Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / منی کونڈہ اور رائے درگ کی وقف اراضیات کا جائزہ

منی کونڈہ اور رائے درگ کی وقف اراضیات کا جائزہ

انفراسٹرکچر انڈسٹریل کارپوریشن سے تفصیلات کی طلبی ، مختلف زاویوں سے جانچ پڑتال
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے رنگاریڈی کے منی کونڈہ اور رائے درگ علاقہ میں اراضی کو مختلف خانگی اداروں کو فروخت کئے جانے کے بعد وقف بورڈ نے اس اراضی کے بارے میں تفصیلات حاصل کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے انفراسٹرکچر انڈسٹریل کارپوریشن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے حال ہی میں فروخت کی گئی اراضی کے سروے نمبر کے بارے میں تفصیلات حاصل کی۔ رائے درگ اور منی کونڈہ میں بیشتر اراضی وقف ہے لہذا اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کارپوریشن نے جو اراضی فروخت کی کہیں وہ وقف تو نہیں۔ درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کے تحت منی کونڈہ میں بیشتر اوقافی اراضیات ہیں۔ سال 2000ء سے منی کونڈہ میں حکومت کی جانب سے مختلف اداروں کو اراضیات کے الاٹمنٹ کا آغاز ہوا تھا۔ ابتدائی مرحلہ میں انفوسیس ٹکنالوجیز، اردو یونیورسٹی اور انڈین اسکول آف بزنس کو علی الترتیب 50، 200، 250 ایکر اراضی الاٹ کی گئی۔ 2002ء میں مسرز بولڈر ہلز پرائیویٹ لمیٹیڈ کو 17ایکر اور مسرز ایمار ہلز ٹاؤن شپ پرائیویٹ لمیٹیڈ کو 110.68ایکر راضی الاٹ کی گئی۔ 2003ء میں مائیکرو سافٹ کو 54.80، ویپرو کو30ایکر، وی جے آئی ایل کنسلٹنٹ کو 15ایکر اور پولاریز سافٹ ویر کمپنی کو 7.87 ایکر اراضی الاٹ کی گئی۔ اس طرح جملہ 735.35 ایکر اراضی حکومت کی جانب سے منی کونڈہ میں مختلف اداروں کو الاٹ کی گئی اسوقت ریاست میں تلگودیشم برسر اقتدار تھی۔ 2003ء میں ریاستی حکومت نے 108 ایکر اراضی جو منی کونڈہ جاگیر کے تحت ہے اے پی آئی آئی سی کو سائبر پارک کے قیام کیلئے الاٹ کی۔2005ء میں اے پی انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے کھلے ہراج کے ذریعہ لینکو انفراٹیک کمپنی کو اراضی فروخت کی گئی۔ مابقی اراضی کو تلنگانہ انفراسٹرکچر کارپوریشن نے گزشتہ ماہ فروخت کیا ہے۔ وقف بورڈ اس زمین کی تمام تفصیلات حاصل کرتے ہوئے وقف بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق اس کا جائزہ لے رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رائے درگ اور منی کونڈہ میں بعض سروے نمبرات کے تحت موجود اراضی وقف نہیں ہے تاہم وقف بورڈ اپنے ریکارڈ سے اس معاملہ کی جانچ میں مصروف ہے۔ اراضی کے وقف ثابت ہونے کی صورت میں حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT