Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / منی کونڈہ وقف اراضی کیس ، سپریم کورٹ میں 15 جولائی کو سماعت

منی کونڈہ وقف اراضی کیس ، سپریم کورٹ میں 15 جولائی کو سماعت

1654 ایکڑ اراضی پر حکومت کا ادعا ، وقف بورڈ کے خلاف درخواستیں
حیدرآباد۔/12جولائی، ( سیاست نیوز) درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی منی کونڈہ میں واقع اوقافی اراضی کے تحفظ کے مقدمہ کی 15جولائی کو سپریم کورٹ میں سماعت مقرر ہے۔ وقف بورڈ 1654 ایکر 32 گنٹے اراضی کو وقف قرار دینے کی درخواست کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع ہوچکا ہے جبکہ ریاستی حکومت اور تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے اس اراضی کو سرکاری قراردیا جارہا ہے اور اس سلسلہ میں وقف بورڈ کے خلاف درخواستیں دائر کی گئیں۔ وقف بورڈ نے اس مقدمہ میں سپریم کورٹ کے وکیل اعجاز مقبول کی خدمات حاصل کی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلنگانہ حکومت نے منی کونڈہ سمیت ریاست کی دیگر تمام اوقافی اراضیات کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا اعلان کیا اور اس سلسلہ میں چیف منسٹر نے ایوان اسمبلی میں تیقن بھی دیا لیکن اس مقدمہ میں وقف بورڈ کے خلاف سکریٹری محکمہ مال اور انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن بطور فریق شامل ہے۔ درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کے تحت موجود اس اراضی کو حکومت اور انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے مختلف ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنیوں کو الاٹ کیا گیا اور 800 ایکر اراضی پر کوئی تعمیرات نہیں ہیں۔ چیف منسٹر نے یہ کھلی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہوسکا۔ وقف بورڈ کی جانب سے مکمل اراضی پر دعویداری کے علاوہ لینکو ہلز ٹکنالوجی پارک پرائیویٹ لمیٹیڈ کی جانب سے عدالتی کے عبوری احکام کی خلاف ورزی پر علحدہ درخواست داخل کی ہے۔ سپریم کورٹ نے 26جولائی 2013کو اپنے عبوری احکامات میں لینکو ہلز کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے تمام معاملتوں میں اس بات کی وضاحت کردے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے اور کوئی بھی معاملت سپریم کورٹ کے قطعی احکام کے تابع ہوگی۔ لینکو ہلز کی جانب سے مختلف قومی اخبارات میں اشتہارات کی اشاعت کے خلاف بھی وقف بورڈ نے درخواست داخل کی کیونکہ درخواست میں عدالت کے عبوری احکام کی تعمیل نہیں کی گئی اور عدالت میں مقدمہ زیر التواء ہونے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ وقف بورڈ نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ اس سلسلہ میں کمپنی کو دوبارہ ہدایت دی جائے۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ لینکو ہلز کو تمام معاملات سے متعلق ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت دی جائے۔ اس کے علاوہ تمام اشتہارات اور فروخت سے متعلق معاملتوں میں عدالتی کشاکش کا حوالہ دیا جائے۔ سپریم کورٹ کے وکلاء کی رہنمائی کیلئے مکمل ریکارڈ کے ساتھ شفیق الرحمن مہاجر ایڈوکیٹ کو دہلی روانہ کیا جارہا ہے۔ اسی دوران چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے واضح کیا کہ اوقافی جائیدادوں سے متعلق تمام مقدمات میں موثر پیروی کی جارہی ہے اور ماہرین قانون سے مشاورت کے ذریعہ ناجائز قبضوں کی برخواستگی اور اراضی کی بازیابی کی مساعی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف اور ریونیو ریکارڈ میں مطابقت پیدا کرنے کی صورت میں اراضیات کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

TOPPOPULARRECENT