Sunday , August 19 2018
Home / Top Stories / مودی حکومت سماج میں نفرت پھیلارہی ہے ‘ نوجوانوں و کسانوں سے دھوکہ

مودی حکومت سماج میں نفرت پھیلارہی ہے ‘ نوجوانوں و کسانوں سے دھوکہ

MUMBAI, JUNE 12 (UNI):-Congress President Rahul Gandhi interact with over 15,000 booth-level party workers at a function in Bombay Exhibition Centre, Goregaon on Tuesday.UNI PHOTO-166U

وزیر اعظم و بی جے پی صدر کی آواز میں خوف پیدا ہوگیا ہے ۔ متحد اپوزیشن کے ہاتھوں شکست یقینی ۔ راہول گاندھی کا ممئبی میں خطاب
ممبئی 12 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے نریندر مودی حکومت پر سماج میں نفرت پھیلانے اور تقسیم لانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس حکومت نے ملک کے کسانوں اور نوجوانوں سے دھوکہ کیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی صرف چند مٹھی بھر صنعتکاروں کے چوکیدار ہیں عام آدمی کے نہیں۔ ممبئی بوتھ لیول کانگریس کارکنوں کے ایک کنونشن سے یہاں خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم کا احساس ہے کہ وہ صرف اپنی تقاریر سے ملک چلا سکتے ہیں۔ لیکن اب اگر آپ ان کا باریک بینی سے مشاہدہ کریں تو ان کی آواز میں خوف پایا جاتا ہے ۔ یہ خوف جئے شاہ کے والد ( امیت شاہ ) کی آواز میں زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ یہاں سے وہاں پھر رہے ہیں۔ انہوں نے اس طرح بی جے پی صدر کی سمپرک برائے سمرتھن مہم کا مضحکہ اڑایا ہے ۔ راہول گاندھی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ کانگریس پارٹی اور مابقی اپوزیشن جماعتیں مل کر 2019 میں بی جے پی کو شکست سے دوچار کردینگی ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار سال میں مودی حکومت نے سماج میں نفرت اور تقسیم ہی پیدا کی ہے ۔ کسانوں اور نوجوانوں سے دھوکہ کیا گیا ہے ۔ تاہم نوجوانوں کو روزگار دینے کی ضرورت ہے اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ کانگریس نے اپنے اقتدار میں کیا کیا ہے ۔ کانگریس نے کسی کو دھمکایا نہیں ہے اور نہ کسی کو کچلا گیا ہے ۔ پارٹی نے عوام کو ذات پات ‘ مذہب یا رنگ کے نام پر تقسیم نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے صرف یہ دیکھا کہ کوئی ہندوستانی ہے تو اس کی مدد کی گئی ہے ۔ کانگریس نے ملک کو متحد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج اور پھر کرناٹک اسمبلی انتخابات میں شکست سے پریشان ہوگئی ہے ۔ اب یہ پارٹی چھتیس گڑ؍ ‘ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد نظر نہیں آئے گی ۔ کانگریس پارٹی اور اپوزیشن جماعتیں مل کر 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اسے شکست سے دوچار کردینگے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ایک سینئر لیڈر ان حال ہی میں ان سے کہا ہے کہ صرف کانگریس پارٹی ہے جو ملک کے اتحاد اور اس کی کثرت میں وحدت کا تحفظ کرسکتی ہے ۔ یہ لیڈر سیاست میں اپنے 50 سال گذار چکے ہیں اور کانگریس مخالف رہے ہیں۔ لیکن اب انہیں احساس ہوا ہے کہ نظریات کی لڑائی میں کانگریس ہی بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کو شکست دے سکتی ہے۔ جب سامعین میں سے لوگوں نے سوال کیا کہ آیا یہ لیڈر ایل کے اڈوانی تھے ؟ راہول نے کہا کہ نہیں یہ اڈوانی نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو گذشتہ چار سال کے دوران بی جے پی کی پالیسیوں کی وجہ سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ مودی پر تنقید کرتے ہوئے راہول نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ایل کے اڈوانی سے مقابلہ کیا اور انہیں 2004 اور 2009 میں شکست دی اور اٹل بہاری واجپائی کو بھی پہلے شکست دی تھی لیکن کانگریس کا کلچر یہی ہے کہ دوسروں کا احترام کیا جائے ۔ وزیر اعظم ہندو مذہب کی بات کرتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے ہی استاد ( گرو ) کا احترام کرنے سے متعلق ہندو مذہب کی اہم تعلیم کو فراموش کردیا ہے ۔ وزیر اعظم عوامی تقاریب میں بھی اپنے گرو کا احترام نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ جب اٹل بہاری واجپائی علیل ہیں اور دواخانہ میں ہیں ‘ سب سے پہلے انہوں ( راہول ) نے ان کی عیادت کی ہے کیونکہ کانگریس مانتی ہے کہ انہوں نے ملک کیلئے خدمات انجام دی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT