Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے فکر آزاد کے ازسر نو مطالعہ کی ضرورت

موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے فکر آزاد کے ازسر نو مطالعہ کی ضرورت

اردو یونیورسٹی میں صحافی سعید نقوی و دیگر کا خطاب

اردو یونیورسٹی میں صحافی سعید نقوی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ) : مولانا آزاد ہندوستان کو کسی منزل پر لے جانا چاہتے تھے اور ان کے ویژن اور مشن پر کہاں روک لگادی گئی اس کو جاننے کے لیے ہمیں مولانا آزاد پر دوبارہ ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف صحافی سعید نقوی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں یوم آزاد تقاریب میں اپنے توسیعی خطبہ بعنوان ’’مولانا آزاد ایک عظیم مدبر‘‘ کے تحت کیا۔ جلسہ کی صدارت شیخ الجامعہ محمد میاں نے کی۔ سعید نقوی نے مزید کہا کہ آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اور ملک جس رخ پر جارہا ہے، اس کو ہم مولانا آزاد کی فکر کے سہارے سمجھ سکتے ہیں۔ مولانا آزاد کو اس خطرہ کا پورا احساس تھا اور انہوں نے اس وقت ہی ان نتائج سے خبردار کردیا تھا۔ نئی نسل کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ 1947 میں ہمارے قائدین نے ہم سے پوچھے بغیر کیسے سمجھوتہ کرلیا جس کی سزا ہمیں آج تک بھگتنی پڑ رہی ہے۔ میں یہ سوال اس لیے اٹھا رہا ہوں کہ ہمیں احساس ہو کہ کیا ہونا چاہئے تھا اور کیا ہوا۔ مولانا نے دو قومی نظریہ کی سخت مخالفت کی تھی۔ وہ خالص ہندو یا خالص مسلم سماج اور ملک کے حق میں نہیں تھے۔ انہوں نے مسلمان لیڈروں سے پوچھا تھا کہ تشکیل پاکستان کس حد تک تمہارے حق میں مفید ہوگا؟ سعید نقوی نے مولانا آزاد کے حوالے سے کہا کہ ہندوستان میں ہندو اقدار، ہندتوا ذہنیت کے پیچھے خلافت تحریک کا بھی بڑا اثر رہا ہے۔ خلافت تحریک کے دوران جس طرح سے انگریزوں نے اسلام کے بین الاقوامی تصور کے خلاف پروپیگنڈہ کیا تھا، اس کے نتیجے میں ہندو انتہاء پسندی بھی بڑھی ۔ انہوں نے مولانا آزاد اور پنڈت نہرو کی دوستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پوری کانگریس ورکنگ کمیٹی میں سوائے پنڈت نہرو کے ایک شخص بھی نہیں تھا جس پر مولانا کو اعتماد تھا۔ پنڈت نہرو مولانا آزاد کی بڑی قدر کرتے تھے اور ان کی سیاسی بصیرت و علمی قابلیت و اہلیت کے قائل تھے۔ جس کا اظہار انہوں نے اپنی بیٹی اندرا گاندھی کو لکھے خطوط میں کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مولانا آزاد حیرت انگیز یادداشت اور زرخیز دماغ کے مالک ہیں۔ مولانا کے پاس بے انتہاء علم ہے لیکن وہ دوست کم رکھتے ہیں۔ اپنی کتاب انڈیا ونس فریڈم میں بطور خاص پاکستان کی تشکیل کے لیے سردار پٹیل کو ذمہ دار قرار دیا۔ وائس چانسلر پروفیسر محمد میاں نے صدارتی اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد نے بھی خطاب کیا ۔ ڈاکٹر احتشام احمد خان، صدر شعبۂ ماس کمیونکیشن اینڈ جرنلزم نے مہمان کا تعارف اور خیر مقدم کیا۔ پروگرام کی ابتداء کلام پاک سے ہوئی۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار نے کلمات تشکر پیش کیے۔

TOPPOPULARRECENT