Sunday , October 21 2018
Home / سیاسیات / منموہن سنگھ اور حامد انصاری سے وزیر اعظم معذرت کریں

منموہن سنگھ اور حامد انصاری سے وزیر اعظم معذرت کریں

مودی نے سیاسی اختلاف کو ناقابل قبول حد تک گرا دیا ۔ کانگریس ترجمان آنند شرما کا رد عمل
نئی دہلی 11 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری سے معذرت کریں اور اپنے اس بیان سے دستبرداری اختیار کریں جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ لوگ گجرات میں بی جے پی کو شکست دینے پاکستان سے ساز باز کر رہے ہیں۔ کانگریس کے سینئر ترجمان آنند شرما نے وزیر اعظم پر سیاسی اختلاف کو ناقابل قبول حد تک گراوٹ کا شکار کردینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ ایسے بیانات دے رہے ہیں جن سے ان کے عہدہ کا وقار متاثر ہو رہا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ انہیں گجرات میں بی جے پی کی شکست واضح نظر آ رہی ہے اور وہ ناشائستہ زبان کے استعمال پر اتر آئے ہیں تاکہ جذبات کو بھڑکاتے ہوئے گجرات کو تقسیم کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے جو بیان دیا ہے اس کی کوئی وضاحت نہیں ہوسکتی اور اس کیلئے کوئی اور ذمہ دار نہیں ہوسکتا ۔ آنند شرما نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ سیاسی اختلاف کا احترام بحال کریں ‘ جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس سے دستبرداری اختیار کریں اور سابق وزیر اعظم و سابق صدر جمہوریہ سے معذرت خواہی کریں۔ مودی نے کل ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ادعا کیا تھا کہ کانگریس قائدین نے پاکستانی حکام سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی کو گجرات میں شکست دینے کی ساز باز کی ہے ۔ آنند شرما نے مودی کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا اور اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مودی ایک ایسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جس کا ملک کی جدوجہد آزادی میں کوئی رول نہیں رہا جبکہ کانگریس نے ملک کی جنگ آزادی لڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہند سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اختلاف کو بہتر انداز میں پیش کریں اور وزیر اعظم کو یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کانگریس ان لوگوں پر الزامات عائد نہیں کرتی اور نہ شکوک کا اظہار کرتی ہے جو اعلی عہدوں پر فائز رہتے ہیں۔ شرما نے کہا کہ مودی خود کو مجبور ظاہر کرکے ہمدردی حاصل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ مودی اور ان کی پارٹی سیاسی اختلاف کو انتہائی نچلی سطح پر لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف ایک سماجی تقریب میں شرکت کو انتہائی ناپاک اور سنسنی خیز موڑ نہیں دیا جانا چاہئے ۔ اس تقریب میں کئی بڑی شخصیتیں بھی موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی خفیہ ملاقات بھی نہیں تھی ۔ انہوں نے سوال کیا کہ مودی انتخابات میں کیوں نہیں ترقی اور معاشی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ؟ ۔

TOPPOPULARRECENT