Thursday , April 19 2018
Home / Top Stories / موجودہ حالات میں دستور ہند وکو سنگین خطرات لاحق 

موجودہ حالات میں دستور ہند وکو سنگین خطرات لاحق 

اشی میں جمعیتہ علماء کے زیراہتمام قومی یکجہتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی نے متنبہ کیا کہ ۔ کہاکہ اگر خدانخواستہ ملک کے حالات اسی رخ پر چلتے رہے تو دستور کوذبح کرنے کی کوشش کی جائے گی او اس کا نقصان صرف مسلمانوں کو نہیں ہوگا بلکہ تمام اقلیتیں زد میں ائیں گی۔
واشی۔ ملک کے موجود حالات میں قومی یکجہتی کو فروغ دینا از حد ضروری ہے ۔ اسی کے پیش نظر او رحالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے جمعیتہ علماء ہند نے پورے ملک میں اسے بطور مشن شروع کیاہے ۔

تربھے ناکہ ( واشی) کے بس ڈپو گروانڈ میں ہونے والی اس کانفرنس کے دوران جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے خصوصی خطاب کیا۔ مولانا سید ارشد مدنیت نے تاریخی حوالوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’ مسلمانوں نے 1803سے 1947تک آزادی کی لڑائی لڑی ہے اور اس روشن تاریخ کی بدولت جمعیتہ علماء کے بزرگوں نے ملک کی آزادی کے مقع پر انکھوں میںآنکھیں ملاکر جمہوری دستور کا مطالبہ کیاتھا جس کو کانگریس کے لیڈروں نے قبول کیاتھا۔ اسی دستور کو آج سنگین خطرات لاحق ہیں‘‘ مولانا مدنی نے انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’ کہاکہ اگر خدانخواستہ ملک کے حالات اسی رخ پر چلتے رہے تو دستور کوذبح کرنے کی کوشش کی جائے گی او اس کا نقصان صرف مسلمانوں کو نہیں ہوگا بلکہ تمام اقلیتیں زد میں ائیں گی‘‘۔

مولانا نے یہ بھی کہاکہ گاؤ کشی کے نام پر غنڈہ کگردی مت کروبلکہ اسے قومی جانور بناؤ‘‘۔جمعیتہ علماء ہند کے صدر نے مسلسل دریدہ ذہنی کرنے والے پروین توگڑیا کے تعلق سے کہاکہ ’’ آگ سے کھیلنے والے خود آگ کا شکار ہوتا ہے جس کی تاز مثال ڈاکٹر پروین توگڑیا کی ہے۔ اگرانہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے تو ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ جمعیتہ علماء کے اسٹیج پر پھول برسانے کے لئے اجائیں‘‘۔

سوامی اگنی ویش نے نفرت کی سیاست کرنے والی مودی حکومت کے تعلق سے کپاکہ ’’ ذات پات ‘ بھید بھاو‘ کی موجودہ سیاست اقتدار کی کرسی تک تو پہنچاسکتی ہے مگر یہ ملک کے مستقبل کے لئے تباہ کن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ انسانیت سب سے بڑا دھرم ہے اس کا پالن کرتے ہوئے ہی ملک کو خوشحالی کے راستے پر لایاجاسکتا ہے‘‘۔سکھ مذہب کے رہنما ڈاکٹر راویل سنگھ نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ’’ آج آپ کو انتہا پسندی کا طعنہ دیاجاتا ہے تو اسکادرد ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ 80کی دہائی میں ہماری قوم کو بھی ان ہی حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا‘‘۔

انہو ں نے یہ بھی کہاکہ ’’ مظلوموں کی داد رسی ہمارے مذہب کی تعلیم کا حصہ ہے ہم اس گھڑی میں پوری طرح آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔جین مذہب کی نمائندگی کرنے والے لیڈر ستیہ نندمہاراج نے کہاکہ ’’ اسلام صرف آپ کا مذہب نہیں ہے بلکہ یہ پورے عالم کے لئے ہے اورمسلمانوں کو اپنے خول سے باہر نکلنے او راسے عام کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

قومی یکجہتی کانفرنس کے انعقاد سے قبل صبح کے وقت نیرول جامع مسجد میں مولانا مستقیم احسن اعظمی کی صدرات میں ہونے والی صوبائی مجلس منتظمہ کی میٹنگ میں جمعیتہ علماء مہارشٹرا کے جنرل سکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی ‘ مفتی محمد یوسف (خازن) مفتی حفیظ اللہ قاسمی او رشعبہ نشرواشاعت کے ذمہ دار مولانا محمد عارف عمری نے مختلف تجاویز پیش کئے۔ اس کے علاوہ اضلاع کی سطح پر جمعیتہ کے عہدیدارن نے اپنی رپورٹ پیش کی ۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے نظامت کی ۔ قومی یکجہتی کانفرنس میں حاضرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

TOPPOPULARRECENT