Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مودی اور امیت شاہ کا جادو ختم : محمد علی شبیر

مودی اور امیت شاہ کا جادو ختم : محمد علی شبیر

احمد پٹیل کی کامیابی گجرات میں بی جے پی کے زوال کا آغاز ، قائد اپوزیشن تلنگانہ کونسل کا بیان
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے راجیہ سبھا کے انتخابات میں سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی اور شاہ کا جادو ختم ہوچکا ہے ۔ گجرات سے بی جے پی کے زوال کا آغاز ہوگیا ہے ۔ ارکان کی خرید و فروخت سے بی جے پی کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا ۔ آج گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے گجرات میں سنٹرل اور اسٹیٹ بی جے پی سرکاری مشنری کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے احمد پٹیل کو شکست دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ارکان کو کروڑہا روپئے میں خریدنے کی کوشش کی ، ناکام ہونے پر ڈرانے دھمکانے کی کوشش کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ راجیہ سبھا کے انتخابات سے پھر ایک مرتبہ نریندر مودی حکومت کا ظالمانہ اور جمہوریت دشمن چہرہ آشکار ہوگیا ہے ۔ ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت اور ان کا اغواء کرنے کے لیے اپنی جانب سے بچھائے گئے جال میں بی جے پی خود پھنس چکی ہے ۔ احمد پٹیل کو شکست دینے کے لیے کیے گئے تمام اقدامات جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ عوامی زندگی میں اخلاقیات اور اصولوں کے بلند دعوے کرنے والے منھ کے بل گرپڑے ہیں ۔ بی جے پی میں امیت شاہ کی پھوٹ ڈالو راج کرو کی پالیسی بری طرح ناکام ہوگئی ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے 5 ویں مرتبہ راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے والے احمد پٹیل اور ان کا ساتھ دینے والے گجرات کے کانگریس ارکان اسمبلی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گجرات سے بی جے پی کے زوال کا آغاز ہورہا ہے ۔ امیت شاہ اور نریندر مودی کا جادو اب ختم ہوچکا ہے ۔ گجرات کے عام انتخابات میں کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جنوبی ہند میں بھی دو تلگو ریاستیں تلنگانہ اور آندھرا پردیش جو راست و بالراست این ڈی اے کی حلیف جماعتیں ہے نے بھی ارکان کو خرید و فروخت سے حکومتیں چلا رہی ہیں اور دونوں ہی ریاستوں کے چیف منسٹرس کے سی آر اور چندرا بابو نائیڈو نے جمہوریت اور دستور کو پامال کرنے اور اس کی اہمیت گھٹانے میں ایک دوسرے سے مسابقت کی ہے ۔ کے سی آر نے تلنگانہ میں تلگو دیشم ، کانگریس اور دوسری جماعتوں کے 24 ارکان اسمبلی کو اپنی اپنی جماعت سے نہ صرف انحراف کرایا بلکہ تلگو دیشم سے انحراف کرنے والے ایک رکن کو کابینہ میں بھی شامل کرلیا ۔ جب کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 28 ارکان کو انحراف کراتے ہوئے ان میں 4 ارکان کو کابینی عہدے دئیے ہیں ۔ محمد علی شبیر نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک کی مخالفت کرنے والوں کی جانب سے جشن منانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اپنی ناکامی سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے تماشہ کررہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT