Friday , December 15 2017
Home / مذہبی صفحہ / موبائل فون اورانٹرنیٹ

موبائل فون اورانٹرنیٹ

 

انسانی معاشرت روابط وتعلقات سے عبارت ہے،والدین،اہل وعیال،اقربا واحباب سے میل جول کے بغیر معاشرتی زندگی کے مقاصد پورے نہیں ہوتے ۔سابقہ ادوار میں وقت میں برکت تھی ،معاشی حالات تنگ ضرورتھے لیکن دلوں میں وسعت وگنجائش تھی،پیارومحبت کے سوتے خشک نہیں ہوگئے تھے،شخصی ملاقاتوں اورخیروخیریت معلوم کرنے کیلئے ان کے ہاں وقت تھا ۔خوشی وغم کے مواقع پر اعزہ واقربا دورونزدیک کے احباب اورمقامی افراد سب جمع ہوتے ،رنج وغم اورخوشی ومسرت کے مواقع پر سب کا ساتھ غم کو ہلکا کرتا اورمسرتوں کو دوبالا کرتا تھا،بڑوں کا احترام اوران کی تعظیم ،چھوٹوں کے ساتھ شفقت ومحبت کا برتاؤ جیسے انسانی اعلی اقدارکی وجہ سکون کا ماحول تھا۔اضطراب وبے چینی ،بے جا شکوہ وشکایات ،حقدوحسد،نفرت وعداوت کی تلخ حکایات کا کوئی گزرنہیں تھا،وہ اقربا واحباب جوکچھ دور فاصلے پر رہا کرتے تھے ان سے ملا قات کیلئے سفری صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی تھیں ،گاہے گاہے یہ فرض بھی انجام پاتا تھا ،ملاقات کا ایک اوراہم ذریعہ خط وکتابت تھا جس سے ایک دوسرے کی خیر وخیریت معلوم ہوتی تھی،اس کو نصف ملاقات سے تعبیر کیا جاتا تھا۔خط وکتابت کا رواج بڑا مفید تھا،کئی ایک حکماء ،دانشوروں کے خطوط علم وادب کا ایک عظیم سرمایہ ہیں،ان خطوط میں جہاں حکمت ودانش کے جواہر پارے محفوظ ہیں وہیں وہ اُس دورکے تاریخی احوال اورسنہرے واقعات کا بیش بہا خزینہ ہیں۔سائنسی تحقیقات اورنئی نئی ایجادات نے منظر پلٹ دیا ہے،ہر نیا دن ایک نئی ایجادکے ساتھ شروع ہورہاہے،سائنسی ایجادات کا ایک قابل تحسین پہلو یہ ہے کہ فطرت کے چھپے رازوں سے پردے اٹھ رہے ہیں،نئی نئی چیزیں ایجاد ہورہی ہیں،انٹرنیٹ،سیل فون،اوراسمارٹ فون وغیرہ جیسی ایجادات سے بیش بہا معلومات اورفوائدحاصل ہورہے ہیں۔ اس مواصلاتی نظام کی وجہ دوردرازعلاقوں تک رسائی آسان ہوگئی ہے،ان نئی ایجادات نے دورکو قریب کردیا ہے،دریافت احوال کے ساتھ معلومات کی ارسال وترسیل بھی سہولت بخش ہوگئی ہے، ان روشن پہلوؤں کے ساتھ اسکے کچھ تاریک پہلوبھی ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ انکے نقصانات انکے منافع سے کہیں زیادہ ہیں۔ایک وقت تھا کہ جب نہ انٹرنیٹ تھا نہ سیل فون وغیرہ لیکن زندگی پرسکون گزررہی تھی،نہ کوئی ذہنی کوفت تھی نہ کوئی تناؤ تھا ،نہ کوئی رنج وغم ،نہ کسی شیٔ کی کمی کا احساس۔زمانہ کی ترقی کے ساتھ انسانوں سے قناعت رخصت ہوگئی ،ہر کوئی دنیا کی دوڑمیں سبقت لیجانے کی کوشش میںسرگرداں ہے،دوسروں سے پیچھے رہنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے۔