Saturday , November 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / موجودہ حالات اور امت مسلمہ کی ذمہ داری

موجودہ حالات اور امت مسلمہ کی ذمہ داری

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ
سارے عالم کے احوال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ موجودہ حالات اُمت مسلمہ کے لئے سخت ترین آزمائش و امتحان کے ہیں دیگر اقوام و ملل جو کئی ایک باطل مذاہب کے پرستار اور آپس میں بڑے اختلاف کا شکار ہیں پھر ہر مذہب کے پیروکاروں کے درمیان بھی بڑے بڑے اختلافات موجود ہیں ۔ اس کے باوجود یہ تمام کے تمام اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور اپنے جیسے باطل مذاہب میں ضم کرنے کی متحدہ کوششوں میں متفق ہیں یا کم از کم ان کے ایمانی رشتے کو کمزور کرکے ان کی مذہبی شناخت اور ان کی ثقافت و تہذیب اور ان کے انفرادی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہیں ۔ اس وقت باطل پورے زور و شور کے ساتھ حق کومٹانے یا دبانے کیلئے تلا ہوا ہے یہی وجہہ ہے کہ استعماری طاقتیں اسلام کے خلاف اپنا سارا زور صرف کر رہی ہیں۔ اسلام دشمن طاقتوں نے افغانستان ‘ عراق و لیبیاء جیسے ممالک میں دہشت گردی کی تاریخ رقم کرکے وہاں کی حکومتوں کا تختہ اُلٹ دیا ہے اور اس مہم میں کئی ایک بے قصور و معصوم جانوں کا اتلاف ہواہے ۔ ملک شا م ، سیریا،مصر ، یمن وغیرہ جیسے بہت سے ممالک دہشت گردی کی زد میں ہیں ۔ دشمنان اسلام خود دہشت گردی کے مرتکب ہیں اور اس کا الزام اسلا م اور مسلمانوں کے سر تھوپ رہے ہیں ۔ مسلم دہشت گردی کے خاتمے کا عنوان بنا کر کئی ایک مسلم ممالک کو تختہ مشق بنا چکے ہیں ۔ برسوں بعد مصر میں جو اسلامی انقلاب آیا تھا وہ اسلا م دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھایا ۔ وہاں شورش پرپا کردی گئی اور حکومت کا تختہ الٹ کر ایک نام نہاد مسلم حکمران کو تختہ حکومت پر بٹھادیا گیا ، تاکہ وہ اسلام کے نام پر اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ ٔکار بن کر اسلام کی شبیہ کو مسخ کرے اور مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھائے ، اس مقصد میں اسلام دشمن طاقتیں کامیا ب ہوتی نظر آرہی ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے اس مقصد کی تکمیل یعنی اس غیر اسلامی حکومت کے قیام کیلئے مسلم حکومت کا سہارا لیا گیا جو آنکھ بند کرکے اسلام دشمن طاقتوںکی آلہ کار بن گئی ہے، اس طرح اسلامی حکومت کے قیام میں مددگار بننے کے بجائے دشمنان اسلام کا ساتھ دے کر اسلامی حکومت کے قیام میں رکاوٹ بننے کے مجرمانہ رول کی یہ مسلم حکومت مرتکب ہوگئی ہے ۔ فلسطین جو برسہا برس سے جنگ کی آگ میں دہک رہا ہے اور فلسطینی مسلمان ظلم و جور کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ سوائے اللہ سبحانہ کے اس وقت ان کا کوئی یار و مدد گار نہیں ہے ۔ اسرائیل خون آشامی ، ظلم و بربریت ، دہشت گردی کی جو تاریخ رقم کر رہا ہے ۔

