Monday , December 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / منعم کی یاد، شکرِ نعمت کی علامت ہے

منعم کی یاد، شکرِ نعمت کی علامت ہے

ناشکری بہت بُری چیز ہے، اس سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری سے اللہ تعالی سخت ناراض ہوتا ہے۔ اس بارے میں اللہ تعالی کی ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کفر کی وجہ سے نعمتیں نہیں چھینتا، لیکن کفران نعمت کی وجہ سے چھین لیتا ہے۔ اگر تم کسی کو دیکھو کہ ناشکرا ہونے کے باوجود اس سے نعمتیں نہیں چھینی جا رہی ہیں، تو یہ اور بھی خطرناک صورت حال ہے۔ سمجھ لو کہ اس کو ڈھیل دی جا رہی ہے اور اس کی لگام اس طرح کھنچنے والی ہے کہ جبڑے ہی چرکر رہ جائیں گے اور وہ سخت عذاب میں مبتلا ہونے والا ہے۔
ہمیں دین و دنیا کی جو چیز بھی ملی ہے، جیسے ہوا، پانی، روشنی، گھردار، ماں باپ، بہن بھائی، بیوی بچے، نوکر چاکر، مال و اسباب، زر زمین، سردی گرمی، دین، ایمان، توفیق عبادت، انتخاب خیر، اجتناب شر، خوف خدا، اندیشۂ آخرت، یہ سب اللہ تعالی کی نعمتیں ہیں، یہاں تک کہ سانس کا آنا اور جانا بھی نعمت ہے۔ سانس نہ آئے تو موت ہے اور آکر نہ جائے تو بھی موت ہے۔ زندگی کے لئے اس کا آنا بھی ضروری ہے اور جانا بھی ضروری ہے، اسی وجہ سے حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ’’ہر سانس پر دو شکر واجب ہیں، ایک اس کے آنے کا اور ایک اس کے جانے کا شکر‘‘ اس لئے ہمارا ایک ایک لمحہ اللہ تعالی کی شکر گزاری میں بسر ہونا چاہئے۔
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے ادائے شکر کو بڑی خوبی سے سمجھایا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرو۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر چیز کی تخلیق کے اغراض و مقاصد معلوم کرلو کہ کونسی چیز کس مقصد کے لئے وجود میں لائی گئی ہے اور ہمیں کس مقصد کے لئے دی گئی ہے اور پھر اس کو اسی مقصد کے لئے استعمال کرو۔ مثلاً آنکھ ایک نعمت ہے، اس کو اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق استعمال کرو، اس کی مرضی کے خلاف مت استعمال کرو۔ اسی طرح تمام خواس خمسہ کو، عقل کو، دل کو، دماغ کو اور قلب کو اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا شکر ہے‘‘۔
شکر نعمت کی علامت یہ ہے کہ ’’منعم کی یاد زیادہ سے زیادہ آتی رہے‘‘۔ ہر انسان کو شکر گزاری کی عادت ڈالنا چاہئے اور ہر وقت اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے، جس کے بڑے فائدے ہیں۔ شکر کی وجہ سے آدمی گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے، شکر گزار بندوں سے گناہ صادر نہیں ہوتے، اگر ہوتے بھی ہیں تو بہت کم ہوتے ہیں۔ شکر ہی کی وجہ سے کئی اخلاق سیئہ مثلاً تکبر، حسد، حرص و ہوس، بدنگاہی، بے شرمی جیسے امراض قلبی سے نجات مل جاتی ہے۔

