Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / مودی اور پاریکر کو دھمکی آمیزخطوط کے بارے میں تحقیقات

مودی اور پاریکر کو دھمکی آمیزخطوط کے بارے میں تحقیقات

پاناجی 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) گوا پولیس ہنوز اُن خطوط کے مقامِ آغاز کا پتہ نہیں چلا سکی جن میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع منوہر پاریکر کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ انسپکٹر جنرل پولیس رنگاناتھن نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ پوری ریاست میں حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں اور تمام انسدادی اقدامات کئے جاچکے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا یہ خط جو مبینہ طور پر دولت اسلامیہ کی دستخط رکھتا تھا، مذاق ہوسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں لیکن دھمکی کو سنجیدگی سے احتیاطی اور حفاظتی انتظامات کے ذریعہ نمٹنا چاہئے۔ ایک پوسٹ کارڈ کے ذریعہ جو گزشتہ ہفتہ ریاست سکریٹریٹ پوروورم سے روانہ کیا گیا تھا، مبینہ طور پر اِس کے اختتام پر دولت اسلامیہ تحریر ہے۔ انسداد دہشت گردی اسکواڈ پہلے ہی تحقیقات کا آغاز کرچکی ہے اور خط تمام پولیس اسٹیشنوں کو اِس ساحلی ریاست میں روانہ کئے جاچکے ہیں۔ دریں اثناء بی جے پی نے اِس کارستانی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اگر دھمکی درست ہے تو اِس سے پورے ملک کے لئے ایک بُرا اشارہ ملتا ہے۔ گوا بی جے پی کے ترجمان ڈاکٹر ولفریڈ مسقطا نے یہ ردعمل ظاہر کیا۔ کانگریس پارٹی نے بھی خط کے بارے میں کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ خط کے مقام آغاز کے بارے میں جامع تحقیقات کی جائیں۔ دھمکی آمیز خط حکومت گوا کو وصول ہوا تھا، اِس کی تحقیقات ضروری ہیں۔ وزیر دفاع نے ہفتہ کے دن ریاست کا مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر دورہ کیا تھا جبکہ گوا کے عوام بھی خطرناک ہیں کیوں کہ قبل ازیں منوہر پاریکر پر چند حملے ہوچکے ہیں۔ گوا کانگریس کے ترجمان درگا داس کامت نے کہاکہ لیکن اِس واقعہ کو دوسرے نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جانا چاہئے۔ ممکن ہے کہ ایسے عناصر ہوں جو شہریوں کی توجہ حکومت گوا کی اور حکمراں محاذ کی توجہ منعطف کرنا چاہتے ہوں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT