Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / مودی حکومت اپنے ’’بلند بانگ دعوؤں‘‘کی تکمیل کیسے کرے گی

مودی حکومت اپنے ’’بلند بانگ دعوؤں‘‘کی تکمیل کیسے کرے گی

نئی دہلی۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) ووٹ حاصل کرنے کے لئے ’’بلند بانگ دعوے‘‘ کرنے پر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن نے کہا کہ ان وعدوں کی تکمیل مشکل ہے۔ بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی گئی کہ وہ عوام کی آرزوؤں کی تکمیل کیسے کرے گی۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے صدرجمہوریہ کے خطاب پر لوک سب

نئی دہلی۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) ووٹ حاصل کرنے کے لئے ’’بلند بانگ دعوے‘‘ کرنے پر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن نے کہا کہ ان وعدوں کی تکمیل مشکل ہے۔ بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی گئی کہ وہ عوام کی آرزوؤں کی تکمیل کیسے کرے گی۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے صدرجمہوریہ کے خطاب پر لوک سبھا میں پیش کردہ تحریک ِ تشکر پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کو انتباہ دینا چاہتے ہیں کہ انہیں اتنا مغرور نہیں ہونا چاہئے۔ ایسی کئی کامیابیاں ماضی میں بھی دیکھی جاچکی ہیں اور اپوزیشن نے ان تمام کا مقابلہ بھی کیا تھا۔ اندرا گاندھی ہوں یا راجیو گاندھی ہر ایک کی حکومت سے اپوزیشن نے مقابلہ کیا تھا۔ نریندر مودی کی وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے ان سے (پاکستانی مقبوضہ کشمیر) کی اراضی واپس کرنے کی خواہش کی ہے۔ ان سے کن مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آپ اسے خفیہ رکھیں گے یا لوک سبھا کو اس سے واقف کروائیں گے۔

ان کے ساتھ سینئر کانگریس قائد امریندر سنگھ نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بے روزگاری پر قابو پانے کے بلند بانگ تیقنات دیئے گئے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ نئی حکومت کے برسراقتدار آتے ہی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوگیا اور ہم سمجھ رہے تھے کہ آپ افراطِ زر پر قابو پانے کے اپنے وعدہ کی تکمیل کریں گے۔ ملائم سنگھ یادو کی تقریر میں برسراقتدار پارٹی کے ارکان کی جانب سے کئی بار خلل اندازی کی گئی جس پر اسپیکر سمترا مہاجن ان سے خلل اندازی نہ کرنے کی خواہش پر مجبور ہوگئیں۔ امریندر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا ایجنڈہ ’’نئی بوتل میں پرانی شراب‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوروؤں اور پانڈوؤں کے علاوہ بھی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں مل جائیں گی جس میں مٹھی بھر افراد نے اپنے سے کہیں زیادہ تعداد پر فتح پائی تھی۔ انہوں نے یہ جاننا چاہا کہ حکومت خواتین تحفظات بل کب منظور کرے گی

اور 100 شہروں میں 24 گھنٹے برقی سربراہی اور ہر دیہات میں بیت الخلاؤں کی تعمیر اور غربت کے انسداد کے وعدوں کی تکمیل کب کی جائے گی۔ جب انہوں نے یہ کہا کہ جاریہ سال بارش کی کمی نئی حکومت کی نحوست کا نتیجہ ہے، گجرات میں جو کچھ کیا گیا ہے، یہ اسی پر قہر خداوندی ہے تو بی جے پی ارکان نے نعرہ بازی شروع کردی کہ گجرات میں آخر کیا ہوا ہے، اس پر امریندر سنگھ نے منھ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ لوگ عشرت جہاں کا فرضی انکاؤنٹر بھول گئے۔

TOPPOPULARRECENT