Thursday , May 24 2018
Home / شہر کی خبریں / موبائل فون کے غلط استعمال میں اضافہ سے معاشرہ شرمسار

موبائل فون کے غلط استعمال میں اضافہ سے معاشرہ شرمسار

فحش فلموں سے نوجوانوں میں بگاڑ ، ملت اسلامیہ کے لیے لمحہ فکر
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔9مارچ۔کسی بھی شئے کا زیادہ استعمال نقصاندہ ثابت ہوتا ہے اور ہر عمل میں اعتدال کی متعدد مرتبہ تاکید کی گئی ہے لیکن ٹکنالوجی کے استعمال بالخصوص موبائیل فون کے غلط استعمال کے رجحان میں ہونے والے تیزی سے اضافہ نے معاشرہ کو شرمسار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے بلکہ گذشتہ دو دن کے دوران جو واقعات منظر عام پرآئے ہیں وہ معاشرہ کیلئے بالخصوص ذمہ داران ملت اسلامیہ کیلئے لمحۂ فکر ہیں۔سماجی رابطہ کی ویب سائٹس اور انٹرنیٹ پر جو مواد موجود ہے اس میں کس مواد سے استفادہ کیا جانا چاہئے اور کس مواد سے احتیاط کیا جانا چاہئے اس کی معلومات ہونا ضروری ہے لیکن نوجوان نسل میں پیدا ہورہے بگاڑ کو دیکھتے ہوئے اب ان کیلئے ایسے مراکز کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے جو انہیں فحش فلموں سے دور کرے۔ ترقی یافتہ شہرو ںمیں اب تک منشیات ‘ شراب اور دیگر بری عادتوں سے نجات کے لئے بازآبادکاری مراکز چلائے جاتے تھے اور حیدرآباد میں بھی یہ مراکز موجود ہیں لیکن اب فحش فلموں کی انٹرنیٹ پر بہ آسانی دستیابی اور سوشل میڈیا پر گشت کرنے والے ذو معنی مواد نے نوجوان نسل کو فحاشی کی سمت راغب کرنا شروع کردیا ہے اور موبائیل فون پر فحش فلموں کے مشاہدہ کیلئے بکثرت استعمال کیا جانے لگا ہے ۔شہر حیدرآباد میں گذشتہ دو یوم کے دوران جو واقعات منظر عام پرآئے ہیں ان میں والد کی جانب سے بیٹے کی کلائی کاٹ دیا جانا اور بیوی کے وائی فائی بند کئے جانے پر شوہر کی جانب سے بیوی کی پٹائی کے واقعہ نے معاشرہ کے سنجیدہ طبقہ کو دعوت فکر دی ہے۔ فحش مواد اور فلموں کو انٹرنیٹ کے ذریعہ تجارت کا ذریعہ بنانے والی کمپنیاں ہندستان کو فحش فلموں کا سب سے بڑا بازار تصور کر رہے ہیں۔عالمی سطح پر جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ہندستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جہاںانٹرنیٹ پر سب سے زیادہ فحش فلمیں دیکھی جا رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے اعتبار سے دنیا میں امریکہ‘ برطانیہ اور کینیڈا کے بعد ہندستان ہے جہاں سب سے زیادہ فحش فلموں کا انٹرنیٹ کے ذریعہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور فحش فلموں کو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے ہندستانیوں کی ترجیحات کے مطابق فلمیں تیار کی جانے لگی ہیں۔ فحش فلموں کا مشاہدہ کرنے والوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے موبائیل یا وائی فائی کے ذریعہ جو بھی چیزیں دیکھی جاتی ہیں ان کا ریکارڈ ان کمپنیوں تک پہنچتا رہتا ہے اور اس ڈاٹا کی بنیاد پر ہی کمپنیاں ان کی ترجیحات کا اندازہ لگاتی ہیں۔ فحش فلموں کی تیاری اور انہیں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیا جانا بے حیائی کا سب سے بڑا کاروبار بنا ہوا ہے اور اس کاروبار سے کروڑہا روپئے کمائے جا رہے ہیں لیکن ہندستانی معاشرہ میں اس برائی میں ہونے والے اضافہ پر اختیار کردہ خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں آزاد خیالی کے نام پر فحاشی کو فروغ دیتے ہوئے معاشرتی برائیوں کو فروغ دیا جا رہاہے۔ ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ فحش فلم بینی دراصل ایک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری کی بنیادی وجہ مردانہ کمزوری ہوا کرتی ہے اسی لئے اس سے اجتناب کیا جانا ضروری ہے ۔ فحش فلموں کا مشاہدہ کرنے کے عادی نوجوان یا ضعیف العمر کوئی بھی ہوں وہ ذہنی مریض بننے لگتے ہیں اور ان کا یہ مرض انہیں جنسی جرائم کا مرتکب بنا سکتا ہے ۔ دین اسلام میں فحاشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور احادیث میں ’’حیاء کو ایمان کا جز‘‘ قرار دیا گیا ہے جبکہ اس طرح کے فلموں کے مشاہدہ سے بے حیائی فروغ پاتی ہے اور بے حیائی کے فروغ کا مطلب ایمان سے دوری ہوتا ہے۔ امت مسلمہ میں پھیل رہی بے حسی پر ہر کوئی ماتم کناں ہے لیکن اس بے حسی کی بنیادی وجوہات پر کھل کر رائے کے اظہار سے گریز کیا جارہاہے جو کہ معاشرہ کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہونے لگا ہے۔ موبائیل فون کے انٹرنیٹ کے ذریعہ پھیل رہی اس برائی کے اثرات کا باریکی سے جائزہ لیا جائے تو حالیہ عرصہ میں لڑکیوں کی جانب سے شوہروں پر جس طرح کے الزامات لگانے کے واقعات سامنے آئے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ معاشرہ میں یہ برائی کس رفتار سے سرائیت کرتی جا رہی ہے۔ آئمہ مساجد ‘ علمائے کرام ‘ عمائدین ملت اور بااثر قائدین کو اس مسئلہ پر توجہ دیتے ہوئے اس لعنت کے خاتمہ کے سلسلہ میں متحرک ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لعنت نوجوان نسل کو کھوکھلا کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں پر خصوصی نظر رکھیں اور انہیں تنہائی میں رات کے اوقات میں فون کے استعمال سے روکنے کے ممکنہ اقدامات کریں اور ان کے موبائیل فون پر انجام دی جانے والی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے علاوہ ضرورت کے علاوہ انٹرنیٹ کے مثبت استعمال کی ترغیب کو یقینی بنانے کی تاکید کرتے رہیں۔ نوجوانوں میں فون کے استعمال کے بڑھتے رجحان کو ختم کیا جانا ممکن نہیں ہے لیکن اس کے مثبت استعمال کے لئے تحریک چلائی جا سکتی ہے تاکہ معاشرتی تباہی کو روکنے کیلئے اقدامات کو یقینی بنانے میں ہر کوئی اپنا کردار ادا کرسکے۔

TOPPOPULARRECENT