Saturday , June 23 2018
Home / سیاسیات / مودی اور آر ایس ایس میں ٹھن گئی!

مودی اور آر ایس ایس میں ٹھن گئی!

نئی دہلی ۔ 20 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سنگھ پریوار اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں جب کہ حکومت کی پالیسیوں پر آر ایس ایس کی محاذی تنظیم بھارتیہ مزدور سنگھ ( بی ایم ایس ) نے صدائے احتجاج بلند کیا ہے اور الزام عائد کیا کہ لیبر قوانین میں ترمیم کے ذریعہ صنعتوں کے مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے ۔ جس کے

نئی دہلی ۔ 20 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سنگھ پریوار اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں جب کہ حکومت کی پالیسیوں پر آر ایس ایس کی محاذی تنظیم بھارتیہ مزدور سنگھ ( بی ایم ایس ) نے صدائے احتجاج بلند کیا ہے اور الزام عائد کیا کہ لیبر قوانین میں ترمیم کے ذریعہ صنعتوں کے مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے ۔ جس کے باعث مزدوروں کی حق تلفی ہورہی ہے ۔ بی ایم ایس نے حکومت کی سرمایہ دار موافق پالیسیوں پر انگشت نمائی کی ہے اور وزیر اعظم کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت کارپوریٹ شعبہ کے حق میں لیبر قوانین ترامیم سے فی الفور دستبرداری اختیار نہیں کی تو پارلیمنٹ اجلاس کے پہلے ہفتہ میں سڑکوں پر احتجاج کیا جائے گا ۔

اس خصوص میں بی ایم ایس نے بھوپال میں منعقدہ قومی عاملہ کے اجلاس میں ایک قرار داد منظور کی ہے اور ایک مکتوب وزیر لیبر بنڈارو دتاتریہ کو روانہ کیا ہے جب کہ ملک بھر میں ٹریڈ یونینوں کے 26 فروری کو احتجاج میں بی ایم ایس بھی شریک ہوگی ۔ اس طرح کی دھمکی بھارتیہ کسان سنگھ نے بھی دی ہے ۔ سخت الفاظ پر مشتمل قرار داد میں حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نریندر مودی ، عوام کو ہتھیلی میں جنت بتاکر اقتدار میں آئے لیکن چند ماہ میں ہی سماجی شعبہ بالخصوص ورکرس اور عام آدمی ، متوسط طبقہ ، سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں ( بی پی ایل ) کسانوں ، دیہاتیوں اور قبائیلوں کو مایوس کردیا ۔

قرار داد میں مزید کہا گیا کہ حکومت عام آدمی کی قیمت پر کارپوریٹ سیکٹر کی تائید کررہی ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سرکاری اداروں کے مشیروں کی حیثیت سے ایسے افراد کا تقرر کیا جارہا ہے جو کہ امریکہ میں مقیم ہیں اور کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات کے نگہباں ہیں ۔ اس خصوص میں نیتی ایوگ کی مثال پیش کی گئی جس کے مشیر کی حیثیت سے ایک این آر آئی کا تقرر کیا گیا ہے ۔ بھارتیہ مزدور سنگھ نے لیبر قانون بالخصوص فیاکٹریز ایکٹ میں ترامیم کے دائرہ کار میں 70 فیصد چھوٹی صنعتوں کو باہر رکھ دینے پر شدید اعتراض کیا ہے ۔ جنرل سکریٹری بی ایم ایس مسٹر وجریش اپادھیائے نے بتایا کہ ان کی تنظیم اصلاحات کے خلاف نہیں ہے ۔ لیکن حکومت پر ذمہ داری ہے کہ اس مسئلہ پر ٹریڈ یونینوں کیساتھ مشاورت کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ورکرس چاہتے ہیں کہ صنعتیں ترقی کرے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں ۔ اگر ورکرس ناراض ہوں تو صنعتیں ترقی نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت کس طرح مشاورت کیے بغیر لیبر قوانین کو یکسر تبدیل کرسکتی ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد انڈین لیبر کانفرنس منعقد کی جائے ۔ نیتی ایوگ اور ستیمے وجیتے پروگرام میں ورکرس کو بھی نمائندگی دی جائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT