Friday , September 21 2018
Home / ہندوستان / مودی، ایران سے تیل کی درآمد میں تخفیف کی وجہ بتائیں :کانگریس

مودی، ایران سے تیل کی درآمد میں تخفیف کی وجہ بتائیں :کانگریس

وزیراعظم نے امریکی دباؤ قبول کرلیا۔ عام آدمی پر بوجھ بڑھے گا
نئی دہلی ،12جولائی (سیاست ڈاٹ کام)کانگریس نے وزیر اعظم نریندرمودی پر امریکہ کے دباؤمیں قومی مفاد سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان سے ملک کو یہ بتانے کامطالبہ کیاہے کہ ایران سے تیل کی درآمدات میں بڑے پیمانے پر تخفیف کن اسباب سے کی گئی ہے ۔کانگریس ترجمان جے ویر شیر گل نے جمعرات کو یہاں صحافیوں سے کہاکہ پٹرول اور ڈیزل کی آسمان چھورہی قیمتوں سے ملک کے عوام پہلے سے ہی پریشان ہیں اور اب ایران سے بڑے پیمانے پر تیل کی درآمدات میں تخفیف کرکے عام آدمی کو لوٹنے کی تیاری ہے ۔تیل کی درآمدات میں تخفیف سے تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور اس کا براہ راست اثر مہنگائی پر پڑے گا۔انھوں نے الزام لگایاکہ امریکہ اور ایران کے رشتوں میں پیداہوئی تلخی کی وجہ سے مودی حکومت نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور ملک کے مفاد سے سمجھوتہ کیاہے ۔انھوں نے کہاکہ ایران ملک کی 15فیصدتیل کی ضرورت پوری کرتاہے اور چین کے بعد ہندستان کا دوسرا سب بڑا گاہک ہے ۔ہندستان ایران سے یومیہ 7لاکھ 70ہزار بیرل تیل درآمد کرتاہے لیکن امریکہ کے سامنے جھکتے ہوئے تیل کی درآمدات میں تخفیف کی گئی اور یومیہ محض 5لاکھ 70ہزار بیرل کی درآمدات ہورہی ہے ۔ ترجمان نے کہاکہ ملک اپنی تیل کی ضرورت پوری کرنے کے لئے 80فیصدتیل درآمد کرتاہے ۔ایران کے ساتھ ہمارے رشتے بہت اچھے ہیں اور اس سے تیل کی سپلائی میں تخفیف نہیں کی جانی چاہئے تھی لیکن مودی حکومت نے یہ قدم اٹھاکر ملک کے عوام کی محنت کی کمائی لٹادی ہے ۔ملک میں تیل کی برآمد کم ہونے سے حکومت اسکی قیمت بڑھاسکتی ہے ۔ شیر گل نے کہاکہ مودی حکومت ‘فائدہ میرااور نقصان تیرا’کی پالیس پر کام کررہی ہے ۔تیل سے جب کمائی کی بات آتی ہے تو حکومت اسکا فائدہ اٹھاتی ہے اور جب خسارہ ہوتاہے تو اسے عوام پر ڈال دیتی ہے ۔عالمی بازار میں جب تیل کی قیمتیں بہت کم تھیں تو ہندستان کی سرکاری کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کو اونچی قیمتوں پر فروخت کرکے اس سے دس لاکھ کروڑ روپئے کی کمائی کی ۔انھوں نے کہاکہ کمپنیوں کے ذریعہ کی گئی اس کمائی کا فائدہ اب عوام کو ملناچاہئے ۔انھوں نے کہاکہ امریکہ اورایران کے درمیان پہلی بار کشیدگی پیدانہیں ہوئی ہے ۔اس سے پہلے 2012میں بھی دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی پیداہوئی تھی لیکن ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت نے دونوں کے مابین رشتوں کو دیکھتے ہوئے متوازن طریقہ سے کام کیاتھا اور ملک کے عوام پر اس کا بوجھ نہیں پڑنے دیا۔

TOPPOPULARRECENT