شکر کی عادت ڈالنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے اور صبح کو جاگنے کے بعد ایک منٹ کے لئے اللہ تعالی کی نعمتوں کا خیال کرکے، ذہن میں ان کا استحضار کرلیا جائے، پھر تمام نعمتوں پر دل ہی دل میں یا زبان سے ’’الحمد للہ‘‘ کہہ کر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں۔ اسی طرح جب بھی کوئی نعمت میسر آجائے یا کسی بات سے لذت و مسرت حاصل ہو، یا کوئی اچھی خبر ملے، یا کسی کارخیر کی توفیق نصیب ہو، نماز ادا ہو جائے یا کوئی نیک کام کرلیا جائے تو اس پر بھی ’’الحمد للّٰہ‘‘ یا ’’الحمد للّٰہ الذی ھدانا لھذا‘‘ یا ’’اللّٰھم لک الحمد ولک الشکر‘‘ زبان سے یا دل ہی دل میں کہہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
اگر کوئی نابینا نظر آجائے تو فوراً زبان سے یا دل ہی دل میں اپنی آنکھوں اور بینائی پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالی نے کتنی بڑی نعمت میرے مانگے بغیر مجھے عنایت فرمائی ہے۔ کوئی اپاہج نظر آجائے تو اپنے حصول عافیت کا شکر ادا کریں، کوئی بیمار دکھائی دے تو اپنی صحت پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں۔ اس طرح شکرگزار بن جانے کی وجہ سے آپ میں عاجزی و انکساری پیدا ہوگی۔ یہ تکبر کا بہترین علاج ہے اور تکبر وہ چیز ہے، جس کی وجہ سے آدمی فوراً اللہ تعالی کے غضب کا مستحق ہو جاتا ہے۔ شکرگزاری کی وجہ سے آپ کا تعلق اللہ تعالی سے قائم ہو جائے گا۔ آپ اللہ تعالی کا ذکر کرنے والے اور ہر وقت اسے یاد رکھنے والے بن جائیں گے۔ اس طرح آپ اس کے دامن رحمت اور ردائے فضل و کرم میں آجائیں گے اور آپ پر اللہ تعالی کی نعمتیں بارش کی طرح برسنے لگیں گی۔ یہاں ایک بات اور خوب اچھی طرح سمجھ لیں اور یاد رکھیں کہ ’’شکر حاصل نعمتوں کی زنجیر اور ناحاصل نعمتوں کا شکاری ہے‘‘۔ شکر سے حاصل شدہ نعمتیں محفوظ ہو جائیں گی اور ناحاصل نعمتیں حاصل ہو جائیں گی۔ نعمتوں کے لئے اللہ تعالی کے ارشاد ’’لَاَزِیْدَنَّکُمْ‘‘ کے عمومِ لفظ سے ازدیادِ نعمت ہی نہیں، بلکہ توفیق ِشکر اور ثواب ِشکر بھی مراد لئے جاسکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اگر تم نے شکر ادا کیا تو میں تمھیں ضرور بالضرور اور زیادہ نوازوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو یاد رکھو میرا عذاب بڑا سخت ہے‘‘ (سورۂ ابراہیم۔۷) قربان جائیے ارحم الراحمین کی شانِ رحم و کرم پر، ناراض اور غضب کے ساتھ اس کی شانِ رحمت کیسی قابلِ دید ہے۔ شکر کے لئے تو فرمایا: ’’میں ضرور بالضرور اور زیادہ نوزوں گا‘‘ لیکن ناشکری کے لئے ’’میں ضرور تمھیں عذاب دوں گا‘‘ نہیں فرمایا، صرف اپنے عذاب کی یاددہانی فرمادی۔ گویا تعذیب میں تسکین کی ایک کھڑکی بھی کھول دی، یعنی عذاب میں مبتلا ہونا ضروری نہیں، توبہ و استغفار سے معاف بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ شانِ ارحم الراحمینی ہے۔ سبحان اللہ! یہ ہے ’’سبقت رحمتی علی غضبی‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر!۔ بہرحال ہمیں ہر وقت، ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بن کر رہنا چاہئے۔ اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، ہر حال میں بکثرت اس کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مزید نعمتوں سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا شکرگزار بندہ بنائے۔ (آمین) (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT