Saturday , January 20 2018
Home / Top Stories / منموہن ،وزراء کے آگے بے بس

منموہن ،وزراء کے آگے بے بس

٭ وزارت کوئلہ میں اصلاحات کو وزراء نے خود ناکام بنادیا ٭ ارکان پارلیمنٹ کا ’’بلیک میل ‘‘ تقررات کیلئے رقمی تقاضہ ٭ عہدیداروں کیلئے دیانتداری سے کام کرنا ممکن نہیں ،سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پارکھ

٭ وزارت کوئلہ میں اصلاحات کو وزراء نے خود ناکام بنادیا
٭ ارکان پارلیمنٹ کا ’’بلیک میل ‘‘ تقررات کیلئے رقمی تقاضہ
٭ عہدیداروں کیلئے دیانتداری سے کام کرنا ممکن نہیں ،سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پارکھ

نئی دہلی۔ 14 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )ایک ریٹائرڈ سرکردہ عہدیدار نے آج وزیراعظم منموہن سنگھ کی بے بسی کی واضح تصویر کھینچتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے وزراء پر کنٹرول کرنے کے موقف میں نہیں تھے جنھوں نے وزارت کوئلہ میں اُن کی اصلاحات کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ انھوں نے ارکان پارلیمنٹ کو ’’بلیک میل کرنے والے اور جبری رقم وصول کرنے والوں ‘‘ سے تعبیر کیا۔ سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پارکھ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ عوامی شعبے کے اداروں میں ڈائرکٹرس اور سی ای او کے تقرر کے لئے کھلے عام رقم کا تقاضہ کیا جاتا ہے ۔ 68 سالہ پی سی پارکھ ڈسمبر 2005 ء میں خدمات سے سبکدوش ہوئے ۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کئی وزرائے کوئلہ بشمول شبھو سورین اور داسری نارائن راؤ کے علاوہ کئی ارکان پارلیمنٹ نے بلا وابستگی سیاسی جماعت وزارت کوئلہ میں اصلاحات کو روک دیا ۔ حالانکہ ان اصلاحات کو آگے بڑھانے کیلئے وزیراعظم منموہن سنگھ کی بھرپور تائید حاصل تھی ۔ اگر اصلاحات کا عمل جاری رہتا تو کوئلہ اسکام کو روکا جاسکتا تھا ۔ پی سی پارکھ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان دو وزراء نے کوئلہ بلاکس کو کھلے ہراج کے ذریعہ حوالے کرنے اُن کی تجویز کی یکسر مخالفت کی تھی۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وزیراعظم اس تجویز کے بارے میں اپنے وزراء کو کنٹرول نہیں کرپارہے تھے ۔ یہ تجویز 2004 ء میں انھوں نے پیش کی تھی ۔

انھوں نے وزارت کوئلہ میں دیکھا کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائیزس (پی ایس ای ) کے چیف ایکزیکٹیوز اور ڈائرکٹرس کا کس طرح تقرر کیا جاتا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ڈائرکٹرس اور سی ای اوز کے تقرر کے لئے رقم کا کھلے عام تقاضہ کیا جاتا ہے ۔ انھوں نے کئی ارکان پارلیمنٹ کو بلیک میل اور جبری رقم وصول کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ عہدیداروں کو بلیک میل کرتے ہیں ، وہ سرکاری کمپنیوں کے سی ای اوز کو بلیک میل کرتے ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ کس طرح وزراء نے وزیراعظم کے فیصلے کو اُلٹ دیا۔ حالانکہ انھوں نے کول بلاکس کو انٹرنیٹ پر مبنی ہراج سے اتفاق کیا تھا۔ پی سی پارکھ نے آج اُن کی کتاب ’’بچانے والا یا سازشی؟ کولگیٹ اور دیگر سچائیاں ‘‘کی رسم اجراء کے بعد یہ بات کہی ۔ پارکھ نے کہا کہ یہاں ایسا ماحول تیار کیا جاتا ہے جن میں سرکاری ملازمین کے لئے ایمانداری اور وقار کے ساتھ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اُن کے دور میں بحیثیت کول سکریٹری جو کچھ بھی پیشرفت ہوسکتی تھی وہ اُسی وقت ہوئی جب وزیراعظم اس وزارت کے انچارج تھے ۔ جس وقت وہ وزارت کوئلہ میں تھے وزیراعظم نے اُن کی بھرپور معاونت کی ۔ وزارت کوئلہ میں جو کچھ تبدیلیاں آئیں وہ صرف وزیراعظم کی وجہ سے تھیں ۔ انھوں نے وزارت کوئلہ میں اصلاحات کی بھی تائید کی تھی اور ہم منموہن سنگھ کے سرگرم رول کی وجہ سے ہی کافی کچھ کام کرپائے ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ اگر اصلاحات پر پیشرفت ہوتی تو کیا کئی کروڑ کے کوئلہ اسکام کو روکا جاسکتا تھا ؟ تو انھوں نے اثبات میں جواب دیا۔ پی سی پارکھ سی بی آئی کی جانب سے تحقیقات کئے جارہے کولگیٹ کے سلسلے میں ایک ایف آئی آر میں ملزم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوئلہ بلاکس کو کھلی مارکٹ اور ای مارکٹنگ کے ذریعہ جیسا کہ تجویز پیش کی گئی تھی ہراج کو یقینی بنایا جاتا تو یقینا ایسا کوئی اسکام نہ ہوتا ۔

TOPPOPULARRECENT