چلئے ٹھیک ہے ! جائز راہ سے دنیا کمانا اوررضاء الہی کے مطابق اسکا استعمال کرنا اسلام میںنا جائز نہیں،نئی نئی ایجادات سے نفع اٹھانے سے بھی اسلام منع نہیں کرتا،اسلام کا ایک زرین اصول یہ ہے کہ ہر شیٔ جو جائز ہے اس کا استعمال جائز مقاصدکیلئے ہو،لیکن اگرجائز شیٔ کو ناجائزمقاصدکے حصول کیلئے استعمال کیا جائے تو اسلام اسکی اجازت نہیں دیتا۔مادیت کے اس پر آشوب دور میں انسانوں کے ہاں اتنا فاضل وقت کہاں ہے کہ وہ اپنے والدین اورقریبی رشتہ داروں سے ملاقات کا موقع نکال سکیں،اس لئے ٹیلی فون یا موبائل فون ایک بڑی نعمت ہے جس کی وساطت سے ان سے رابطہ کیا جاسکتاہے اوران کے احوال دریافت کئے جاسکتے ہیں،اوران سے دعائوں کی درخواست کی جاسکتی ہے۔بیماروں کی بیمارپرسی،مظلوموں کی دادرسی،تعزیت اورصلہ رحمی کے تقاضے بھی اس سے پورے ہوسکتے ہیں،دن کے اوقات میں اپنے کام کی جگہ سے اس کے ذریعہ اپنے گھریلواحوال سے باخبررہا جاسکتاہے ،معاشرتی مسائل میں سہولت ، کاروباری معاملات اور ایمرجنسی احوال میں اسکی اہمیت وافادیت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا۔اس تناظر میں غورکیا جائے تو اس کو ایک نعمت غیر مترقبہ کہا جاسکتاہے،اللہ سبحانہ وتعالی کے بے نہایت انعامات کا شکراداکرنے کے جس طرح ہم پابندہیں اس نعمت کا بھی ہم کو حقیقی معنی میں شکراداکرنا چاہیئے،ظاہر ہے اس کا حقیقی شکرانہ اس کا صحیح استعمال ہے لیکن اگراس نعمت کا استعمال اللہ کی نا فرمانی ،معصیت وگناہ کے کاموں میں ہوتو وہ وبال جان بن جاتا ہے۔مسلم امت اورخاص طورپر مسلم نوجوانوں کا ان نئی ایجادات میں کوئی حصہ نہیں ہے یہ ایک قابل افسوس پہلوہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ دنیا کی نئی ایجادات کے موجدمسلمان ہوتے ،ایک دوسرا قابل افسوس پہلویہ ہے کہ ان نئی ایجادات سے نفع اٹھانے کے بجائے مسلم سماج کا اکثر حصہ انکے غلط استعمال کی وجہ اسکا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ امت مسلمہ کے ایسے بھولے بھالے معصوم بچے جوابھی جوانی کی دہلیزپر قدم رکھنے جارہے ہیں وہ انٹرنیٹ اوراسمارٹ فون کی اس دنیا میں کھوئے ہوئے ہیں جواللہ کو ناپسند،اسلام میں نا جائزاوران کی دنیا کو تباہی وبربادی کے دہانے پر لیجانے والا اور اخرت کو برباد کرنے والا ہے۔

حالیہ دنوں میں ایک کم عمرنوجوان نے صرف اس لئے خودکشی کرلی کہ اسکی ماں نے موبائل فون میں مصروف رہ کر وقت ضائع کرنے سے منع کیا تھا،ایک مسلمان صاحب ستائیس سال سے زائد عرصہ بیرون ملک راحت وآرام کو قربان کرکے معاشی تگ ودومیں رہ کر جب حیدرآباد واپس لوٹے ان کی خواہش تھی کہ ان کے اہل خانہ کے ساتھ انکا لڑکا بھی ان کے استقبال کیلئے ہوائی اڈے پر موجود رہے لیکن والدکی نگاہیں اس کو ڈوھونڈتی رہ گئیں، دریافت کرنے پر معلوم ہواکہ ان کا لڑکا اسمارٹ فون لانے کی فرمائش کیا تھا لیکن مالی مشکلات کی وجہ اسکے والد قیمتی فون خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے اسلئے انہوں نے نفی میں جواب دیا تھا،بس یہی وجہ بنی کہ بیٹا جو نورنظر سمجھا جاتاہے وہ اپنے چہیتے مشفق ومہربان ، محسن باپ کے استقبال کیلئے موجود نہیں تھا۔