Friday , October 19 2018
Home / شہر کی خبریں / مودی حکومت ملک کو ہندتوا کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے

مودی حکومت ملک کو ہندتوا کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے

طلاق ثلاثہ پر مسودہ قانون کو کابینہ کی منظوری شرعی امور میںمداخلت :محمد علی شبیر

حیدرآباد۔ 15 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے مرکزی کابینہ میں شریعت میں مداخلت سے متعلق بل کی منظوری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہاکہ نریندر مودی حکومت ملک کو ہندوتوا ایجنڈے پر گامزن کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے بہانے آج مرکزی کابینہ میں بل کے مسودے کو منظوری دے دی ہے اور پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں کسی بھی وقت پیش کیا جاسکتا ہے۔ محمد علی شبیر نے شریعت میں مداخلت کی کوششوں کو ناقابل برداشت قرار دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ میں مرکزی حکومت شرعی امور میں مداخلت کرنا چاہتی ہے تاکہ ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہند میں ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب کو اختیار کرنے کا حق دیا ہے۔ ایسے میں اس طرح کی قانون سازی دستوری حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ میں واضح طور پر کہا تھا کہ ایک ہی وقت میں تین طلاق اسلام میں ناپسندیدہ ہے اور اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے مسلمانوں میں شعور بیدار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے نریندر مودی حکومت کو قانون سازی میں عجلت ہے۔ دراصل سنگ پریوار اور آر ایس ایس کی سرپرستی میں چلنے والی مودی حکومت گجرات اور ہماچل پردیش کے ایگزٹ پول نتائج سے بے قابو دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے انتخابی منشور میں رام مندر اور یکساں سیول کوڈ جیسے متنازعہ مسائل شامل ہیں اور اسی طرح کے مسائل کو انتخابات میں اٹھاکر بی جے پی کامیابی حاصل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کے خلاف کسی بھی قانون سازی کی کانگریس پارٹی ہرگز تائید نہیں کرسکتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ شاہ بانو کیس میں جب سپریم کورٹ نے مخالف شریعت فیصلہ لیا تو اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے دستوری ترمیم کی تھی اور شریعت کا تحفظ کیا تھا۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ کانگریس پارٹی سکیولرازم اور تمام مذاہب کے احترام پر یقین رکھتی ہے اور اس نے کبھی بھی کسی کے مذہبی امور میں مداخلت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قانون سازی کے ذریعہ ملک میں مذہبی خطوط پر عوام کو تقسیم کرنا چاہتی ہے اور یہ رجحان ملک کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ محمد علی شبیر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مخالف شریعت قانون سازی سے گریز کرے اور مسلم پرسنل لا بورڈ سے مشاورت کے بعد سپریم کورٹ میں اپنے موقف کا اظہار کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے تمام مسالک کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تین طلاق کا بیک وقت دینا شریعت میں انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ مسلم خواتین سے ہمدردی کے نام پر مودی حکومت مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سلسلہ میں بعض ترقی پسند اور نام نہاد مسلمانوں کو حکومت کی تائید میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT