Monday , July 23 2018
Home / ہندوستان / منموہن سنگھ نے اپنی حکمرانی میں ’منظم لوٹ‘ کو صرفِ نظر کیا

منموہن سنگھ نے اپنی حکمرانی میں ’منظم لوٹ‘ کو صرفِ نظر کیا

نوٹ بندی پر سابق وزیراعظم کی شدید تنقید حیرانی کا باعث، نرملا سیتارامن کا ردعمل
چینائی۔8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر دفاع نرملا سیتا رامن نے آج منموہن سنگھ پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سابق وزیراعظم نے اس وقت منظم لوٹ کھسوٹ سے صرف نظر کیا جب وہ خود اقتدار کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے اور اب وہ نوٹ بندی کے ناقد بنے ہوئے ہیں۔ نوٹ بندی کے اقدام کو منظم لوٹ اور قانونی طور پر فاش غلطی قرار دینے پر ڈاکٹر سنگھ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے نرملا نے اس اقدام کے خلاف سابق وزیراعظم کی طرف سے اس قدر شدید الفاظ استعمال کیے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ نوٹ بندی کا مقصد معیشت کو تقویت پہنچانا رہا اور کسی کے لیے بھی اس میں کوئی شخصی فائدہ مضمر نہیں رہا۔ نرملا نے یہاں ٹاملناڈو بی جے پی پارٹی ہیڈ کوارٹرس ’’کملالئم‘‘میڈیا سے رابطہ میں کہا کہ درحقیقت منظم لوٹ کھسوٹ اور قانونی طور پر الٹ پھیر تو اس وقت ہوتا رہا جب وہ (منموہن سنگھ) وزیراعظم تھے۔ وزیر دفاع نے 2G اسپیکٹرم اور اس سے متعلق عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات کے بشمول مختلف اسکیامس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ سب منموہن سنگھ کے دور اقتدار کے دوران پیش آیا لیکن انہوں نے اس تعلق سے لب کشائی نہیں کی اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کہیں اور متوجہ تھے۔ نرملا نے کہا کہ منموہن سنگھ کٹ پتلی کی مانند کام کرتے رہے اور پس پردہ انہیں کہیں سے ہدایات ملتی رہیں۔ وزیر دفاع ٹاملناڈو بی جے پی کے مخالف کالا دھن ایونٹس میں حصہ لینے یہاں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’مجھے افسوس کے سوا کوئی احساس نہیں ہورہا، یہ واقعی افسوس کی بات ہے۔ میں ان کے سخت الفاظ استعمال کیے جانے کی تشریح کرنے سے قاصر ہوں جو انہوںنے نوٹ بندی پر تبصرے کے لیے کہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ منموہن سنگھ نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود کالا دھن کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل تک نہیں کی تھی۔ اس کے برخلاف بی جے پی حکومت کا پہلا اقدام مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ رہا کہ ایس آئی ٹی کی تشکیل کرتے ہوئے کالا دھن کی جانچ کا حکومت دیا گیا۔اس بارے میں کہ کانگریس نے نوٹ بندی کی کامیابی پر سوال اٹھائے ہیں، نرملا نے کہا کہ وہ تمام رقم جو نوٹ بندی کے بعد بینکوں میں جمع کرائی گئی، سفید دھن نہیں تھا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ نوٹ بندی سے بالخصوص جموں وکشمیر میں فائدہ ہوا۔

TOPPOPULARRECENT