نوجوان لڑکیوں ،لڑکوں کے ساتھ بزرگ مردوخواتین کا اسمارٹ فون میں انہماک سماج کو بے راہ روی کے راستہ پر ڈال رہاہے،مقاصد حسنہ کیلئے اسکا استعمال یقینا رحمت ہے لیکن اسکے غلط استعمال نے اس کو با عث زحمت بنا دیا ہے،موبائل فون یا انٹرنیٹ کا استعمال نفس پرستی ،خواہشات نفس کی تکمیل میں ہوتو اس سے بڑا اورکوئی نقصان نہیں۔ملت کے نوجوان لڑکیوں اورلڑکوں کے بہکنے اورغلط راستے پر چل پڑنے کے راستے ہموارہورہے ہیں،کئی ایک دین بیزار،خدانا شناس نفس وشیطان کے پرفریب دھوکوں کے اسیر ہیں جو اسمارٹ فون اور انٹر نیٹ کے ذریعہ نوجوان لڑکیوں کواپنے فریبی جال میں پھانس رہے ہیں ،عزتیں پامال ہورہی ہیں،عفت وعصمت کے لٹیرے ہنستے کھیلتے گھروں کا سکون بربادکررہے ہیں۔انٹرنیٹ پر تعارف کیلئے اپنی تصاویرڈالنے اورنجی حالات درج کرنے کا رجحان نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں میں زیادہ ہوگیاہے،ایسے میں جن سے انٹرنیٹ پر ان کا تعارف ہوتا ہے وہ اکثر دھوکے باز ہوتے ہیں،اوراستحصال کے جذبہ سے انٹرنیٹ کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق نئی ایجادات کے نقصانات سے نئی نسل کوبچانے کیلئے ایک ادارہ قائم ہے، اسکے ڈائرکٹرکا تحقیقی تجزیہ ہے کہ دس سے چودہ سال کی عمرکے اسی(۸۰)فیصد بچے فریب کاروں کے استحصال کا شکاربنے ہیں، عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے امریکہ کے ایک محکمہ نے انٹرنیٹ کے خطرات سے ان کے والدین کو آگاہ کیا ہے،چند ممالک کے بارے میں محققین کی رائے ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں کھوجانے سے ۱۵؍ سے ۱۷ سال عمرکے لڑکے لڑکیوں کی زندگی جنسی آوارگی کا شکار ہوگئی ہے ۔انٹرنیٹ پر ان نوجوانوں کو وہ ہدایات بھی فراہم ہوجاتی ہیں جو ان کو آزادانہ جنسی میل ملاپ میں قدم آگے بڑھانے کی راہ دکھاتی ہیں جس سے حاملہ ہونے یا کسی موذی مرض میں مبتلا ہوجانے کے ڈروخوف سے چھٹکا رہ مل جاتاہے،اس لئے بچوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ،ماں باپ اگرخو د اس لعنت میں گرفتارہوں تو ان کے لئے یہ مرحلہ آسان نہیں اس لئے ایسے ماں باپ اپنے آپ کو اس لعنت میں گرفتارہونے سے بچائیں اوراپنے بچوں کو اس مصیبت میں پڑنے بچانے کی بھرپورجدوجہد کریں،گھرکے ماحول کو دیندارانہ بنائیں ،خداترسی اورخوف آخرت ان کے دلوں میں بٹھائیں ،نوجوانی کا دورشخصیت کی تشکیل کرنے اور عمدہ اخلاق سے اس کو نکھارنے اورسنوارنے کاہے۔