Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / مودی ایک خطرناک لیڈر‘ ملک کو ڈکٹیٹرکا سامنا : پرتھوی راج چوہان

مودی ایک خطرناک لیڈر‘ ملک کو ڈکٹیٹرکا سامنا : پرتھوی راج چوہان

ممبئی۔3اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) نریندر مودی پر بی جے پی کا ’’بالکلیہ طور پر‘‘ اغوا کرلینے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر مہاراشٹرا پرتھوی راج چوہان نے آج کہا کہ اگر زعفرانی پارٹی کے وزارت عظمی کے امیدوار کو ملک کا اقتدار چلانے کی کھلی اجازت مل جائے تو یہ فرد واحد من مانی کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی پر اُتر آئے گا ۔ ملک کو ایک خطرناک ڈک

ممبئی۔3اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) نریندر مودی پر بی جے پی کا ’’بالکلیہ طور پر‘‘ اغوا کرلینے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر مہاراشٹرا پرتھوی راج چوہان نے آج کہا کہ اگر زعفرانی پارٹی کے وزارت عظمی کے امیدوار کو ملک کا اقتدار چلانے کی کھلی اجازت مل جائے تو یہ فرد واحد من مانی کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی پر اُتر آئے گا ۔ ملک کو ایک خطرناک ڈکٹیٹر کا سامنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس وقت مودی کے بارے میں اظہار خیال کے لئے مجبور ہے کیونکہ یہ شخص ایک نہایت ہی خطرناک سیاستداں ہے ۔ اس نے راتوں رات پارٹی کے اندر فرد واحد کا رول ادا کرتے ہوئے اس کا اغوا کرلیا ہے تو ملک کو ایک خطرناک ڈکٹیٹر کا سامنا کرنا پڑے گا ۔وہ اپنے قریبی مددگار امیت شاہ کے ساتھ مل کر ایسی خطرناک حرکتیں کرے گا جس کو دیکھ کر ہر انسانی دل مضطرب ہوجائے گا ۔

ہم اس شخص کو پہلے ہی دیکھ چکے ہیں ۔ گجرات ہمارے سامنے زندہ مثال ہے ۔پرتھوی راج چوہان نے مزید کہا کہ جب ایک شخص اپنی پارٹی کو اپنی سیاست کا غلام بناسکتا ہے تو وہ اس ملک کیلئے کتنا خطرناک ہوگا ‘ سوچنا ضروری ہے ۔ملک کی حکمرانی کس کے ہاتھ میں جارہی ہے یہ دیکھا جائے تو عوام کو فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ پولیس نظام کا سب سے اعلیٰ ترین حصہ کا کام یہ ہیکہ نظم و ضبط برقرار کھا جائے لیکن اس پولیس نظام کو ایک فرد نے اپنے ذاتی انتقام اور مقاصد کیلئے استعمال ایک خاتون کی جاسوسی کرنے اس کا تعاقب کرتے ہوئے اس کو ہراساں کرنے کیلئے پولیس کو استعمال کیا جارہا ہے تو اندازہ کیجئے کہ سارے ملک کی حالت کیا ہوگی ۔اگر اس طرح کے شخص کو اعلیٰ عہدہ پر حکومت دلانے کی اجازت دی جائے تو کیا حالات رونما ہوں گے ۔

ہم یہ تو نہیں چاہتے کہ مرکزی حکومت کے سطح پر گجرات ماڈل کی پالیسیوں کے کیا اثرات مرتب ہوں گے لیکن ہم سوچ سکتیہیں کہ نتائج کیسے ہوں گے ۔ آخر ایک مخلوط حکومت کو کس طرح چلنے کی اجازت ملے گی ۔ نئی حکومت بنانے کیلئے اگر بی جے پی نے اپنی تمام حلیف پارٹیوں کو مدعو کیا تو اس کا ڈھانچہ کیا ہوگا یہ دیکھنا لازمی ہے ۔ گجرات میں کانگریس حکومت کے دوران پیدوار میں اضافہ دیکھا گیا تھا ۔ چوہان نے کہا کہ اب ہم کو گجرات میں مودی کے جھوٹ کو بے نقاب کرنا ہی ہوگا۔ اس نام نہاد پیداوار کی اعلیٰ شرح کا بخار پھوڑنا ہیہوگا ۔ قبل ازیں گجرات میںمدھو سنہا سولنکی نے دورمیں گجرات میں زبردست ترقی ہوئی تھی ۔ اگر کوئی ریاست اچھا مظاہرہ کرتی ہے تو مبارکباد دینی چاہیئے ‘لیکن سیاسی مقاصد کی غرض سے کسی ریاست کی ترقی کا ڈھونڈرا پیٹا جائے تو ناقابل برداشت بات ہے ۔

TOPPOPULARRECENT