Monday , September 24 2018
Home / ہندوستان / منموہن سنگھ سے متعلق سابق سی اے جی کے ریمارکس سنگین

منموہن سنگھ سے متعلق سابق سی اے جی کے ریمارکس سنگین

حقیقی صورتحال اب ابھر کر سامنے آ رہی ہے ۔ مرکزی وزیر اطلاعات پرکاش جاوڈیکر کا بیان

حقیقی صورتحال اب ابھر کر سامنے آ رہی ہے ۔ مرکزی وزیر اطلاعات پرکاش جاوڈیکر کا بیان
نئی دہلی 12 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات مسٹر پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ سابق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ونود رائے نے 2G اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور کوئلہ بلاکس الاٹمنٹ اسکام میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے رول کے تعلق سے جو ریمارکس کئے ہیں وہ سنگین ہیں اور ایک حققیی تصویر اب ابھرتی جا رہی ہے ۔ مسرٹ جاوڈیکر نے کہا کہ ونود رائے کے ریمارکس سے واضح ہوگیا ہے کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں تھا ۔ یہ ایک حقیقت ہے ۔ اصل اختیارات 10 جن پتہ ( سونیا گاندھی کی قیامگاہ ) پر تھے ۔ اس تعلق سے جو حقیقی تصویر ہے وہ اب ابھر کر سامنے آ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس وقت کے وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح کریں کیوں ایک کے بعد ایک کرپشن کے مقدمات سامنے آئے ہیں اور وہ ( منموہن سنگھ ) یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتے ۔ ایسا نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے ونود رائے کے ریمارکس سنگین نوعیت کے ہیں۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ونود رائے ایک کامیاب کمپٹرولر و آڈیٹر جنرل رہے ہیں جنہوں نے جو کچھ بھی بے قاعدگیاں رہی ہیں انہیں بے نقاب کیا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ دولت مشترکہ گیمس اسکام میں کرپشن ہے ‘ 2G اور کوئلہ اسکامس میںکرپشن ہے تو ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اتحادی حکومت نہیں بلکہ اتحادی کرپشن تھا ۔ کوئلہ الاٹمنٹ اسکام کے تعلق سے مسٹر جاوڈیکر نے کہا کہ اس اسکام میں خود انہوں نے شکایت درج کروائی تھی جس کے بعد سی بی آئی تحقیقات کا آغاز ہوا ہے ۔ اس وقت یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کچھ کمپنیوں کو کوئلہ بلاکس کیوں الاٹ کئے گئے ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا تھا کہ کچھ کمپنیوں کو یہ بلاکس کیوں الاٹ نہیں کئے گئے تھے ۔ سابق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ونود رائے سی اے جی کی حیثیت سے اپنے دور پر ایک کتاب تحریر کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ان کا یہ خیال تھا کہ 2G ٹیلیکام اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں بھی وزیر اعظم کا رول رہا ہے اور کوئلہ بلاکس بھی پہلے آو پہلے پاؤ کی اساس پر کسی ہراج کے بغیر الاٹ کردئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ 2G اور کوئلہ بلاکس الاٹمنٹ میں منموہن سنگھ بری الذمہ نہیں ہوسکتے ۔ 2G اسکام میں اس وقت کے وزیر ٹیلیکام اے راجہ نے مکتوبات روانہ کئے تھے اور وزیر اعظم نے ان کا جواب بھی دیا تھا ۔ جہاں تک انہوں ( ونود رائے ) نے تفصیلات معلوم کرنے مکتوب روانہ کئے تھے ان کا انہیں کوئی جواب نہیں ملا تھا ۔ وزیر اعظم سے ایک موقع پر ملاقات ہوئی اور اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ان سے جواب کی امید نہ رکھی جائے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT