Tuesday , September 25 2018
Home / سیاسیات / مودی انتخابی اخراجات کی وضاحت کریں ‘ ترقی کے دعوے حقائق سے بعید

مودی انتخابی اخراجات کی وضاحت کریں ‘ ترقی کے دعوے حقائق سے بعید

نئی دہلی 20 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی وزارت عظمی امیدوار نریندر مودی پر تازہ تنقید کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی لیڈر راج موہن گاندھی نے کہا کہ بی جے پی لیڈر کو چاہئے کہ وہ اپنے انتخابی اخراجات کی وضاحت کریں اور خود کو اپنی خود ساختہ کامیابیوں کی تشریح کیلئے میڈیا میں پیش کریں۔ راج موہن گاندھی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی ک

نئی دہلی 20 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی وزارت عظمی امیدوار نریندر مودی پر تازہ تنقید کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی لیڈر راج موہن گاندھی نے کہا کہ بی جے پی لیڈر کو چاہئے کہ وہ اپنے انتخابی اخراجات کی وضاحت کریں اور خود کو اپنی خود ساختہ کامیابیوں کی تشریح کیلئے میڈیا میں پیش کریں۔ راج موہن گاندھی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال وارناسی میں مودی سے مقابلہ کریں کیونکہ چیف منسٹر گجرات یہ تاثر رکھتے ہیں کہ کوئی بھی انہیں چیلنج کرنا نہیں چاہتا ۔ راج موہن گاندھی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کوئی ان سے سوال نہیں کر رہا ہے ۔ انہوں نے کسی صحافی سے واضح سوالات کے جواب نہیں دئے ہیں۔

وہ پہلے سے طئے شدہ خصوصی انٹرویو میں شرکت کر رہے ہیں۔ صرف چند صحافیوں کو انہیں چبھتے ہوئے سوال کرنے کا موقع ملا ہے ۔ وہ ایسے سوالوں سے بچے ہوئے ہیں لیکن اب اروند کجریوال نے کچھ بنیادی سوالات کئے ہیں جو ہر ایک سے ہوتے ہیں۔ راج موہن گاندھی ‘ گاندھی جی کے پوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی کافی بڑی ریلیاں منعقد کر رہے ہیں اور چارٹر طیارہ میں سفر کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ کوئی غلط نہیں ہے اس کی بنیادی وجہ بھی ہے لیکن آپ کو چاہئے کہ یہ واضح کریں کہ ان ریلیوں کے اخراجات کون ادا کر رہا ہے ۔ راج موہن گاندھی مشہور ماہر تعلیم ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ مودی نے ترقی کے تعلق سے جو دعوے کئے ہیں وہ حقائق سے میل نہیں کھاتے ۔

انہوں نے کہا کہ مودی کے دعوے ریکارڈ سے مختلف ہیں ۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گجرات میں کرپشن روکنے انہوں نے کچھ نہیں کیا اور اب کہہ رہے ہیں کہ وہ کرپشن کا مسئلہ حل کرینگے ۔ ایسی کوئی مثال نہیں ہے کہ انہوں نے کرپشن ختم کرنے کچھ بھی کیا ہو۔ راج موہن گاندھی دہلی میں مشرقی دہلی حلقہ سے دو مرتبہ کے رکن پارلیمنٹ سندیپ ڈکشت سے مقابلہ کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پارٹی سے مشاورت کے بعد اس نشست سے مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشاورت سے کیا گیا فیصلہ ہے ۔ یہاں عام آدمی پارٹی کو اچھی تائید حاصل ہے ۔

اس کا اتر پردیش سے بھی اہم تعلق ہے اور یہاں صنعتیں ہیں ۔ یہاں بسنے والی آبادی ہندوستان کے کونے کونے سے آئے ہوئے عوام کی ہے ۔ وہ اس حلقہ میں دو ہفتے قبل ہی انتخابی مہم شروع کرچکے ہیں اور ان کا الزام ہے کہ یہاں عوام کو بنیادی سہولتیں اور انفرا اسٹرکچر حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ایک چیلنج ہے ۔ یہاں مسائل کی ایک طویل فہرست ہے ۔ صفائی کا مسئلہ ہے ‘ پارکنگ کا مسئلہ ہے ‘ پانی اور سیوریج کا مسئلہ ہے ‘ خواتین کے عدم تحفظ کا مسئلہ ہے جن کو حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پینے کا پانی فراہم نہیں کیا جاتا اور عوام کو ماہانہ 2000 روپئے پانی پر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں کانگریس اقتدار ہے اور دہلی بلدیہ بی جے پی کے قبضے میں ہے لیکن دونوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ارکان اسمبلی ‘ میونسپل کارپوریشن اور متعلقہ حکام کے تال میل سے حل کئے جاسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT