Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / منوہر پاریکر وزیر دفاع کے عہدہ سے مستعفی، بحیثیت چیف منسٹر گوا آج حلف برداری

منوہر پاریکر وزیر دفاع کے عہدہ سے مستعفی، بحیثیت چیف منسٹر گوا آج حلف برداری

بی جے پی زیرقیادت حکومت کیلئے چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان کی تائید ، کانگریس سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود اقتدار سے محروم
پاناجی ۔13 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) منوہر پاریکر نے وزیر دفاع کی حیثیت سے آج اپنا استعفیٰ پیش کردیا اور گوا کے چیف منسٹر کی حیثیت سے کل حلف لیں گے ۔ وہ بی جے پی کی قیادت میں تشکیل پانے والی اس حکومت کے سربراہ ہوں گے جس ( حکومت) کو چند علاقائی جماعتوں اور آزاد ارکان کی تائید حاصل رہے گی ۔ پاریکر نے آج پی ٹی آئی سے کہاکہ ’’میں نے بحیثیت وزیر دفاع آج اپنا استعفیٰ پیش کردیا ۔ مکتوب استعفیٰ وزیراعظم کے دفتر ( پی ایم او) کو روانہ کردیا گیا ہے ‘‘ ۔ پاریکر نے مزید کہاکہ ’’( گوا کے چیف منسٹر کی حیثیت سے) میں کل شام کابینی وزراء کے ساتھ حلف لوں گا ‘‘ ۔ اس سوال پر کہ کتنے وزراء حلف لیں گے ۔ پاریکر نے جواب دیا کہ ’’وزراء کی تعداد اور دیگر اُمور کا فیصلہ فی الحال زیرقطیعت ہے ۔ ایک مرتبہ کابینہ کو قطیعت دیئے جانے کے بعد ہم میڈیا کو اس کی تفصیلات فراہم کریں گے ‘‘ ۔ بی جے پی جس کے گزشتہ اسمبلی میں 21 ارکان تھے اس مرتبہ 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ چنانچہ گزشتہ روز گوا فارورڈ پارٹی ( جی ایف پی) ، مہاراشٹرا وادی گومانتک پارٹی ( ایم جی پی ) اور دو آزاد ارکان کی تائید حاصل کرتے ہوئے 40 رکن اسمبلی میں 21 ارکان کی مجموعی تائید حاصل کرچکی ہے جس کے ساتھ ہی 17 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ ایوان میں سب سے بڑی جماعتوں کی حیثیت سے اُبھرنے والی کانگریس کی حکومت سازی کے امکانات موہوم ہوگئے ۔ کانگریس کو جی ایف پی سے حصول تائید کی اُمید تھی لیکن سینئر بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کی شاطر چالوں نے حکومت سازی کے عمل میں بی جے پی کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار سے دور رکھا۔ گڈکری نے ان تمام چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان کی تائید حاصل کی جو پاریکر کو چیف منسٹر بنانا چاہتے تھے ۔ آئی آئی ٹی ممبئی سے فارغ التحصیل انجینئر 61 سالہ منوہر پاریکر کی قیادت میں بی جے پی نے 2012 ء کے گوا اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد وہ چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوئے تھے ۔ تاہم 2014 ء میں انھیں مرکزی حکومت میں وزیر دفاع مقرر کرتے ہوئے لکشمی کانت پارسیکر کو چیف منسٹر بنایا گیا تھا لیکن اس مرتبہ پارسیکر کو حلقہ اسمبلی میزرم سے شکست ہوگئی ۔ علاوہ ازیں ان کی کابینہ کے اکثر وزراء بھی انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے تھے ۔ پاریکر جو آر ایس ایس سے بی جے پی میں داخل ہوئے ہیں 2000 اور 2002 ء اور 2002ء تا 2005 ء کے درمیان بھی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز رہے ہیں۔ رواں سال کی انتخابی مہم کی ابتداء سے ہی پاریکر کو امکانی چیف منسٹر سمجھا جارہا تھا ۔ جنھوں نے اپنی آبائی ریاست میں بی جے پی کیلئے سرگرم مہم چلائی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT