Wednesday , December 19 2018

موت کے کنویں پر پل کی تعمیر ، عیدی بازار کے عوام کو راحت

قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے تعمیری کام پر 20 لاکھ کے مصارف

قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے تعمیری کام پر 20 لاکھ کے مصارف

حیدرآباد ۔ 13 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور صحافت کے بنیادی فرائض میں عوامی مسائل کو منظر عام پر پیش کرتے ہوئے انہیں راحت فراہم کرنا ہوتا ہے اور روزنامہ سیاست گذشتہ کئی دہوں سے عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اسی وجہ سے آج روزنامہ سیاست ایک اخبار نہیں بلکہ عوام کی ایک تحریک بن چکا ہے ۔ روزنامہ سیاست نے شہر کے ویسے تو کئی مسائل پر مسلسل رپورٹس شائع کرتے ہوئے مسائل کو ختم کرنے کے علاوہ عوام کو راحت پہنچایا ہے اور اس کی ایک کڑی شہر کے گنجان آبادی والے علاقے عیدی بازار کے محمد نگر میں بہنے والے 40 فیٹ کھلے اور کافی گہرے نالے اور اس پر برقی کھمبے کو ڈال کر اسکولی بچوں ، خواتین اور بزرگ افراد کا ایک محلے سے دوسرے محلے پہنچنے والے افراد کی زندگی کو لاحق شدید خطرہ اور اس مسئلے کو حل کرنے کی کامیاب کوشش ہے اور اب اس نالہ پر 20 لاکھ روپئے سے برج تعمیر کی جاچکی ہے ۔ قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ 20 نومبر 2011 کو ایک رپورٹ بعنوان ’ عیدی بازار کا کھلا نالہ عوام کے لیے موت و زیست کی کشمکش ‘ اور پھر 7 نومبر 2012 کو دوسری رپورٹ بعنوان ’ عیدی بازار میں کھلا نالہ انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ ‘ کے عنوان سے شائع کی تھی اور ان رپورٹس میں لکھا گیا تھا کہ عیدی بازار ، محمد نگر ، بلال مسجد کے نزد ایک 40 فیٹ کا کھلا نالہ ہے جس کے ایک سمت محمد نگر اور دوسری سمت اکبر نگر واقع ہے ۔

ان دونوں بستیوں کے لوگ ایک دوسرے سے ملنے ، اسکول جانے والے بچے اور مرد و خواتین اس کھلے نالہ پر دوسری سمت جانے کے لیے محض 9 تا 12 انچ کے سمنٹ کے برقی کھمبے کو پل کی طرح استعمال کرتے ہیں اور نالہ پار کرتے وقت ان کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق رہتا تھا ۔ زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہونے والے نالے پر موجود برقی کھمبے کی مدد سے ایک سمت سے دوسری سمت جانے والے بچوں کے خطرناک منظر کو سیاست نے اپنی ویب سائٹ پر ویڈیو کے ذریعہ پیش کیا تھا جس پر عوام نے اپنے ردعمل میں شدید تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ عیدی بازار کے کھلے نالہ پر مسلسل رپورٹس اور اخبار کے ایک قاری محمد معین الدین کی کمشنر بلدیہ سے نمائندگی کے علاوہ عدالت میں درخواست مفاد عامہ ( پی آئی ایل ) کے بعد اب اس نالہ پر قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ( اے سی ڈی پی ) فنڈ سے 20 لاکھ روپئے مصارف کے ذریعہ 40 فیٹ برج تعمیر ہوچکی ہے ۔ اس نالے کی وجہ سے ایک سمت محمد نگر اور دوسری سمت اکبر نگر کے سینکڑوں افراد کو جو مشکلات اور اس نالے کو عبور کرتے وقت اسکولی بچوں مرد و خواتین کی زندگیوں کو جو خطرہ لاحق تھا اب وہ ٹل چکا ہے ۔

کھلے نالے اور اسے عبور کرنے کے لیے گذشتہ کئی برسوں سے مسائل کا سامنا کرنے والے یہاں کے شہریوں کے لیے نالے پر برج کی تعمیر کسی نعمت سے کم نہیں اور اس برج کی تعمیر کی وجہ سے نالے کے دونوں سمت موجود عوام میں خوشی کی ایک لہر دوڑ چکی ہے کیوں کہ یہ ہی عوام جانتے ہیں کہ انہیں اس نالے کو عبور کرنے میں نہ صرف کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا بلکہ اپنے عزیز و اقارب کے جان کو لاحق خطرہ انہیں ہمیشہ بے چین کرتا تھا ۔ برج کی تعمیر سے نہ صرف اب نالے کو عبور کرنے کا مسئلہ حل ہوچکا ہے بلکہ اس کھلے نالہ کی وجہ سے گندگی ، مچھروں کی کثرت ، بدبو اور تعفن اور اس سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سے بھی عوام کو راحت ملتی نظر آرہی ہے ۔ عیدی بازار کے کھلے نالے پر برج کی تعمیر سے محمد نگر اور اکبر نگر کے شہریوں کو راحت تو مل چکی ہے ۔ لیکن شہر میں ابھی بھی ایسے بے شمار نالے موجود ہیں جو کہ عوام کے لیے موت کے کنویں بنے ہوئے ہیں اور ان پر بھی برجوں کی تعمیر ضروری ہے کیوں کہ ان نالوں کی وجہ سے ہزاروں شہری روزانہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں اور یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہاں ، کب اور کس نالے میں کسی معصوم کے گرجانے اور بری خبر کی اطلاع کے خوف کے سائے میں شہری اپنی زندگی گذار رہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT