Wednesday , June 20 2018
Home / سیاسیات / منموہن سنگھ کیخلاف مودی کے ریمارکس پر ہنگامہ، راجیہ سبھا کا اجلاس ملتوی

منموہن سنگھ کیخلاف مودی کے ریمارکس پر ہنگامہ، راجیہ سبھا کا اجلاس ملتوی

مسئلہ پر بحث کیلئے غلام نبی آزاد کی نوٹس، وینکیا نائیڈو کی طرف سے مسترد، اپوزیشن میں برہمی۔ شردیادو ، انور علی کامسئلہ بھی اُٹھایا گیا

نئی دہلی 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنے پیشرو منموہن سنگھ کے خلاف کئے گئے ریمارکس اور ان پر پاکستان کے ساتھ سازش کے الزامات عائد کئے جانے پر راجیہ سبھا کے سرمائی سیشن کے پہلے ہی دن اپوزیشن نے بڑے پیمانے پر شوروغل اور ہنگامہ آرائی کی جس کے نتیجہ میں ایوان کی کارروائی بُری طرح متاثر ہوئی۔ منموہن سنگھ کے خلاف مودی کے مبینہ ریمارکس پر برہم اپوزیشن نے کانگریس کی قیادت میں احتجاج کیا اور مودی پر الزام عائد کیاکہ اُنھوں نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے علاوہ، سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری اور سفارت کاروں کے خلاف سنگین الزامات عائد کیا ہے۔ اس مسئلہ پر بحث کے لئے ایوان کی مقررہ کارروائیوں کو معطل کرنے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے قاعدہ 267 کے تحت پیش کردہ درخواست کو صدرنشین ایم وینکیا نائیڈو نے مسترد کردیا جس کے بعد ایوان میں شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے گئے۔ کرسی صدارت کی طرف سے ایوان کی کارروائی کو باقی دن کے لئے ملتوی کرنے کیلئے کئے جانے والے اعلان سے قبل بھی مختصر وقفوں کے تین مرتبہ کارروائی ملتوی کی گئی تھی۔ ایوان میں اپوزیشن کی مسلسل ہنگامہ آرائی کے درمیان سہ پہر 3 بجے ایوان کی کارروائی کو دن بھر کے لئے ملتوی کیا گیا۔ اپوزیشن ارکان نے جے ڈی (یو) کے سابق سربراہ شرد یادو اور ایک رکن علی انور کو وینکیا نائیڈو کی طرف سے ایوان کی رکنیت سے نااہل قرار دیئے جانے پر بھی شدید احتجاج کیا لیکن حکمراں جماعت کے ارکان نے بھی اپوزیشن کے خلاف جوابی نعرہ بازی کی۔ صدرنشین کی جانب سے ان دونوں ارکان کی معطلی سے متعلق اپنے فیصلے کے اعلان کے فوری بعد اپوزیشن نے یہ مسئلہ اُٹھایا۔ ارکان کے احتجاج پر وینکیا نائیڈو نے کہاکہ کرسی صدارت کے فیصلے پر کوئی بحث نہیں کی جاسکتی۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’چیرمین کی رولنگ پر کوئی بحث نہیں کی جاسکتی۔ برائے مہربانی آپ بیٹھ جایئے‘‘۔ لیکن اپوزیشن ارکان نے شوروغل کا سلسلہ جاری رکھا جس پر صدرنشین نے کچھ وقت کے لئے کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم جیسے ہی دوبارہ کارروائی شروع ہوئی اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے گجرات کی ایک انتخابی ریالی میں مودی کی طرف سے منموہن سنگھ کو پاکستانی سفارت کاروں کے ساتھ ڈنر پر ملاقات کے ضمن میں نشانہ بنائے جانے کا مسئلہ اُٹھایا۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ ان کی پارٹی اور دیگر اپوزیشن قائدین اس سنگین مسئلہ پر بحث کیلئے ایوان کی مقررہ کارروائی معطل کرنے کے لئے قاعدہ 267 کے تحت نوٹس دے چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT