Tuesday , January 23 2018
Home / سیاسیات / مودی’ وکاس‘ نہیں ’ویناش پرش ‘: اوما بھارتی

مودی’ وکاس‘ نہیں ’ویناش پرش ‘: اوما بھارتی

نئی دہلی 17 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے انتخابی حربہ کے طور پر بی جے پی کی سینئر پارٹی لیڈر اوما بھارتی کا ایک ویڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں اوما بھارتی نے بی جے پی وزارت عظمی امیدوار نریندر مودی کو وناش پرش ( تباہی کا ذمہ دار ) قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ گجرات میں جو ترقی کے دعوے کئے جارہے ہیں وہ سب کھوکھلے اور بے بنیاد ہیں۔ یہ آڈیو

نئی دہلی 17 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے انتخابی حربہ کے طور پر بی جے پی کی سینئر پارٹی لیڈر اوما بھارتی کا ایک ویڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں اوما بھارتی نے بی جے پی وزارت عظمی امیدوار نریندر مودی کو وناش پرش ( تباہی کا ذمہ دار ) قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ گجرات میں جو ترقی کے دعوے کئے جارہے ہیں وہ سب کھوکھلے اور بے بنیاد ہیں۔ یہ آڈیو ویڈیو کلپ اس وقت کا ہے جب اوما بھارتی نے بی جے پی سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد بھارتیہ جن شکتی پارٹی بنائی تھی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے گجرات کے ہندووں کو کبھی اتنا خوفزدہ نہیں دیکھا تھا اور گجرات کی ریاست خوفزدہ عوام کی ریاست بن گئی تھی ۔

کانگریس کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے اعتراف کیا کہ یہ سی ڈی اس وقت کی ہے جب اوما بھارتی بی جے پی میں نہیں تھیں۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ اوما بھارتی نے گجرات کے چیف منسٹر کے ترقی کے دعووں اور ان کے ہندوتوا ایجنڈہ پر بھی تنقید کی تھی ۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ اوما بھارتی یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ مودی کو 1973 سے جانتی ہیں۔ وہ کوئی وکاس پرش نہیں بلکہ ویناش پرش ( تباہی کے ذمہ دار ) ہیں ۔ گجرات میں ان کے ترقی کے دعوے اور عوام کی ترقی کا نعرہ بالکل فرضی اور غلط ہے ۔ گذشتہ پانچ سال میں گجرات کی ریاست سب سے زیادہ مقروض ہوگئی ہے ۔ گجرات میں نہ رام ہے نہ روٹی ہے ۔ اسے ویناش پرش سے آزاد کروانے کی ضرورت ہے ۔ اوما بھارتی نے اس ویڈیو میں کہا کہ یہ میڈیا ہے جس نے مودی کو اتنا بڑا بنادیا ہے ۔ غبارہ میں ہوا بھری گئی ہے ۔ اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس غبارہ کی ہوا خارج کریں۔ اوما بھارتی نے الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ مخالف بی جے پی سیاسی جماعتوں نے ان کی تقریر کے چیدہ چیدہ حصے پیش کئے ہیں ۔ انہوں نے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

کجریوال کو وارناسی میں عوامی احتجاج کا سامنا ، پولیس کی مداخلت
وارناسی۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی لیڈر اروند کجریوال کو آج عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا جو نریندر مودی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے جس پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کردیا۔ یہ واقعہ آج رات اس وقت پیش آیا جب کجریوال انتخابی مہم کے بعد واپسی کے دوران بنارس ہندو یونیورسٹی علاقہ کے قریب واقع مشہور پان شاپ پر رُکے۔ احتجاجی جارحانہ موڈ میں تھے لیکن کجریوال کو کوئی گزند نہیں پہونچی اور پولیس نے وہاں بروقت پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا۔ بعدازاں وہاں موجود پولیس عملہ نے بتایا کہ ہجوم جیسے ہی جمع ہونا شروع ہوا ، کجریوال سے چلے جانے کی خواہش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ وہ احتجاجیوں کو پھول پیش کرنا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT