minister of State for Home Affairs, Shri Haribhai Parthibhai Chaudhary is also seen.

اسمگلرس کی سرکوبی کیلئے بین الاقوامی قوانین میں یکسانیت کی ضرورت، مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا خطاب
نئی دہلی ۔ 9 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) منشیات کی اسمگلنگ میں دہشت گرد گروپس کے ملوث ہونے پر خبردار کرتے ہوئے ہندوستان نے آج کہا کہ قومی اور بین الاقوامی و قوانین میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سزا کو یقینی بنایا جائے اور وہ قانون کی گرفت سے بچ نہ سکیں۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ منشیات کی اسمگلنگ سے ہندوستان کو زبردست خطرہ درپیش ہے کیونکہ یہ افیون کی کاشتکاری کے علاقہ سے گھیرا ہوا ہے اور متعلقہ اداروںکو موثر طریقہ پر اس مسئلہ سے نمٹنے کی ضرورت ہے ۔ جنوبی ایشیاء میں منشیات کی لعنت اور اسکی طلب میں تخفیف پر ماہرین کے ایک مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ عالمی سماج کو منشیات کے بیجا استعمال کا سنگین مسئلہ درپیش ہے جو کہ سماجی ، معاشی اور سیاسی استحکام اور ٹھوس ترقی  کیلئے مضرت رساں ثابت ہورہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات کی ناجائز تجارت میں مختلف دہشت گروپوں اور سنڈیکیٹس کے ملوث ہونے سے نارکوئیررازم کی شکل میں مملکتوں کی قومی سلامتی اور خود مختاری کیلئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ عالمی معیشت کی ترقی اور فروغ کے باعث منشیات کے اسمگلرس متفرق نوعیت کی منشیات بہ آسانی، ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل کر رہے ہیں اور ناجائز کاروبار کو وسعت دینے کیلئے سماج کے مختلف افراد کو اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں۔

 

یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ منشیات کی اسمگلنگ اب عالمی مسئلہ بن گیا ہے۔ مسٹر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی قوانین میں یکسانیت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ناجائز تجارت کی حوصلہ شکنی کی جاسکے ۔ بصورت دیگر یہ اسمگلرس قانون کی گرفت سے بچ نکل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ہندوستان افیون کی کاشتکاری علاقہ میں گھرا ہوا ہے جس کے باعث وہ سنگین خطرہ سے دوچار ہے اور نوجوانوں میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت تشویشناک ہوگئی ہے ۔ وزیر داخلہ نے منشیات سے متاثرہ تمام ممالک سے اپیل کی کہ بین الاقوامی مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ایک مشترکہ طریقہ کار اختیار کریں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت سے منشیات کے خطرہ سے بخوبی واقف ہے اور اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے پڑوسی ممالک کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہے اور اس مقصد کیلئے باہمی معاہدوں ، انسداد دہشت گردی کیلئے مشترکہ ورکنگ گروپس، جوڈیشیل تعاون کیلئے پیشرفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو اور دیگر ادارے اس خطرہ سے نمٹنے کے اہل ہیں اور اسمگلرس کی سرکوبی کیلئے پڑوسی ملک کی انٹلیجنس سے تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT