Sunday , April 22 2018
Home / شہر کی خبریں / موبائل کمپنیوں اور بینکوں کی جانب سے آدھار کیلئے دباؤ

موبائل کمپنیوں اور بینکوں کی جانب سے آدھار کیلئے دباؤ

سپریم کورٹ کے احکام نظر انداز ، صارفین اور اکاونٹ ہولڈرس میں بے چینی
حیدرآباد۔20مارچ(سیاست نیوز) آدھار کارڈ کے متعلق سپریم کورٹ کے احکام کے باوجود بینکوں اور موبائیل فون کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو ایس ایم ایس روانہ کرتے ہوئے انہیں اپنے کھاتوں اور موبائیل نمبر کو آدھار سے منسلک کروانے کی تاکید کی جا رہی ہے اوراس طرح کے میسیج عدالتی احکام کی خلاف ورزی ہے لیکن اس کے باوجود تمام موبائیل کمپنیوں اور بینکوں کی جانب سے اس طرح کے ایس ایم ایس روانہ کئے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے بینک کھاتوں یا موبائیل نمبر اور دیگر ضروری خدمات کے لئے آدھار کارڈ کے لزوم کی تاریخ میں غیر معینہ مدت کی توسیع کے فیصلہ کے باوجود اس طرح کے ایس ایم ایس اور فون کالس کے سبب صارفین کو پریشانی کا شکار ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ بینک اور موبائیل کمپنیوں کی جانب سے موصول ہونے والے فون کالس میں یہ کہا جا رہاہے کہ سپریم کورٹ کے احکام اپنی جگہ ہیں لیکن یہ احکامات ابھی تک انہیں موصول نہیں ہوئے ہیں۔ آدھار جاری کرنے والے ادارہ UIDAIکی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ جو سرکاری احکام موصول ہوئے تھے ان کے احکامات کے بعد اب تک کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے بلکہ عدالت کی جانب سے جو احکام جاری کئے جا رہے ہیں ان احکامات پر عمل آوری کو ممکن بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ موبائیل کمپنیوں اور بینکوں کی جانب سے کھاتوں اور موبائیل نمبرات کو آدھار سے مربوط کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جانا عدالتی احکام کے بعد غیر قانونی ہے کیونکہ عدالت نے اس سلسلہ میں واضح ہدایات جاری کردی ہیں لیکن اس کے باوجود اس طرح کا دباؤ ڈالا جانا صارفین کو بیجا پریشان کرنے کے علاوہ ان کی شخصی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ صارفین کا کہناہے کہ بعض بینکوں کی جانب سے ان کے کھاتوں سے منتقلی کو یہ کہتے ہوئے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کے بینک کھاتہ آدھار سے مربوط نہیں ہیں اور جب یہ کہا جا رہاہے کہ آدھار کے لزوم کے سلسلہ میں عدالت عظمی کا حکم التواء ہے تو بینک عہدیدار یہ کہہ رہے ہیں کہ جس وقت بینک کھاتوں کو آدھار سے مربوط کرنے کے احکام جاری کئے گئے تھے تو بینکوں کی جانب سے اپنے سافٹ ویئر میں تبدیلی لاتے ہوئے آدھار کارڈ کے لزوم کا خانہ رکھا گیا اور اس کے بعد سے حکم التواء میں ہونے والی توسیع کے باوجود اب تک اس بات کی کوشش کی جا تی رہی کہ بینک کھاتوں کو چلانے میں کوئی مشکل نہ ہونے پائے لیکن اب جبکہ سافٹ ویئر مکمل کارکرد ہورہا ہے تو ایسی صورت میں آدھار کارڈ کے بغیر لین دین اور منتقلی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اسی طرح موبائیل فون کمپنیو ںکا کہنا ہے کہ حکم التواء کے باوجود اسی لئے ڈاٹا وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ بعد ازاں صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عدالت عظمی کے احکامات کے باوجود خانگی اداروں کی جانب سے آدھار کے لزوم کو یقینی بنانے کے اقدامات پر حکومت کو روک لگانی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT