Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مودی اور کے سی آر نوجوانوںکو روزگار کی فراہمی میں ناکام

مودی اور کے سی آر نوجوانوںکو روزگار کی فراہمی میں ناکام

دونوں کو اقتدار سے بیدخل کرنا ضروری ۔ یوتھ کانگریس کا ’بھارت بچاؤ آندولن ۔ مختلف قائدین کا خطاب

حیدرآباد ۔ 9جولائی ( سیاست نیوز) سکریٹری انچارج اُمور تلنگانہ کانگریس اُمور آر سی کنٹیا نے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہوجانے کا وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کیا ۔ قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر نے عثمانیہ یونیورسٹی کا دورہ کرنے کا چیف منسٹر کو چیلنج کیا ۔ صدر آل انڈیا یوتھ کانگریس کیشو چند یادو نے این ڈی اے اور ٹی آر ایس حکومتوں کا تختہ الٹنے تیار ہوجانے کا نوجوانوں کو مشورہ دیا ۔صدر تلنگانہ یوتھ کانگریس انیل کمار یادو کی جانب سے گاندھی بھون کے احاطہ میں منعقدہ ’بھارت بچاؤ اندولن‘ سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کانگریس رکن اسمبلی کے وینکٹ ریڈی ‘ صدر حیدرآباد کانگریس و سابق ایم پی ایم انجن کمار یادو نائب صدر پردیش کانگریس ملو روی جنرل سکریٹری ایس کے افضل الدین صدرگریٹر حیدرآباد اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل سابق کارپوریٹرس ایس محمد واجد حسین ‘ محمد غوث اور دوسرے موجود تھے ۔ آر سی کنٹیا نے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی نے سالانہ 2کروڑ اور کے سی آر نے ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ‘ چار سال گذر جانے کے باوجود دونوں نے اپنے وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنایا ‘ ایسے قائدین کو اقتدار پر برقرار رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے ۔ دونوں کو اقتدار سے بیدخل کرنے تیار ہوجانے کا نوجوانوں کو مشورہ دیا اور کہا کہ بی جے پی ملک میںفرقہ پرستی کو فروغ دے رہی ہے اور ٹی آر ایس فرقہ پرست بی جے پی کی حمایت کرتے ہوئے اقلیتوں کودھوکہ دے رہی ہے ۔ تلنگانہ کی کابینہ میں خواتین کو یکسر نظرانداز کردیا گیا ‘ ساتھ ہی دلتوں کو برائے نام نمائندگی دی گئی ۔ کانگریس ‘سماج کے تمام طبقات سے انصافی کرتی ہے ۔ صدر کانگریس راہول گاندھی اس مرتبہ زیادہ تر نوجوانوں کو ٹکٹ دینا چاہتے ہیں ۔عوام میں رہنے والے یوتھ کانگریس کے قائدین سے ٹکٹوں کی تقسیم میں انصاف کیا جائیگا ۔ تلنگانہ جدوجہد میں شامل نوجوانوں کو تلنگانہ کی تشکیل کے بعد انصاف نہیں ملا ۔ نوجوانوں کی قربانیوں سے علحدہ ریاست تشکیل پائی مگر اقتدار پر کے سی آر کے ارکان خاندان کا قبضہ ہوگیا ۔ علحدہ ریاست کی تشکیل سے آندھراپردیش میں کانگریس کو نقصان ہوا لیکن وزیر آئی ٹی کے ٹی آر نے علحدہ تلنگانہ تشکیل دینے والی سونیا گاندھی کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کئے ہیں۔ محمد علی شبیر نے مودی اور کے سی آر کو دغاباز قرار دیتے ہوئے عوام کے جذبات سے کھلواڑ کا الزام عائد کیا ۔ بی جے پی سے خفیہ ساز باز کرکے ریاست کے مفادات کو فراموش کردینے کا دعویٰ کیا ۔ سونیا گاندھی کے خلاف نازیبا ریمارکس کرنے والے وزیر کے ٹی آر کے خلاف احتجاج کرنے والے یوتھ کانگریس قائدین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سونیا گاندھی کی وجہ کے سی آر کا خاندان اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کے سی آر کو عثمانیہ یونیورسٹی میں قدم رکھنے کا چیلنج کیا ۔ دونوں حکومتوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف علم بغاوت کرنے کا نوجوانوں کو مشورہ دیا ۔ کیشو چند یادو نے وزیراعظم مودی اور چیف منسٹر تلنگانہ کو سپنوں کا سوداگر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہ دونوں حکومتوں نے نوجوانوں کو ہتھیلی پر جنت دکھاتے ہوئے اقتدار حاصل کیا مگر چار سال گزرنے کے باوجود وعدے پورے نہیں کئے گئے ۔ بدعنوانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں ۔ اقلیتیں اور پسماندہ طبقات خود کو غیر محفوط تصور کررہے ہیں ۔ خواتین کا کوئی تحفظ نہیں ہے ۔ ایسی حکومتوں کا برقرار رہنا جمہوریت کیلئے خطرہ ہوگیا ہے ۔ نوجوان اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھیں اور دونوں حکومتوں کو اقتدار سے بیدخل کرنے میں اہم رول ادا کریں ۔ ڈپٹی فلور لیڈر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ تشکیل دینے والی سونیا گاندھی کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کرنے والے کے ٹی آر سے اپنی ماں کا احترام کرنے امید نہیں کی جاسکتی ۔ تلنگانہ کی تحریک میں کوئی رول نہ رکھنے والے کے ٹی آر کو سونیا گاندھی کے خلاف ریمارکس کرنا زیب نہیں دیتا ۔ انہوں نے آئندہ انتخابات میں یوتھ کانگریس کے قائدین کو زیادہ ٹکٹ دینے کی صدر کانگریس راہول گاندھی سے اپیل کی ۔

TOPPOPULARRECENT