Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / مودی حکومت اقلیتوں کو ’ ٹوپی ‘ کی بجائے ’ روٹی ‘ فراہم کر رہی ہے

مودی حکومت اقلیتوں کو ’ ٹوپی ‘ کی بجائے ’ روٹی ‘ فراہم کر رہی ہے

نجمہ ہپۃ اللہ کا ادعا ۔ نریندر مودی کی خوشامدانہ مدح سرائی ۔ افطار دعوتوں میں عدم شرکت کی مدافعت ۔ بہار میں نئی منزل اسکیم کا افتتاح

پٹنہ 8 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر اقلیتی امور نجمہ ہپۃ اللہ نے آج ادعا کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہوسکتا ہے کہ ٹوپی پہننے سے گریز کرتے ہوں یا پھر افطار کی دعوتوں میں شرکت نہیں کرتے ہوں لیکن ان کی حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ اقلیتی برادریوں کو روزگار فراہم کرنے اور اسباب زندگی فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کام ماضی کی حکومتوں نے نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہر کسی نے ٹوپی پہنی ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت وہ پہلی حکومت ہے جو ٹوپی کی بجائے اقلیتی برادریوں کو روٹی فراہم کرنے کیلئے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے ۔ نجمہ ہپۃ اللہ نے اسمبلی انتخابات سے قبل بہار میں نئی منزل اسکیم کا افتتاح انجام دیا ۔ آج ہونے والا یہ افتتاح در اصل بہار اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش ہے ۔ نجمہ ہپۃ اللہ نے حال ہی میں صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کی جانب سے منعقدہ دعوت افطار میں وزیر اعظم نریندر مودی کی عدم شرکت کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ دولت مندوں کی جانب سے افطار کی جو دعوتیں دی جاتی ہیں وہ در اصل فوٹو ایونٹ ہوتی ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی کی جانب سے بھی اس طرح کی افطار کی دعوت ’’ غریبوں کی بستی ‘‘ میں منعقد کی جاتی ہے ؟ ۔ کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پارٹی کے قائدین نے ٹوپی پہنی اور سچر  کمیٹی رپورٹ دی لیکن اس کی ایک بھی سفارش پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا گیا تاکہ اقلیتوں کی صورتحال کو بہتر بنایا جاسکے ۔ دوسری جانب نریندر مودی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اقلیتوں سے سات وعدے کئے اور جن چھ وعدوں کا وزارت اقلیتی امور سے کوئی تعلق رہا ہے ان کو پورا کردیا گیا ہے ۔ وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ چیف منسٹر بہار نتیش کمار اور راشٹریہ جنتادل کے صدر لالو پرساد یادو خود کو مسلم کاز کے چمپئن قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت میں انہوں نے مسلمانوں کی بہتری کیلئے صرف زبانی جمع خرچ ہی کیا ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ حقیقت یہ ہے کہ بہار میں مسلمان معاشی طور پر دلتوں سے بھی ابتر حالت میں ہیں ۔ نئی منزل اسکیم کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یہ بھی وزیر اعظم مودی کا ایک وعدہ تھا جسے پورا کردیا گیا ہے ۔ وزیر فینانس نے اپنی بجٹ تقریر میں اس کا تذکرہ کیا تھا ۔ اس اسکیم کے تحت اسکول نہ جانے والے یا اسکول ترک کردینے والے بچوں کی اور مدرسوں کی مدد ہوسکے گی جہاں رسمی 12 ویں جماعت اور 10 ویں جماعت کے سرٹیفیکٹ دئے جائیں گے جس سے یہ ملازمتیں حاصل کرپائیں گے ۔ اس طرح کے طلبا کو برج کورسیس کی سہولت دی جائیگی اور 12 جماعت یا پھر فاصلاتی طرز پر 10 ویں جماعت کے سرٹیفیکٹ دئے جائیں گے ۔ ساتھ ہی ان کو مینوفیکچرنگ ‘ انجینئرنگ ‘ سرویس اور سافٹ اسکلس کی تربیت بھی دی جائیگی ۔ نجمہ ہپۃ اللہ نے کہا کہ ان کی وزارت نے بھاری تعداد میں مسلمانوں کو بینک کھاتے کھولنے میں مدد فراہم کی ہے تاکہ وہ وزیر اعظم کی جن دھن یوجنا سے استفادہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ملک بھر میں اقلیتی برادری کے 86 لاکھ طلبا کو پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ فراہم کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT