Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / مودی اورشاہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

مودی اورشاہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام ‘ کانگریس کا بیان
نئی دہلی ۔ 14ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے الیکشن کمیشن میں درخواست پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ‘ کیونکہ انہوں نے شعبہ صنعت کی ایک تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے گجرات انتخابات کے آخری مرحلہ کی شام اہم اپوزیشن پارٹی پر تنقید کی ۔ کانگریس کی شکایت کل الیکشن کمیشن کے راہول گاندھی کو بادی النظر میں گجراتی ٹی وی چینلوں کو انٹرویو دے کر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے کے پس منظر میں سامنے آئی ۔ کانگریس قائدین کا ایک وفد جو اشوک گہلوٹ ‘ آنند شرما اور رندیپ سرجے والا پر مشتمل تھا ۔ الیکشن کمیشن کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نریندر مودی اور دیگر بی جے پی قائدین کے خلاف پریس کانفرنس اور جلسوں سے خطاب کرنے کے جرم میں جو گجرات انتخابات کے آخری مرحلہ کی شام منعقد کئے گئے تھے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے جرم میں شکایت درج کی جائے ۔ آنند شرما نے الیکشن کمیشن سے ملاقات سے قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک یادداشت کے ساتھ الیکشن کمیشن جارہے ہیں جس میں وزیراعظم نریندر مودی قومی صدر بی جے پی امیت شاہ ‘ مرکزی وزراء ارون جیٹلی اور پیوش گوئل کے علاوہ دیگر کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار ہونا چاہیئے ۔ قبل ازیں دن میں مودی نے کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بینکوں پر اس کے دور اقتدار میں دباؤ ڈالا گیا تھا کہ کروڑوں روپئے مالیتی قرضہ جات مخصوص صنعت کاروں کو دیئے جائیں ۔ انہوں نے اسے یو پی اے حکومت کا سب سے بڑا اسکام قرار دیا تھا ۔ ایک دن بعد مودی کی آبائی ریاست گجرات میں دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ مقرر ہے ۔ مودی نے یو پی اے دور میں موجود ماہرین معاشیات پر الزام عائد کیا کہ غیر کارکرد اثاثہ جات کے بوجھ سے نمٹنے کیلئے ایسے قرضہ جات پر انحصار کررہے تھے جنہیں برے قرضے کہا جاسکتا ہے ۔مرکزی حکومت کی غریب دوست اسکیموں کو اس طرح فروخت کیا گیا ۔ سرجے والا نے کہا کہ ان خبر رساں چینلس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے جنہوں نے راہول گاندھی کا انٹرویو نشر کیا ہے اور جو آزادی اظہار کی طمانیت کے خلاف ہے جس کی ضمانت دستور میں دی گئی ہے ۔ کانگریس کی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہونے کا پابند ہے۔ اس کارروائی کے پیچھے برسراقتدار پارٹی کو واضح طور پر فائدہ دینا اور واضح تعصب کی افسوسناک صورتحال دیکھی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT