Tuesday , November 13 2018
Home / Top Stories / منصوبہ بندی کمیشن میں تبدیلیوں پر وسیع تر اتفاق رائے

منصوبہ بندی کمیشن میں تبدیلیوں پر وسیع تر اتفاق رائے

نئی دہلی ۔ 7 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) منصوبہ بندی کمیشن کی جگہ نیا ادارہ قائم کرنے کے مسئلہ پر غور کرنے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے طلب کردہ چیف منسٹروں کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے دیکھا گیا کہ ریاستوں کو مزید اختیارات اور منصوبہ بندی کا حق دیا جانا چاہئے تاہم کانگریس نے 65 سال سے کام کر رہے اس ادارہ کو برخواست کرنے کی شدید مخا

نئی دہلی ۔ 7 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) منصوبہ بندی کمیشن کی جگہ نیا ادارہ قائم کرنے کے مسئلہ پر غور کرنے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے طلب کردہ چیف منسٹروں کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے دیکھا گیا کہ ریاستوں کو مزید اختیارات اور منصوبہ بندی کا حق دیا جانا چاہئے تاہم کانگریس نے 65 سال سے کام کر رہے اس ادارہ کو برخواست کرنے کی شدید مخالفت کی ہے ۔ یوم آزادی کے موقع پر اپنے اعلان کو عملی شکل دیتے ہوئے وزیر اعظم نے چیف منسٹروں کے ساتھ اپنی قیامگاہ پر تقیربا سات گھنٹوں تک غور و خوض کیا ۔ مودی نے ایک ایسا موثر ڈھانچہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں تعاون پر مبنی وفاقیت ہو اور ٹیم انڈیا کا تصور ابھرے ۔ انہوں نے اپنے پیشرو ڈاکٹر منموہن سنگھ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ منموہن سنگھ نے بھی جاریہ سال 30 اپریل کو کہا تھا کہ موجودہ ڈھانچہ میں مابعد اصلاحات کے عمل میں مستقبل کا کوئی ویژن نہیں ہے ۔

مغربی بنگال ‘ میزورم اور انتخابات ہو رہی ریاستوں جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ کے سوا تمام دوسری ریاستوں کے چیف منسٹروں نے اجلاس میں شرکت کی جہاں وزیر فینانس ارون جیٹلی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی موجود تھے ۔ میڈیا کو بعد ازاں واقف کرواتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ اس بات پر وسیع تر اتفاق رائے تھا کہ حالات بدل چکے ہیں اور اب ضرورت ہے کہ اختیارات اور منصوبہ بندی دونوں کو غیر مرکوز کیا جائے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ایسی کوئی یکطرفہ اسکیم نہیں ہوسکتی جو تمام ریاستوں کیلئے فائدہ مند ہو انہوں نے کہا کہ مرکزی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے ایک ہی طریقہ کار سب ریاستوں کیلئے سود مند نہیں ہوسکتا ۔

انہوں نے کہا کہ اصل حکمت عملی یہ ہے کہ ریاستوں کو با اختیار بنایا جائے تاکہ وہ خود اپنی مخصوص ضرورتوں کی تکمیل کرسکیں۔ انہوں نے کسی وقت کا تعین نہیں کیا کہ کب نیا ادارہ وجود میں آئیگا اور کہا کہ مرکزی حکومت مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے بعد غور و فکر کے ذریعہ فیصلہ کریگی ۔ تاہم اس بات کے اشارے بھی ہیں کہ نئے ادارہ کو آئندہ سال 26 جنوری سے قبل قطعیت دیدی جائیگی ۔ اس ادارہ میں خانگی شعبہ کا رول بھی ہوسکتا ہے ۔ کانگریس کے چیف منسٹروں نے منصوبہ بندی کمیشن کو برخواست کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ موجودہ ادارہ کو از سر نو کارکرد بنایا جانا چاہئے ۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے بعد ازاں میڈیا کو بتایا کہ منصوبہ بندی کمیشن کو ختم کرنا غیر ضروری ‘ تنگ نظری اور خطرناک ہوگا کیونکہ اس کے مرکز ۔ ریاست تعلقات پر دور رس منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کمیشن کو سیاسی طور پر دفن کرنے کی بجائے از سر نو موثر بنایا جانا چاہئے ۔ اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا کہ منصوبہ بندی کمیشن کے رول ‘ اس کی اہمیت اور اس کی تنظیم جدید کا سوال گذشتہ دو دہوں میں کئی مرتبہ پوچھا گیا ہے ۔

یہ واضح کرتے ہوئے کہ جب تک ریاستیں ترقی نہیں کرینگی ملک ترقی نہیں کرسکتا انہوں نے اجلاس میں کہا کہ پالیسی منصوبہ بندی کو اوپر سے نیچے تک اور نیچے سے اوپر تک بدلنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئے ادارہ میں ریاستوں کو اہم رول ملنا چاہئے انہوں نے کہا کہ بعض موقعوں پر ریاستوں کا یہ احساس ہوتا ہے کہ انہیں اپنے خیالات ظاہر کرنے کا کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے ۔ ایسے میںایک ایسا موثر میکانزم ہونا چاہئے جو بین ریاستی تنازعات کو حل کرسکے ۔ تعاون پر مبنی وفاقیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی منظر نامہ ہندوستان کیلئے موقع فراہم کرسکتا ہے کہ وہ آگے بڑھے ۔ ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب کمیشن کو بدل دیا جائے جس کا مقصد یہ ہو کہ ملک کی صلاحیتوں کو فروغ مل سکے ۔ اجلاس میں کانگریس اقتدار والی ریاستوں کے چیف منسٹروں نے کمیشن کو مستحکم کرنے اور اس میں نئی جان ڈالنے کی وکالت کی اور اس کو ختم کرنے کی مخالفت کی جبکہ آل انڈیا انا ڈی ایم کے اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے اقتدار والی ریاستوں نے فوری کمیشن کو برخواست کرنے پر زور دیا ۔

TOPPOPULARRECENT