Wednesday , December 19 2018

مودی ‘ جشودھا بین کو گھر لے آئیں یا سکیوریٹی ختم کریں

حیدرآبادی خاتون ڈاکٹر کا مطالبہ ۔ وزیر اعظم کی اہلیہ کو انصاف دلانے بھوک ہڑتال

حیدرآباد 7 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک ایسے وقت میں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت شرعی قوانین میں مداخلت کر رہی ہے اور اس کیلئے مسلم خواتین سے انصاف کا بہانا پیش کیا جارہا ہے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے خود وزیر اعظم کی شریک حیات کو انصاف دلانے کے مطالبہ پر بھوک ہڑتال کا آغاز کردیا ہے ۔ یہ بھوک ہڑتال گذشتہ سات دن سے چل رہی ہے ۔ اس خاتون کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو چاہئے کہ وہ رسمی طور پر جشودھا بین کو اپنی شریک حیات تسلیم کرلیںاور انہیں اپنے گھر لے آئیںیا پھر انہیں فراہم کردہ سکیوریٹی سے دستبرداری اختیار کرلیں۔ بھوک ہڑتال کرنے والی خاتون کا نام پی سوشیلا ہے جو ہومیوپیتھی ڈاکٹر ہیں اور وہ میاں پور علاقہ کے حفیظ پیٹ میں اپنے گھر میں بھوک ہڑتال کر رہی ہیں۔ سوشیلا کا کہنا ہے کہ جیسا کہ سمجھا جاتا ہے اگر جشودھا بین واقعی وزیر اعظم نریندر مودی کی اہلیہ ہیں اور وزیر اعظم بھارتیہ دھرم کے پیرو ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ جشودھا بین کو اپنے گھر بلا لیں اور بحیثیت شریک حیات ان کا احترام کیا جائے ۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں سوشیلا کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ ایک ہندو خاتون ہونے کے ناطے وہ چاہتی ہیں کہ اپنی ساتھی خاتون سے انصاف کیا جائے ۔ یا تو انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی اہلیہ کی حیثیت میں تسلیم کرلیا جائے یا پھر انہیں سکیوریٹی سے آزادی دی جائے ۔ سکیوریٹی کی وجہ سے بلا وجہ ان کی نقل و حرکت کی آزادی سلب ہوتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT