Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / منی کونڈا کی اراضی سکھ گردوارہ کیلئے الاٹ ، محکمہ ریونیو کے بجائے وقف بورڈ کی وضاحت

منی کونڈا کی اراضی سکھ گردوارہ کیلئے الاٹ ، محکمہ ریونیو کے بجائے وقف بورڈ کی وضاحت

ڈپٹی کلکٹر راجندر نگر کے احکامات کا افشاء ، حکومت وضاحت سے قاصر ، کانگریس کے بیان کی غلط تردید
حیدرآباد۔ 28 ڈسمبر (سیاست نیوز) درگاہ حسین شاہ ولی  ؒ کی منی کونڈا میں واقع اوقافی اراضی کو سکھ گردوارہ صاحب جی آف ساؤتھ انڈیا کو الاٹ کرنے کے مسئلہ پر وقف بورڈ نے حکومت کی جانب سے وضاحت کی کوشش کی ہے۔ منی کونڈا میں 3 ایکر اراضی سکھ گردوارہ کیلئے الاٹ کرنے سے متعلق ڈپٹی کلکٹر راجندر نگر کے احکامات کے افشاء کے بعد حکومت وضاحت کے موقف میں نہیں رہی اور اس نے وقف بورڈ کو وضاحت کیلئے آگے کردیا جبکہ اس اراضی کے الاٹمنٹ کا وقف بورڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ آج تک یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ منی کونڈا کی اراضی وقف ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں حکومت نے اسے ’’سرکاری‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ ریوینیو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سکھ گردوارہ کو سروے نمبر 71 میں 3 ایکر اراضی الاٹ کرنے سے متعلق اعلامیہ کی اجرائی سے اقلیتوں میں بے چینی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ریوینیو ڈپارٹمنٹ سے وضاحت کے بجائے وقف بورڈ کو آگے کردیا جبکہ اس معاملے سے وقف بورڈ کا کوئی تعلق نہیں۔ کانگریس کے رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ اور اقلیتی ڈپارٹمنٹ صدر محمد فخرالدین ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے 20 نومبر 2015ء کو جاری کئے گئے احکامات میڈیا نمائندوں کے حوالے کئے جس میں ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی کلکٹر اور تحصیلدار راجندر نگر منڈل نے منی کونڈا میں 3 ایکر اراضی سکھ گردوارہ کو الاٹ کرنے کیلئے اعلامیہ جاری کیا اور مقامی افراد کو اعتراضات کیلئے 15 دن کی مہلت دی گئی۔ چونکہ یہ اعلامیہ محکمہ مال کی جانب سے جاری کیا گیا لہذا اس کی وضاحت بھی محکمہ مال کی ذمہ داری تھی لیکن حکومت کے دباؤ میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کے نام سے وضاحت جاری کی گئی جس میں اراضی الاٹمنٹ کی تردید کی گئی۔ اگرچہ تمام اہم اخبارات نے یہ خبر شائع کی تھی، لیکن صرف ایک اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت جاری کی گئی۔ وضاحت میں کہا گیا کہ عہدیدارِ مجاز وقف بورڈ نے 9 ڈسمبر کو چیف کمشنر لینڈ ایڈمنسٹریشن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سروے نمبر 71 میں اراضی الاٹ نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ کانگریس قائدین نے اپنے بیان میں یہ نہیں کہا تھا کہ وقف بورڈ نے یہ اراضی الاٹ کی لیکن وقف بورڈ اس معاملے کی تردید کیلئے حکومت کے دباؤ کا شکار ہوگیا۔ منی کونڈا سے متعلق اراضی کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیردوراں ہے جس میں وقف بورڈ کے علاوہ حکومت بھی اہم فریق ہے جو اراضی پر اپنی دعویداری پیش کررہی ہے۔ ایسے وقت جبکہ یہ اراضی عدالتی کشاکش کا شکار ہے، ایسے میں وقف بورڈ کی جانب سے اراضی الاٹمنٹ کی وضاحت مضحکہ خیز ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریوینیو ڈپارٹمنٹ اس معاملے کی وضاحت کرتا ہے اور دستاویزات کے ساتھ اراضی الاٹمنٹ کی تردید کی جاتی۔ گردوارہ کو اراضی الاٹمنٹ کی معاملت اس قدر پوشیدہ رکھی گئی، اس کا اعلامیہ صرف مقامی گرام پنچایت میں چسپاں کیا گیا حالانکہ اس قیمتی اراضی کے بارے میں اخبارات میں اعلامیہ جاری کیا جانا چاہئے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کو الاٹ کی گئی اراضی میں سے 3 ایکر اراضی حاصل کرتے ہوئے سکھ گردوارہ کو حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کیلئے نومبر میں احکامات جاری کئے گئے۔ وضاحت میں وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے جن عبوری احکامات کا حوالہ دیا ہے، وہ لینکو ہلز سے متعلق مقدمہ میں ہے، جبکہ یہ اراضی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کو الاٹ کردہ ہے۔ اس طرح وقف بورڈ کی وضاحت محکمہ مال کو بچانے کی سعی لاحاصل کے سواء کچھ نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس محکمہ مال کی جانب سے جاری کردہ 20 نومبر کا اعلامیہ تک موجود نہیں لیکن اس نے صرف اخباری بیان کی بنیاد پر الاٹمنٹ کی تردید کی جبکہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ اراضی وقف بورڈ نے الاٹ کی ہے۔ منی کونڈا اور دیگر اہم اوقافی اراضیات کے تحفظ میں وقف بورڈ کس حد تک سنجیدہ ہے، اس بارے میں عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ محکمہ مال کے عہدیداروں کی اس کارروائی کا جائزہ لے اور اگر یہ الاٹمنٹ حکومت کی منظوری کے بغیر کیا گیا تو خاطیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

TOPPOPULARRECENT