Thursday , November 23 2017
Home / اداریہ / مودی : امریکہ کے چار دورے

مودی : امریکہ کے چار دورے

وزیراعظم نریندر مودی نے دو سال کے دوران امریکہ کا چار مرتبہ دورہ کیا ۔ اس مرتبہ ان کا یہ دورہ اعلیٰ سطحی چوٹی کانفرنس پر مبنی ہے ۔ صدر براک اوباما کے ساتھ امریکی کانگریس کے مشترکہ سیشن سے خطاب ، امریکی تھنک ٹینک سے با ت چیت ہند۔ امریکی تعلقات میں قابل نوٹ بہتری کی نشانیاں سمجھا جارہا ہے ۔ امریکہ میں نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب اور ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی دعویداری کے درمیان بعض مبصرین نے مودی اور ٹرمپ کی پالیسیوں میں یکسانیت کو محسوس کیا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف ٹرمپ کی پالیسی ہندوستان کی موجودہ حکمراں پارٹی اور اس کے سربراہ کی پالیسی سے ہم آہنگ پائی جارہی ہے تو مستقبل میں سیاسی حالات کو بدلنے میں یہ دونوں قائدین اہم رول ادا کرسکتے ہیں مگر نومبر کے آنے تک عالمی سطح پر ہند۔امریکہ تعلقات کو ایک بلند سطح عطا کرنے کی صدر امریکہ براک اوباما نے اچھی کوشش کی ہے ۔ مودی کے دوروں کو ان کی ذاتی شخصیت سے تعبیر کرنے سے زیادہ ہندوستان کی اہمیت کو نمایاں کرنے میں کوتاہی نہیں کی جاسکتی کیوں کہ مودی صرف شخصی طورپر امریکہ کیلئے کچھ نہیں ہیں امریکہ میں ان کا دورہ ہندوستانی وزیراعظم کی حیثیت سے ہورہا ہے ۔ اس بات کا اندازہ ازخود مودی کو بھی ہوگا اگر نہیں ہے تو پھر یہ خوش گمانی میں مبتلا نہیں ہوسکتے کہ جس امریکہ نے انھیں ویزا دینے سے انکار کیا تھا

اب وہاں ان کی دو سال میں مسلسل چوتھی مرتبہ زبردست پذیرائی ہورہی ہے ۔ امریکہ کی وزیراعظم مودی سے زیادہ ہندوستان کی تیزی سے ہونے والی ترقی اور بڑھتی مارکٹ قدر پر نظر ہے ۔ ایف 16 سے لیکر آئی فونس کی مارکٹ تک کے لئے ہندوستان اس وقت ساری دنیا میں ایک بہترین تجارتی مرکز بنتا جارہا ہے ۔ وزیراعظم مودی نے جب سے میک ان انڈیا کا نعرہ بلند کیا ہے مینوفیکچرنگ شعبہ میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے ۔ دونوں ممالک کا مشترکہ مفاد بھی اسی تجارتی مارکٹ میں پوشیدہ ہے ۔ چین کی بڑھتی فوجی و معاشی طاقت کے سامنے ہندوستان سے دوستی کو مضبوط بناکر امریکہ اپنے معاشی مفادات کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے ، ایسے میں نریندر مودی محض اس کیلئے ایک ذریعہ راہ ہیں ۔ براک اوباما نے اس سے قبل ستمبر 2014 ء میں واشنگٹن میں مودی کی میزبانی کی تھی اس کے بعدبراک اوباما کو جنوری 2015 ء میں یوم جمہوریہ ہند کیلئے مہمان خصوصی بنایا گیا تھا ۔ اس لئے اوباما اور مودی کے درمیان اس طرح کی ملاقاتوں کو تعلقات میں مزید بہتری کے طورپر دیکھا جارہاہے۔ مودی کو بحیثیت ایک فرد 2005 ء میں امریکہ کا دورہ کرنے کیلئے ویزا دینے سے انکار کردیا گیا تھا ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے گجرات مسلم کش فسادات کیلئے مودی کو ذمہ دار مان کر احتجاج کیا تو امریکہ نے ویزا دینے سے گریز کیا تھا لیکن اب مودی شخصی طورپر امریکہ کیلئے کچھ نہیں ہیں بلکہ وزیراعظم ہند کو امریکہ میں ایک مقام حاصل ہے جس کا فائدہ مودی اُٹھارہے ہیں۔ ہندوستان کو مائیکرو معیشت میں چین کے مقابل تیزی سے کامیابی مل رہی ہے ۔

اس لئے امریکہ کی بڑی کمپنیاں وال مارٹ ، فیس بک ، ایپل نے ہندوستان میں اپنے تجارتی مراکز قائم کئے اور ان کی تجارت کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ غذائی مارکٹ کیلئے ہندوستان اس لئے مقبول ہے کہ یہاں عوام کی اکثریت کھانے پینے اور خود پر نمود و نمائش کیلئے خرچ کرنے میں احتیاط سے کام نہیں لیتی ۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے معاشی اصلاحات نے ہندوستانی معیشت کو مستحکم بنایا ہے ۔ امریکہ میں مودی کو انہی اصلاحات کی وجہ سے اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا اعزاز مودی کو اس لئے بھی حاصل ہوا ہے کیونکہ ہندوستان کے سابق وزرائے اعظم نے امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں مضبوطی پیدا کرنے کی جانب کام کیا تھا ۔ ہندوستان کے سابق وزرائے اعظم جیسے راجیوگاندھی نے 13 جون 1985ء کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا ۔ 19مئی 1994 ء کو سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ ، اٹل بہاری واجپائی نے 14 ستمبر 2000 ء میں اور منموہن سنگھ نے 19 جولائی 2005 ء کو خطاب کیا تھا ۔ اس طرح ہندوستان کی اعلیٰ شخصیتوں کو محض دستور ہند اور ہندوستانی کی سیکولر و جمہوری تاریخ کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی ہے ۔ دو سال میں امریکہ کا چار مرتبہ دورہ کرنے والے نریندر مودی کو ہندوستانی دستور اور جمہوریت و سیکولر مزاج کا شکر گذار ہونا چاہئے اور بیرون ہند ملک کی جو سیکولر شبیہ ہے اس کو مضبوط بنانے کیلئے کام کرنا چاہئے تاکہ آنے والے برسوں میں ہندوستان نظریاتی تشددو فرقہ پرستی کی وجہ سے دنیا بھر میں یکا و تنہا نہ رہ سکے۔

TOPPOPULARRECENT