Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / منی شنکر ایّر کے ریمارکس ’’غداری اور قوم دشمنی‘‘ کے مترادف : بی جے پی

منی شنکر ایّر کے ریمارکس ’’غداری اور قوم دشمنی‘‘ کے مترادف : بی جے پی

صدر کانگریس سونیا گاندھی سے معذرت خواہی کا مطالبہ ، مرکزی وزراء پرکاش جاؤڈیکر اور وینکیا نائیڈو کا بیان
نئی دہلی۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) منی شنکر ایّر کی جانب سے پاکستانی میڈیا میں کئے گئے ان کے متنازعہ ریمارکس پر شدید تنقید کرتے ہوئے بی جے پی نے آج کہا کہ ان کے یہ ریمارکس سراسر ’’غداری اور قوم دشمنی‘‘ کے مترادف ہیں، لہٰذا صدر کانگریس سونیا گاندھی کو فوری معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ مرکزی وزراء ایم وینکیا نائیڈو اور پرکاش جاودیکر جنہوں نے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید پھر تنقید کی جنہوں نے پاکستان کے تعلق سے این ڈی اے حکومت کے اختیار کردہ سخت ترین موقف پر انگلی اٹھائی تھی۔ ان وزراء نے کہا کہ کانگریس کو چاہئے کہ وہ اپنے ان دو لیڈروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے۔ ان کے ریمارکس ’’غداری اور قوم دشمنی‘‘ کی تعریف میں آتے ہیں۔ منی شنکر ایّر اور سلمان خورشید نے جو تبصرے کئے ہیں، وہ نہایت ہی قابل اعتراض اور قوم دشمنی پر مبنی ہیں۔ کسی بیرونی ملک جاکر یہ کہنا کہ جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم کو بے دخل کرنے کے لئے عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے، یہ بیانات سراسر غداری کے مترادف ہیں۔ یہاں ایک تقریب کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو ان ریمارکس کی مذمت کرنی چاہئے اور ان دونوں افراد کے خلاف سخت ترین امکانی کارروائی کرنی چاہئے۔ یہ لوگ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے کہ جنہیں نظرانداز کردیا جائے بلکہ یہ لوگ سابق وزراء ہیں۔ ایک کانگریس پارٹی کا ترجمان ہے،

 

ان کے ایسے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک نیچے گرچکے ہیں۔ پارٹی کی شدید مایوسی کا اثر ان پر بھی نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین کے ریمارکس کسی بھی حب الوطن اور قوم پرست ہندوستانی کے لئے شدید صدمہ خیز ہیں۔ منی شنکر ایّر کے ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ نریندر مودی کی زیرقیادت ایک منتخب حکومت کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں اور یہی بات جب بیرونی سرزمین پر کہی جاتی ہے تو یہ بہت زیادہ افسوسناک اور قابل اعتراض بن جاتی ہے اور اس حرکت کو ’’غداری‘‘ کہا جاتا ہے۔ پرکاش جاؤڈیکر نے حیرت کا اظہار کیا کہ آیا اپوزیشن پارٹی اس طرح کے ریمارکس کی اجازت دے گی۔ انہوں نے سونیا گاندھی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی ہیڈکوارٹرس پر انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آیا کانگریس، منی شنکر ایّر کے ریمارکس کو قبول کرے گی؟ اگر یہ دو قائدین اپنے ریمارکس واپس نہ لیں تو ایسی صورت میں صدر کانگریس سونیا گاندھی کو معافی مانگنی چاہئے۔ پارٹی کی سربراہ کی حیثیت سے انہیں ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معذرت کرنی ہوگی۔ آخر سلمان خورشید اور منی شنکر ایّر نے پاکستان جاکر مخالف حکومت ہند بیانات کیوں دیئے۔ وزیراعظم کے دفتر کو بدنام کرنے کی کوشش ہرگز ناقابل قبول ہے۔ یہ دونوں عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں اور عوام ان کی حرکتوں کو ملک کیساتھ غداری سمجھ رہے ہیں۔ یہ لوگ ہندوستان میں ہمارے ساتھ عدم اتفاق رکھنے کے لئے آزاد ہیں، لیکن بیرونی سرزمین پر ایسا نہیں کہہ سکتے۔ منی شنکر ایّر نے کل ایک بیان دے کر تنازعہ کو ہوا دی تھی جس میں انہوں نے ایک پیانل مباحث کے دوران کہا تھا کہ ’’وزیراعظم نریندر مودی کو برطرف کردینے کی ضرورت ہے، اگر دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے احیاء کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے تو فوری مودی کو ہٹا دیا جانا چاہئے۔ جب تک مودی رہیں گے، ہند ۔ پاک تعلقات بہتر نہیں ہوں گے‘‘۔ سلمان خورشید نے این ڈی اے حکومت پر تنقید کی تھی کہ این ڈی اے حکومت نے پاکستان کے ساتھ سخت موقف اختیار کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT