Friday , August 17 2018
Home / شہر کی خبریں / موجودہ زمانے کے فتنوں سے نمٹنے کیلئے دینی تعلیم کا فروغ لازمی

موجودہ زمانے کے فتنوں سے نمٹنے کیلئے دینی تعلیم کا فروغ لازمی

جامعہ نظامیہ کا 147 واں جلسہ تقسیم اسناد عطائے خلعت و دستار بندی، مولانا مفتی خلیل احمد کا خطاب

حیدرآباد۔ 17 ۔ فروری ۔ ( پریس نوٹ ) ۔ جنوبی ہند کی باوقار علمی دانش گاہ جامعہ نظامیہ کا 147 واں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد عطائے خلعت و دستار بندی شیخ الاسلام حضرت انوار اللہ فاروقی ؒ کے 103 ویں عرس شریف کے موقع پر حسب روایت منعقد ہوا ۔ مولانا سید محمد صدیق حسینی عارف کارگزار امیر جامعہ نظامیہ نے صدارت کی ۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے خیر مقدم کیا ۔ اس موقع پر ملک کے ممتاز علماء ، مشائخ ، دانشوران اور فارغین دینی مدارس کی کثیر تعداد شریک تھی ۔ تعلیمی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جامعہ میں تعلیمی سال 2016-17 میں جملہ 6609 طلبہ و طالبات نے سالانہ امتحانات میں شرکت کی جو جنوبی ہند کا سب سے بڑا تعلیمی نیٹ ورک کہلاتا ہے ۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ نے خیر مقدمی خطاب کرتے ہوئے جامعہ کی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ عصر حاضر کے چیالنجس سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ اسکالرس کی تیاری میں مصروف ہے ۔ شیخ الجامعہ نے کہا کہ بانی جامعہ کے مقصد قیام پر پوری طرح عمل پیرا رہتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام ہی کے منشاء کے مطابق عصر حاضر کی ضرورتوں کو درسیات میں شامل کیا گیا ہے ۔ انگریزی ، کمپیوٹر اور عربی اردو انگریزی ترجمہ کا خصوصی شعبہ قائم کیا گیا ہے ۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے کہا کہ آج مسلم معاشرہ میں لڑکیاں عصری تعلیمی میدان میں لڑکوں سے آگے ہیں ۔ دینی تعلیم کے معاملہ میں بھی لڑکیوں کے اندر کافی شوق و ذوق پیدا ہوگیا ہے ۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے کلیتہ البنات جامعہ نظامیہ کے علاوہ ملحقہ مدارس میں بھی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔ چنانچہ گلبرگہ شریف میں درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کے سجادہ نشین ڈاکٹر خسرو حسینی کی جانب سے ایک عالیشان عمارت تعمیر کی گئی جس میں طلبہ کے علاوہ علحدہ طور پر لڑکیوں کی تعلیم کا منظم انتظام کیا جارہا ہے ۔ رائچور میں خواجہ بہاؤ الدین فاروق انجینئر رکن معزز جامعہ نظامیہ کی کوششوں سے لڑکیوں کے لیے مستقل کالج قائم کیا گیا ۔ محبوب نگر میں کلیتہ البنات سے فارغ طالبات کا زبردست نیٹ ورک کام کررہا ہے جہاں ہزاروں طالبات زیور علم سے آراستہ ہورہی ہیں ۔ اورنگ آباد میں بھی عنقریب لڑکیوں کے لیے کالج قائم کیا جائے گا ۔ یہ سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے موجودہ زمانے کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دینی تعلیم کے فروغ کو وقت کی اولین ضرورت قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے ضرور آراستہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلام کے سو سالہ عرس شریف کے موقع پر حکومت تلنگانہ کی جانب سے چیف منسٹر نے ایک عصری آڈیٹوریم کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جس کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور تکمیلی مراحل میں ہے ۔ ان شاء اللہ آئندہ دو چار مہینوں میں یہ آڈیٹوریم مکمل ہوسکتا ہے ۔ نائب شیخ الجامعہ مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ نے تعلیمی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ جامعہ نظامیہ کو قائم ہوئے ( 147 ) سال ہوئے مورخہ 9 شوال المکرم 1438 ھ م 4 جولائی 2017 روز سہ شنبہ کو نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوا ۔ امتحانات سالانہ منعقدہ ماہ شعبان المعظم 1438 ھ مطابق ماہ مئی 2017 ء میں جملہ ( 6609 ) طلبہ شریک ہوئے جن کی تفصیل یہ ہے ۔ سال آخر سندی درجات میں شرکاء امتحان کی جملہ تعداد ( 537 ) رہی اور کامیاب ( 445 ) نتیجہ کامیابی 86 فیصد رہا ۔ جن میں مولوی ( 199 ) عالم ( 104 ) فاضل ( 95 ) کامل التفسیر ( 1 ) کامل الحدیث ( 8 ) کامل الفقہ ( 38 ) ۔ مولوی تا کامل سال اول غیر سندی درجات میں شریک امیدواروں کی تعداد ( 993 ) رہی جن میں کامیاب امیدواروں کو سال آخر سندی درجات میں شرکت کا اہل قرار دیا گیا ۔ امتحانات قرات سبعہ و عشرہ و قرات سیدنا امام عاصم کوفی ؒکے شرکاء امتحان کی تعداد (2311 ) رہی جن میں ذکور کی تعداد ( 899 ) اناث کی تعداد ( 1412 ) ہے ۔ جس میں جملہ ( 1645 ) امیدواروں نے مختلف درجوں سے کامیابی حاصل کی اور نتیجہ کامیابی 79 فیصد رہا ۔ سندی درجات مولوی تا کامل میں جملہ 445 امیدواروں اور حفظ قرآن مجید سے فارغ 242 طلبہ وطالبات کو اسناد اور حسب روایت قدیم 95 فاضلین جامعہ اور 242 حفاظ جامعہ کو دستار فضیلت و خلعت شیوخ کرام جامعہ نظامیہ کے دست مبارک سے عطا کئے گئے ۔ جامعہ نظامیہ کے امتیازی درجہ سے کامیاب طلبہ وطالبات کو گولڈ میڈلس بزم طلبائے قدیم و محبان جامعہ نظامیہ ( جدہ ) کی جانب سے دئیے جاتے ہیں ۔ سال حال 10 گولڈ میڈلس دئیے گئے ۔ محمد سراج ‘کامل الفقہ کو حضرت شیخ الاسلام حافظ محمد انوار اللہ فاروقی قدس سرہ بانی جامعہ نظامیہ گولڈ میڈل‘منجانب جناب محمد مصلح الدین جاوید بتوسط بزم طلبائے قدیم ومحبان جامعہ نظامیہ (جدہ )۔حافظ محمدعبد الروف ‘کامل الفقہ کو حضرت شاہ ولی اللہ صوفی محدث دہلوی گولڈ میڈل ‘منجانب خانقاہِ روضۃ الاصفیاء شاہ ولی اللہی سکندرآباد۔محمدعبد الحمید ‘کامل الفقہ کو حکیم سجاد گولڈ میڈل‘ منجانب حکیم مظفر علی سجاد ۔ محمد عمران عثمانی ‘فاضل جامعہ کو حضرت شاہ آغا داود ابوالعلائی علیہ الرحمہ گولڈ میڈل ‘ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد ۔ شیخ حسین ‘ فاضل جامعہ کو حضرت شاہ عبد العزیز صوفی محدث دہلوی گولڈ میڈل ‘ منجانب خانقاہِ روضۃ الاصفیاء شاہ ولی اللہی سکندرآباد۔ محمد عامر الدین غوری ‘ فاضل جامعہ کوحضرت سید شاہ عبدالقادر صوفی محدث سکندرآبادی گولڈ میڈل ‘ منجانب خانقاہِ روضۃ الاصفیاء شاہ ولی اللہی سکندرآباد ۔ محمد عقیل ‘ فاضل جامعہ جناب سرتاج محمد خان مرحوم گولڈ میڈل منجانب محترم سراج محمد خان (جدہ) ۔ فاضل ‘ فاضل جامعہ کو حضرت خواجہ محبوب اللہ شاہ ؒگولڈمیڈل ‘ منجانب انتظامی کمیٹی درگاہ حضرت خواجہ محبوب اللہ شاہ علیہ الرحمہ۔ سمیرہ فاطمہ ‘ فاضل جامعہ کو امام سبکی ؒ میڈل رکن پارلیمنٹ حیدرآباد ۔مریم سلطانہ ‘ فاضل جامعہ کو حکیم سجاد گولڈ میڈل‘ منجانب حکیم مظفر علی سجاد ۔ مالی رپورٹ جناب سید احمد علی معتمد جامعہ نظامیہ پیش کی ۔ حافظ محمد احمد علی قادری کی قرات اور محمد منیر احمد کی نعت سے جلسہ کا آغاز ہوا ۔ سید محمد بہاء الدین زبیر نے عربی ، سید محمد مصباح الدین عمیر نے اردو میں ، جب کہ انگریزی زبان میں محمد عرفان قادری نے تقریر کی ۔ مولانا سید واحد علی قادری نے تذکرہ حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ علیہ الرحمتہ پیش کیا ۔بدست شیوخ جامعہ عطائے خلعت و دستار بندی ، فاضلین جامعہ نظامیہ عمل میں آئی ۔ کارگزار امیر جامعہ مولانا سید صدیق حسینی عارف نے اسناد ، انعامات و گولڈ میڈل تقسیم کئے ۔ جناب سید احمد علی معتمد جامعہ نظامیہ نے کلمات تشکر ادا کیا ۔ بعد ازاں طلبائے جامعہ نظامیہ نے بعد نماز عشاء قصیدہ بردہ شریف پیش کیا ۔ مولانا حافظ محمد عبید اللہ فہیم قادری ملتانی منتظم جامعہ نظامیہ نے انتظامات کی نگرانی کی ۔بعد نماز عصر مسجد انوار جامعہ نظامیہ میں شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ کے 103 ویں عرس شریف کی مناسبت سے ختم قرآن مجید کا اہتمام کیا گیا ۔ بعد ازاں مزار مبارک پر چادر گل پیش کی گئی ۔ مولانا محمد فصیح الدین نظامی لائبریرین جامعہ نظامیہ نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔

TOPPOPULARRECENT