کوئی اس کا ہاتھ تھامنے والا نہیں، اسلام دشمن طاقتوں نے کبھی جھوٹے منہ ہی سہی مظلوموں کو نہ تو کوئی دلاسہ دیا نا ہی ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف کبھی کوئی مصنوعی آنسو بہائے ۔ لیکن مغربی ممالک میں اگر کوئی یکہ دکا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ساری اسلام دشمن طاقتیں آسمان سر پر اٹھالیتی ہیں ۔ چنانچہ پیرس میں کچھ دن پہلے ہوئے واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کیلئے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیئے گئے اور ہر طرح سے اپنی یگانگت و ہمدردی کا نہ صرف اظہار کیاگیا بلکہ اس کو بہانہ بنا کردہشت گردی کے خاتمے کیلئے متفقہ طور پر ، پُر عزم ہونے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعات بھی اسلام دشمن طاقتیں ہی کرواتی ہیں اور پھر اس کا سہارا لے کر مسلم ممالک میں دہشت گردی پھیلاتی ہیں ۔ ان کی کیفیت ’’خود کوزہ و کوزہ گر و خود گل کوزہ‘‘ کے مصداق معلوم ہوتی ہے۔ ظلم خواہ کہیں ہو اور خواہ کسی پر کیا گیا ہو اسلام اس کی قطعا اجازت نہیں دیتا ،مسلمان اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ،مسلم ممالک اس وقت گویا بارود کے ڈھیر پر ہیں یا وہ ایک آگ کے دہانے پر کھڑے ہیں ، دولت کے زمینی ذخائر ، عیش و راحت کے سارے ساز و سامان کے باوجود چین و سکون مفقود ہے ۔ راحت و آسائش سے بھرپور خواب گاہیں اب ان کو خار دار وادی ہونے کا احساس دلانے لگی ہیں ،نرم و نازک آرام دہ بستروں پر نیند کوسوں دور ہے ۔  خود ہمارے ملک کی صورتحال بھی اس وقت کوئی خوشگوار نہیں ہے ۔ سارے ملک میں نفرت کا زہر عام کردیا گیا ہے ۔ ہندو مسلم جو برسوں سے یہاں آپسی رواداری ، پیار و الفت کے ڈور میں بندھے زندگی گزار رہے تھے اب ان کے درمیان نفرت کی ایک دیوار کھڑی کردی گئی ہے ۔الغرض ہر طرف باطل کی یلغار ہے، طاغوتی طاقتیں اپنی ساری توانائیاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صرف کر رہی ہیں ‘ باطل کے شجر خار دار کی آبیار ی کچھ اس طرح کی جارہی ہے کہ جیسے وہ حق کے ثمر آور پھل و پھو ل سے لدے شجر سایہ دار کی آبیاری کر رہے ہوں ۔ جان ومال ،عزت و آبرو سے کھلواڑ تو بہت پہلے ہی سے ہو رہا تھا لیکن اب ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی پوری تیاری کی جارہی ہے ۔ مسلمانوں کو اس وقت زندہ رہنے کا حق دینے کیلئے ایک ہی مطالبہ جاری ہے کہ وہ اپنے دین سے دستبردار ہوجائیں ۔ اور اپنی تہذیب و ثقافت کا اپنے ہاتھوں گلا گھوٹ دیں، اسلام دشمن طاقتیں ایسے حالات پیدا کر رہی ہیں کہ مسلمانوں کو اسلام پر باقی رہتے ہوئے زندہ رہنا گویا اپنے ہاتھ میں آگ کے انگارے پکڑنے کے مترادف ہوگا ۔ ایسے سخت ترین حالات میں عجب نہیں کہ وہ وقت آجائے کہ اسلا م کو سینے سے لگا کر اس دنیا میں زندہ رہنے کیلئے اپنا سب کچھ دائو پر لگانا پڑے ۔اس امت کا اہم ترین فریضہ منصبی ’’ دعوت وتبلیغ‘‘ ہے ، ضرورت اس با ت کی ہے کہ اس وقت امت مسلمہ اپنے فریضہ منصبی کی طرف متوجہ ہوجائے صرف اور صرف روٹی و روزگار کی تلاش ،عہدہ ومنصب کی تمنا وطلب اس فریضہ منصبی میں بڑی رکاوٹ ہے ،اللہ سبحانہ نے اس امت کو خیر امت بناکر اس کا فریضہ منصبی ’’اخرجت للناس ‘‘ سے بیان فرمایا ہے ۔ حضرت ربعی بن عامر کا کلام ’’ اخرجت للناس‘‘ کا ترجمان ہے ۔ جس کا مطلب ومفہوم یہ ہے ۔’’ بیشک حق سبحانہ وتعالی نے ہمیںاس لئے بھیجا ہے کہ ہم اللہ کے بندوں کو ان جیسے بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لائیں ،دنیا کی تنگی سے ان کو چھٹکارا دلا کر دنیا وآخرت کی وسعت کی طرف راہ دکھائیں ،اور باطل ادیان کے جور وجبر سے نجات دلا کر اسلام کے عدل ومساوات کے سایہ رحمت میں پہنچائیں ۔‘‘( الضوابط المنہجیہ لفقہ الاقلیات /۹۳)
اس لئے ملت اسلامیہ دنیا کے جس حصہ میں رہے اسلام کی سچی نمائندہ بن کر ملت اسلامیہ کی شناخت کو برقرار رکھے، اسلامی اعتقادات ،افکار واعمال ، تہذیب وثقافت کی حفاظت وسلامتی کے ساتھ کرۂ ارض پر بکھری باطل افکار واعتقادات پر جمی انسانیت پر اسلام کے فطری افکار واعمال کی عملی تصویر بن کر اثر انداز ہو ،غیر اسلامی افکار واعمال پر کار بند دنیا ئے انسانیت آج اسلام کو کتابوں میں نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کی زندگی میں چلتا پھرتا دیکھنے کی خواہش مند ہے ،امت مسلمہ اگر ان کی اس تمنا کو پوری کرے تو عجب نہیں کہ وہ گمراہ انسانیت اسلام کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کرلے ۔

TOPPOPULARRECENT