یہ سنہرا دورخدابے خوفی اورآخرت فراموشی کے نذر ہوجائے تو نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گااورملت اسلامیہ کو ان سے جو نیک توقعات وابستہ ہیں وہ سراب ثابت ہوں گے۔ہرچیز کا استعمال ضرورت کے دائرہ میں ہونا چاہیئے ،موبائل فون ضرورت پر ہی خریداجائے اوراسکا استعمال بھی ضرورت کی حد تک ہی کیا جائے ،لیکن مسابقت کے جذبہ کی وجہ نئے نئے فون خریدنے کا رجحان بڑھ گیا ہے،کسی نئے طرز کے فون کے بازارمیں آتے ہی اس کو خریدنا ایک فیشن سا بن گیا ہے،کسی بھی شیٔ کے جائز استعمال کے وہی پابندہوسکتے ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں اوراپنے نفس کو خواہشات کا اسیر بننے نہیں دیتے۔ارشادباری ہے’’اورجو اپنے پروردگارکے حضورکھڑاہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اورخواہش نفس سے اپنے نفس کو روکتا رہا ہوگا یقینا جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہوگا‘‘ (النازعات:۴۱) اپنے رب کے حضورحاضرہونے کے استحضارمیں جینے والے کبھی اپنے نفس کو بے لگام ہونے نہیں دیتے ،شریعت مطہرہ نے جوحدیں قائم کی ہیں ان کو کبھی نہیں توڑتے،معاصی خواہ رات کی تاریکی میں ہوں کہ دن کے اجالے میں موبائل فون یا انٹرنیٹ کے ذریعہ ہوں یا ٹی وی اوروی ۔سی۔آرکے ذریعہ یہ انسان کو دوہری مصیبت میں پھنساتے ہیں۔دنیا کے مصائب وآلام انسانوں کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اورآخرت کی ناکامی بھی حصے میں آتی ہے،اسمارٹ فون ودیگرآلات جدیدہ جو سماعت وبصارت کے ساتھ قلب وروح کو آلودہ کررہے ہیں اس سے انسان کے باطن میں فساد وبگاڑپیدا ہونے کے ساتھ سماج بھی اس سے بری طرح متاثرہے۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے’’تین چیزیں انسان کو ہلاکت سے دوچارکرنے والی ہیں:وہ خواہش نفس جس کی پیروی کی جائے ،اوروہ بخل جس کی اطاعت کی جائے ،اوروہ خود بینی اورخود پسندی کہ جس کی وجہ انسان اپنے کو بہتر وبرترسمجھنے لگے ،اورفرمایا:آخری چیزیعنی خودبینی سب سے زیادہ ہلاکت خیزہے‘‘(البیہقی:۷۴۵)اسمارٹ فون کے غلط استعمال کی وجہ خواہش نفس کی پرورش ہورہی ہے ،ہر نئے ماڈل کی تبدیلی کے ساتھ اسمارٹ فون کی خریدی سے خودبینی وخودنمائی کی روش فروغ پارہی ہے۔انسان کی کامیابی کا راز اس بات میں ہے کہ اس کی فانی دنیا سے زیادہ اس کی باقی رہنے والی آخرت سنورجائے’’’والآخرۃ خیر وابقی‘‘(الاعلی:۱۲ ) آخرت کو فراموش کرکے انسان دنیا کی نیرنگیوں میں کھونہ جائے ،دامن زندگی میں نت نئے لا یعنی وعبث کھلونوں کو جمع کرنے سے گریز کیا جائے،ایمان والوں کو زیبا نہیں کہ وہ لا یعنی اورفضول اعمال واشغال میں اپنے اوقات ضائع کریں۔

TOPPOPULARRECENT