مودی حکومت سامراجی اور کارپوریٹ طاقتوں کی آلہ کار

ہندوتوا نظریات ملک کی جمہوریت کے لیے خطرہ ، مسلم ۔ دلت محاذ کے ذریعہ متبادل نظام ضروری ، ورا ورا راؤ

ہندوتوا نظریات ملک کی جمہوریت کے لیے خطرہ ، مسلم ۔ دلت محاذ کے ذریعہ متبادل نظام ضروری ، ورا ورا راؤ
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : ملک کی سیکولر ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی متبادل نظام ہی واحد راستہ ہے چونکہ سامراجی طاقتیں اور کارپوریٹ نظام ہندوتوا کی شکل میں اپنی سازشوں پر عمل پیرا ہے ۔ جو نہ صرف عظیم جمہوری ملک ہندوستان بلکہ ساری انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انقلابی ادیب و انسانی حقوق تنظیم کے قائد مسٹر ورا ورا راؤ نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر طاقتوں مسلم ۔ دلت اور آدیواسی عوام کو ایک دوسرے کا تحفظ کرنے اور ملک کو بچانے کے لیے ایک محاذ کی شکل اختیار کرنا ہوگا اور دنڈاکاریم کی طرز پر سارے ہندوستان میں متبادل سیاسی نظام کو قائم کرنا ہوگا ۔ چونکہ عالمی سطح پر جس طرح انقلابی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے اقدامات اور اسرائیلی ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں اس طرح ہندوستان میں بھی انقلابی اور عسکری جدوجہد کو کچلنے کے لیے اسرائیلی ہتھیار استعمال ہورہے ہیں ۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت سامراجی اور کارپوریٹ طاقتوں کی آلہ کار بنی ہوئی ہے ۔ اور ہندوتوا کی آڑ میں اقدامات جاری ہیں ۔ ہندو راشٹر کے خواب کو پورا کرنے کارپوریٹ طاقتوں کا استعمال کیا جارہا ہے اور کارپوریٹ طاقتوں کو خوش کرنے ملک کے قدرتی وسائل انہیں سونپ دئیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پارلیمانی سیاسی نظام تباہی کے دہانے پر پہونچ گیا ہے اور جمہوری نظام برائے نام رہ گیا ہے ۔ عوام کو صرف ووٹ کے استعمال کی آزادی جمہوریت کی شکل میں دی گئی ہے جب کہ عام آدمی کے ووٹ سے دولت مند اور جرائم پیشہ افراد منتخب ہورہے ہیں ۔ ایک وارڈ سے لے کرپارلیمانی حلقہ پر مقابلہ کرنے کے لیے کروڑہا روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ مسٹر ورا ورا راؤ نے کہا کہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ عام آدمی کے ووٹ سے عام آدمی ہی منتخب ہوتا ۔ جو صرف دنڈاکاریم میں ممکن ہوسکا ہے ۔ جہاں قدرتی وسائل پر مقامی عوام کا حق ہر ایک خاندان کو تین ایکڑ اراضی عوامی مفادات کا تحفظ انسانی حقوق کی نگرانی اور مخالف طاقتوں سے لڑنے کے لیے خود کی عوامی طاقت موجود ہے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت دنڈاکاریم کے نظام کو برباد کرنے کے لیے جنگ جیسی پالیسی چل رہی ہے جس کے خلاف ملک بھر میں مہم چلائی جائے گی اور اس مہم میں ہر ایک سیکولر ، مسلم ، آدیواسی ، اور دلت کو شامل کیا جائے گا ۔ انہوں نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی ہندوتوا کے مشن پر عمل پیرا ہیں ۔ اور نیپال کا ان کا دورہ بھی ہندوتوا مشن کا ایک حصہ تھا وہ ایک ہندو ملک کے راجہ کی طرح دوسرے ہندو ملک کا دورہ کررہے تھے اور اب ملک بھر میں ہندو راشٹر کے لیے ہر ہندوستانی کو ہندو قرار دینے کی بی جے پی قائدین ایک دوسرے پر سبقت کی دوڑ میں ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس خفیہ ہندو توا مشن کو صرف متبادل سیاسی نظام کا محاذ ہی ناکام بنا سکتا ہے ۔ جیسا کہ ملک بھر کی انقلابی و عسکری تنظیموں نے مل کر سال 2004 میں ماویسٹ پارٹی تشکیل دی تھی اور یہ نظام ہی متبادل سیاسی نظام کے لیے طاقت بن سکتا ہے ۔ مسٹر ورا ورا راؤ نے کہا کہ کوئی بھی ترقیاتی پراجکٹ چاہے وہ میٹرو ریل ، رنگ روڈ ، آوٹر رنگ روڈ یا پھر کوئی بھی ہو ۔ جب تک عوام کا اختیار اور ان پراجکٹ میں عوام کا حق و حصہ نہیں ہوتا تب تک انہیں ترقیاتی پراجکٹ نہیں کہا جاسکتا ۔ مسٹر ورا ورا راؤ نے کہا کہ 21 ستمبر سے ملک بھر میں چلائی جانے والی مہم کا آغاز ہوگا ۔ تاکہ متبادل سیاسی نظام کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے اور اس مہم کے تحت حیدرآباد کے سندریا وگینان کیندرم میں جلسہ عام کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا ۔ اور ریالی و جلوس بھی نکالے جائیں گے ۔ متبادل سیاسی نظام کے لیے دنڈا کاریم کو ماڈل کے طور پر پیش کیا جائے گا ۔ انہوں نے ملک بھر میں چلائی جانے والی اس مہم میں سیکولر ، انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مہم میں شامل ہوجائیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT